مفسرین قرآن و متکلمین

امام ابو حیان اندلسی غرناطی

« أثير الدين أبو حيان محمد بن يوسف بن علي بن يوسف بن حيان الغرناطي الأندلسي الجياني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام ابو حیان اندلسی غرناطی رحمہ اللہ کی ولادت 654ھ (مطابق 1256ء) میں اندلس (موجودہ اسپین) کے تاریخی شہر غرناطہ میں ہوئی۔ آپ کا پورا نام محمد بن یوسف بن علی بن حیان ہے اور آپ کا تعلق بربر کے مشہور قبیلے ‘نفزہ’ سے تھا۔ اندلس اس دور میں علم و ادب کا گہوارہ تھا، جہاں آپ نے انتہائی علمی ماحول میں پرورش پائی۔ بچپن ہی سے آپ میں غیر معمولی ذہانت اور کتب بینی کا شوق کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ آپ نے غرناطہ، مالقہ اور جیان کے نامور شیوخ سے قرأت، حدیث، فقہ اور خاص طور پر عربی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی۔

علمی اسفار اور قاہرہ میں آمد

اندلس میں علمی پیاس بجھانے کے بعد، امام ابو حیان نے بلادِ اسلامیہ کے سفر کا ارادہ کیا۔ آپ نے مغرب (مراکش)، افریقہ (تیونس)، اسکندریہ اور پھر قاہرہ (مصر) کا سفر کیا۔ مصر پہنچنے کے بعد آپ کی علمی شہرت چار دانگ عالم میں پھیل گئی۔ قاہرہ کے سلاطین اور عوام نے آپ کا والہانہ استقبال کیا۔ آپ کو مصر کے مشہور ترین مدرسہ ‘المنصوریہ’ اور ‘جامع ابن طولون’ میں تدریسِ تفسیر، قرأت اور نحو کے لیے مقرر کیا گیا۔ آپ کے حلقہ درس میں وقت کے جلیل القدر علماء اور ادباء گھٹنوں کے بل بیٹھ کر علم سیکھتے تھے۔

نمایاں علمی کارنامے اور تفسیر ‘البحر المحيط’

امام ابو حیان اندلسی کا سب سے عظیم اور لافانی کارنامہ ان کی بے مثل تفسیر ‘البحر المحيط’ (البحر المحيط في التفسير) ہے۔ یہ تفسیر عربی زبان و ادب، نحو (Grammar)، اور بلاغت کے لحاظ سے دنیا کی سب سے مستند اور ضخیم تفاسیر میں شمار ہوتی ہے۔ امام ابو حیان نے اس میں قرآن مجید کے ایک ایک لفظ کی لغوی اور نحوی تشریح فرمائی ہے اور ائمہ لغت کے اقوال کو نہایت خوبصورتی سے جمع کیا ہے۔ نحو کے میدان میں آپ کو اپنے دور کا ‘سیبویہ’ مانا جاتا تھا اور آپ بلا مبالغہ اپنے عہد کے سب سے بڑے نحوی تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے کثیر اللغات ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ترکی، حبشی اور فارسی زبانوں کے قواعد پر بھی کتب تحریر فرمائیں۔

اوصافِ حمیدہ، وصال اور تاریخی میراث

امام ابو حیان زہد و تقویٰ، بلند اخلاق اور خشیتِ الٰہی کا پیکر تھے۔ آپ انتہائی قناعت پسند اور خود دار انسان تھے، امراء کے درباروں سے دور رہتے اور تمام وقت درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں بسر کرتے تھے۔ زندگی کے آخری حصے میں آپ کی بینائی چلی گئی تھی، لیکن آپ کا علمی شغف آخری سانس تک برقرار رہا۔ بالآخر 91 برس کی عمر میں، ربیع الثانی 745ھ (مطابق 1344ء) کو قاہرہ میں علم کا یہ درخشندہ ستارہ غروب ہو گیا۔ آپ کو قاہرہ کے مشہور قبرستان ‘باب النصر’ میں صوفیاء کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • امام ابن حجر عسقلانی (الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة)
  • جلال الدین السیوطی (بغية الوعاة في طبقات اللغويين والنحاة)
  • صلاح الدین الصفدی (الوافي بالوفيات)
  • ابن عماد الحنبلی (شذرات الذهب في أخبار من ذهب)

مبارک اقوال و ارشادات

عربی لغت اور علمِ نحو قرآن کو سمجھنے کی کلید ہے، جو اس سے محروم رہا وہ معرفتِ الٰہی کے اسرار سے دور رہا۔

کتاب انسان کی بہترین مونس اور تنہائی کی سب سے وفادار ساتھی ہے۔

میں نے اپنی عمر کا کوئی بھی حصہ علمی مذاکرے یا تالیف کے بغیر ضائع نہیں کیا۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام ابو حیان اندلسی غرناطی

لقب و کنیت: أبو حيان (ابو حیان)، أثير الدين (اثیر الدین)، أمير المؤمنين في النحو (نحو کے امیر المؤمنین)، لغویِ عصر، مفسرِ اندلس
قبیلہ: بربر (اندلس کے مشہور قبیلے 'نفزہ' سے تعلق تھا)
سن پیدائش و وفات: شوال 654 ھ – ربیع الثانی 745 ھ / نومبر 1256ء – جولائی 1344ء
مقام تدفین: مقبرہ صوفیہ، باب النصر، قاہرہ، مصر
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com