محدثین کرام و ائمہ صحاح ستہ

امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی

« أبو بكر أحمد بن الحسين بن علي بن موسى الخُسْرَوْجِردي البَيْهَقِي الشافعي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی رحمہ اللہ کی ولادت شعبان المعظم 384ھ (بمطابق 994ء) میں خراسان کے مشہور علمی خطے ‘بیہق’ کے ایک قصبے ‘خسروجرد’ میں ہوئی۔ ان کا خاندان علم دوست اور دین دار تھا، جس نے ان کی تربیت خالص اسلامی خطوط پر کی۔ امام بیہقی نے بچپن ہی سے حصولِ علم کی طرف غیر معمولی توجہ دی اور محض پندرہ سال کی عمر میں انہوں نے اپنے علاقے کے شیوخ سے سماعِ حدیث شروع کر دیا تھا۔ ان کی ذہانت، قوتِ حافظہ اور علم سے والہانہ لگاؤ نے انہیں بچپن ہی میں ممتاز کر دیا تھا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

امام بیہقی چونکہ ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے، اس لیے ان کی تمام تر خدمات کا مرکز علمِ دین کی نشر و اشاعت رہا۔ انہوں نے خراسان کے علمی ماحول سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ نیشاپور، مرو، ہرات، طوس اور پھر حجازِ مقدس (مکہ و مدینہ) اور عراق کے سفر اختیار کیے۔ انہوں نے اپنے عہد کے جلیل القدر محدثین سے احادیث کا سماع کیا۔ ان کی سب سے بڑی سرپرستی امام ابو عبد اللہ الحاکم النیشاپوری نے کی، جن سے انہوں نے کثرت سے احادیث کی روایت کی اور علمِ جرح و تعدیل اور عللِ حدیث میں مہارت تامہ حاصل کی۔ انہوں نے سنتِ نبوی کی ترویج اور فقہ شافعی کی تائید میں اپنی قلمی صلاحیتوں کو وقف کر دیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

امام بیہقی کا شمار تاریخِ اسلام کے ان عظیم ترین محدثین میں ہوتا ہے جنہوں نے تدوینِ حدیث اور دفاعِ سنت میں لازوال کردار ادا کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ‘السنن الکبریٰ’ کی تالیف ہے، جو فقہی ابواب پر مشتمل احادیث کا ایک عظیم اور بے مثال انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس کتاب کے بارے میں علماء کا اتفاق ہے کہ اس پایہ کی کوئی دوسری کتاب ترتیب نہیں دی گئی۔ اس کے علاوہ ان کی کتب ‘دلائل النبوة’، ‘الاسماء والصفات’، ‘شعب الایمان’، اور ‘معرفة السنن والآثار’ علمی دنیا میں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ امام الحرمین ابو المعالی الجوینی ان کے بارے میں فرماتے تھے: ‘کوئی بھی شافعی ایسا نہیں ہے جس پر امام شافعی کا احسان نہ ہو، سوائے بیہقی کے کہ ان کا احسان خود امام شافعی اور ان کے مسلک پر ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی تصانیف سے ان کے مسلک کی تائید و نصرت کی’۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام بیہقی نے اپنی زندگی کے آخری ایام نیشاپور میں درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزارے۔ آخر کار، علم و فضل کا یہ درخشندہ ستارہ 10 جمادی الاولیٰ 458ھ (بمطابق 1066ء) کو نیشاپور میں غروب ہو گیا۔ ان کی وصیت کے مطابق ان کے جسدِ خاکی کو ایک تابوت میں بیہق لایا گیا اور ان کے آبائی وطن خسروجرد میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی وفات سے دنیائے اسلام ایک عظیم محدث، فقیہ اور مجتہد سے محروم ہو گئی۔ ان کی تصانیف آج بھی پوری دنیا کے مدارس اور جامعات میں مرجع و مصدر کی حیثیت سے پڑھائی جاتی ہیں اور ان کی علمی میراث قیامت تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 18)
  • تاج الدین السبکی (طبقات الشافعية الكبرى، جلد 4)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 12)
  • ابن عساکر (تاريخ دمشق، جلد 5)
  • جلال الدین السیوطی (طبقات الحفاظ)

مبارک اقوال و ارشادات

علم حدیث حاصل کرنا دین کی اساس ہے، اور سنتِ نبوی پر عمل کیے بغیر شریعت کا فہم ناممکن ہے۔

جو شخص سنتِ نبوی کے فہم سے عاری ہو گیا، وہ گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک گیا۔

علم کا مقصد محض معلومات جمع کرنا نہیں، بلکہ عمل اور اللہ کا خوف پیدا کرنا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی

لقب و کنیت: کنیت: ابو بکر | القابات: شیخ الاسلام، ناصر الحدیث، امام البیہقی، الحافظ الکبیر، صاحب السنن الکبریٰ
قبیلہ: نسبت: خسروجرد (بیہق کا ایک قصبہ، نیشاپور کے قریب، خراسان)
سن پیدائش و وفات: 384ھ – 458ھ / 994ء – 1066ء
مقام تدفین: خسروجرد، بیہق (موجودہ سبزوار، ایران)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com