مسلم سائنسدان و فلاسفہ

احمد بن فضلان (سفیر بغداد و سیاح روس و ولگا)

« أحمد بن فضلان بن العباس بن راشد بن حماد »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

احمد بن فضلان دسویں صدی عیسوی کے ایک انتہائی ممتاز عرب سیاح، جغرافیہ دان، کاتب اور خلافتِ عباسیہ کے نامور سفیر تھے۔ ان کا پورا نام احمد بن فضلان بن العباس بن راشد بن حماد تھا۔ وہ عباسی خلافت کے سنہری دور میں دارالخلافہ بغداد میں پیدا ہوئے، جو اس وقت علم، ادب، اور سیاست کا عالمی مرکز تھا۔ وہ نسلی طور پر عرب تھے اور عباسی دربار کے اعلیٰ حکام اور امراء کے قریبی ساتھیوں اور کاتبوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی ابتدائی زندگی اور تعلیم و تربیت کے بارے میں تاریخی دستاویزات خاموش ہیں، لیکن ان کی تحریروں کی فصاحت، گہری سیاسی بصیرت، اور مختلف زبانوں و ثقافتوں کے فہم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے بغداد کے اعلیٰ ترین علمی اداروں سے فقہ، سیاسیات، جغرافیا اور سفارتی آداب کی تعلیم حاصل کی تھی۔

سفارت کا سبب اور وولگا کا تاریخی سفر

احمد بن فضلان کی شہرت کا سب سے بڑا سبب ان کا وہ تاریخی سفر ہے جو انہوں نے خلیفہ المقتدر باللہ کے حکم پر 21 جون 921ء (11 صفر 309ھ) کو بغداد سے شروع کیا۔ وولگا بلغاریہ (موجودہ روس کا ایک خطہ) کے بادشاہ ‘المش بن شالکی یلتاوار’ نے اسلام قبول کرنے کے بعد عباسی خلیفہ کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے درخواست کی کہ ان کی سلطنت میں ایسے علماء بھیجے جائیں جو انہیں اسلامی شریعت اور احکامِ الہیٰ سکھائیں، مساجد تعمیر کریں، اور خزر یہودیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ایک قلعہ بنانے میں ان کی مالی اور عسکری مدد کریں۔ خلیفہ المقتدر باللہ نے اس اہم ترین مشن کے لیے احمد بن فضلان کو منتخب کیا اور انہیں وفد کا دینی و سیاسی سربراہ بنا کر روانہ کیا۔ یہ سفر انتہائی پرخطر تھا جو ہمدان، رے، نیشاپور، بخارا، خوارزم، اور صحرائے قفچاق سے ہوتا ہوا مئی 922ء میں وولگا بلغار کے دارالحکومت پہنچا۔

وائکنگز (روسیا) اور ترک قبائل کا احوال اور کارنامے

احمد بن فضلان کا سفرنامہ، جسے ‘رسالہ ابن فضلان’ کہا جاتا ہے، وسطی ایشیا اور شمالی یورپ کے ان خطوں کی تاریخ کا سب سے پہلا اور مستند ترین آنکھوں دیکھا حال پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اوغوز ترک، خزری ترک، وولگا بلغار، صقالبہ (سلاو)، اور ‘روسیا’ (سویڈش وائکنگز) کے معاشرتی، سیاسی، اور مذہبی حالات کا انتہائی گہرائی سے مشاہدہ کیا۔ وائکنگز کے طرزِ زندگی، ان کی ظاہری شکل و شباہت، تجارتی عادات، جنگی مہارتوں، اور ان کی وحشیانہ آخری رسومات (جس میں مردے کے ساتھ لونڈی کو زندہ جلانے کا منظر شامل تھا) کا جو تفصیلی نقشہ انہوں نے کھینچا ہے، وہ آج بھی پوری دنیا کی تاریخ اور انتھروپولوجی کے ماہرین کے لیے سب سے بڑا بنیادی ماخذ ہے۔ ان کی کوششوں سے وولگا بلغاریہ میں باقاعدہ طور پر اسلام نافذ ہوا اور جمعہ کے خطبے میں عباسی خلیفہ کا نام پڑھا جانے لگا۔

وصال اور تاریخی میراث

احمد بن فضلان کے آخری ایام اور وفات کی قطعی تاریخ کے بارے میں مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم مؤرخین کا خیال ہے کہ وہ اپنے اس عظیم سفارتی مشن کو کامیابی سے مکمل کر کے بغداد واپس لوٹ آئے تھے اور تقریباً 349ھ (960ء) کے آس پاس وفات پائی۔ ان کی تحریر کردہ کتاب ‘الرسالہ’ صدیوں تک نایاب رہی، لیکن تیرہویں صدی عیسوی کے مشہور جغرافیہ دان یاقوت الحموی نے اپنی مایۂ ناز کتاب ‘معجم البلدان’ میں ابن فضلان کے سفرنامے کا ایک بڑا حصہ نقل کر کے اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ 1923ء میں ایران کے شہر مشہد کے آستان قدس رضوی کتب خانے سے اس رسالے کا ایک قدیم ترین قلمی نسخہ دریافت ہوا، جس نے پوری دنیا کے علمی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ احمد بن فضلان کا یہ سفرنامہ آج بھی مشرق و مغرب کے مابین ابتدائی سفارت کاری اور جغرافیائی معلومات کا ایک بے مثل شاہکار مانا جاتا ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • یاقوت الحموی (معجم البلدان، تذکرہ وولگا اور بلغار)
  • احمد بن فضلان (رسالة ابن فضلان، تحقیق ڈاکٹر سامی الدہان)
  • ابن رستہ (الاعلاق النفيسة)
  • ڈاکٹر مائیکل کرائٹن (دی ایٹرز آف دی ڈیڈ – ابن فضلان کے سفرنامے پر مبنی مغربی تحقیق)
  • المسعودی (مروج الذہب ومعادن الجوہر)

مبارک اقوال و ارشادات

میں نے وولگا (اتل) کے کنارے روسیا (وائکنگز) کے لوگوں کو دیکھا جب وہ اپنے تجارتی سفر پر آئے ہوئے تھے۔ میں نے جسمانی ساخت اور حسن و جمال میں ان سے زیادہ کامل لوگ نہیں دیکھے، وہ کھجور کے درختوں کی طرح طویل القامت ہیں۔

اہلِ ترک (اوغوز) دنیا کے غیور ترین اور محنتی ترین لوگوں میں سے ہیں، لیکن وہ مذہب سے ناواقف تھے، تاہم ان کے سرداروں نے ہم سے دینِ اسلام سیکھنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

احمد بن فضلان (سفیر بغداد و سیاح روس و ولگا)

لقب و کنیت: سفیرِ بغداد، سیاحِ روس و وولگا، کاتبِ خلافت، سفیرِ خلافتِ عباسیہ، مقتدری سفیر
قبیلہ: مولیٰ آلِ عباس (خلافتِ عباسیہ کے آزاد کردہ حلیف اور معزز درباری کاتب)
سن پیدائش و وفات: ولادت: تقریباً 260ھ / 874ء (بغداد) | وفات: تقریباً 349ھ / 960ء (تخمینہ، غالباً بغداد)
مقام تدفین: نامعلوم (تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے آخری عمر بغداد میں گزاری اور وہیں مدفون ہوئے)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com