Sahaba (صحابی)

ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام اوس بن مِعیَر بن لوذان الجمحي القرشي تھا۔ آپ قریش کے بنو جمح قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی کنیت ‘ابو محذورہ’ تھی اور اسی نام سے آپ تاریخ اسلام میں مشہور ہیں۔ آپ مکہ مکرمہ کے مؤذن رسول ﷺ تھے۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ میں مکہ مکرمہ میں اذان دی۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی اسلام سے قبل گزری۔ فتح مکہ کے موقع پر جب نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کا تعلق ان نوجوانوں میں سے تھا جو ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔ جب بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی تو حضرت ابو محذورہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ چھپ کر اس اذان کا مذاق اڑا رہے تھے اور ان کی آواز کی نقل کر رہے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے ان کی آواز سنی اور انہیں بلانے کا حکم دیا۔ جب آپ ﷺ کے سامنے پیش ہوئے تو آپ نے فرمایا: "آؤ، اذان دو۔” حضرت ابو محذورہ نے ابتدا میں ہچکچاہٹ محسوس کی، لیکن جب نبی اکرم ﷺ نے محبت اور شفقت سے ان کے سینے اور پیشانی پر اپنا دست مبارک پھیرا اور ان کے حق میں دعا فرمائی تو ان کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد آپ کا دل اسلام کے لیے کھل گیا، اور آپ نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ آپ ﷺ نے انہیں اذان کے الفاظ اور طریقہ سکھایا، خاص طور پر اذان میں ‘ترجیع’ (کلمہ شہادت کو دو بار آہستہ اور دو بار بلند آواز سے کہنا) کی تعلیم دی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

اسلام قبول کرنے کے بعد، رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مکہ مکرمہ کا مؤذن مقرر فرمایا۔ یہ ایک ایسا عظیم اعزاز تھا جو آپ کو پوری زندگی نصیب رہا۔ آپ نے نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد بھی حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے ادوار خلافت میں بھی مسلسل مکہ مکرمہ میں اذان دینے کی سعادت حاصل کی۔ آپ کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اس ذمہ داری کو کتنی خوبصورتی اور پختگی سے نبھایا۔

آپ اس اذان کے طریقے کے معلم تھے جو نبی اکرم ﷺ نے خود آپ کو سکھایا تھا۔ آپ کی اذان میں ترجیع کی موجودگی احادیث کی کتب میں مفصل طور پر مذکور ہے، اور یہ طریقہ آج بھی بعض اسلامی مکاتب فکر میں رائج ہے۔ آپ نے اپنی اولاد کو بھی اذان سکھائی اور یہ سلسلہ آپ کے بعد کئی نسلوں تک جاری رہا، اور ایک عرصے تک آپ کے خاندان کے افراد ہی مکہ مکرمہ کے مؤذن رہے۔

میراث اور وصال

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک طویل عمر پائی اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مکہ مکرمہ میں اذان دینے کی عظیم خدمت میں صرف کیا۔ آپ کا وصال سن 59 ہجری میں مکہ مکرمہ میں ہی ہوا۔ آپ نے اپنے پیچھے ایک ایسی وراثت چھوڑی جو آج بھی برقرار ہے، یعنی اذانِ مکہ کی روایت اور اس کی برکتیں۔ آپ کی میراث صرف آپ کی اذان تک محدود نہیں، بلکہ آپ کی سیرت، آپ کا ایمان اور آپ کی سنت نبوی سے محبت نے آنے والی نسلوں کے لیے مثال قائم کی۔ آپ کا نام اسلامی تاریخ میں ایک عظیم مؤذن اور رسول اللہ ﷺ کے سچے عاشق کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مستند حوالہ جات

  • صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الاذان۔
  • سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب کیفیت الاذان۔
  • سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج 3، ص 410۔
  • الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر، ج 4، ص 1642۔
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الاثیر، ج 6، ص 316۔
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر العسقلانی، ج 7، ص 267۔
  • البدایہ والنہایہ لابن کثیر، ج 4، ص 291۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ابو محذورہ رضی اللہ تعالی عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com