مسلم سائنسدان و فلاسفہ

ابو عبد اللہ محمد بن موسیٰ الخوارزمی

« أبو عبد الله محمد بن موسى الخوارزمي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

ابو عبد اللہ محمد بن موسیٰ الخوارزمی اسلامی تاریخ کے مایہ ناز ترین سائنسدان، ماہرِ ریاضی اور فلکیات دان ہیں۔ وہ تقریباً 164 ہجری (بمطابق 780 عیسوی) میں خوارزم (موجودہ ازبکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بعد میں علم و حکمت کے عالمی مرکز بغداد منتقل ہو گیا۔ الخوارزمی نے ایک ایسے دور میں پرورش پائی جب عباسی خلافت اپنے عروج پر تھی اور علم و فن کی سرپرستی حکومتی سطح پر کی جا رہی تھی۔ انہوں نے بچپن ہی سے روایتی اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ ریاضی، ہیئت اور جغرافیہ میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور جلد ہی اپنے وقت کے ممتاز ترین فضلاء میں شمار ہونے لگے۔

بیت الحکمت اور عباسی خلفاء کی سرپرستی

الخوارزمی کی علمی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر عباسی خلیفہ المامون الرشید نے انہیں بغداد کے مشہورِ زمانہ علمی ادارے ‘بیت الحکمت’ (House of Wisdom) کا ناظم مقرر کیا۔ یہاں الخوارزمی نے یونانی، سنسکرت اور پہلوی زبانوں کے علمی خزانوں کا عربی میں ترجمہ کرنے اور ان کی تصحیح و تدوین کے کام کی نگرانی کی۔ مامون الرشید کی فرمائش پر انہوں نے فلکیاتی نقشے تیار کیے اور زمین کے محیط کی پیمائش کے لیے سائنسی مہمات کی سربراہی کی۔ بیت الحکمت میں ان کے قیام نے دنیا کی سائنسی تاریخ کا دھارا بدل دیا اور انہوں نے تحقیق و تصنیف کے نئے اصول وضع کیے۔

نمایاں کارنامے، سائنسی و فقہی خدمات

الخوارزمی کا سب سے بڑا کارنامہ ‘علم الجبر’ (Algebra) کی ایجاد ہے۔ انہوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "الكتاب المختصر في حساب الجبر والمقابلة” تحریر کی، جس سے ریاضی کی ایک نئی شاخ وجود میں آئی۔ لفظ ‘الجبرا’ اسی کتاب کے عنوان سے ماخوذ ہے۔ الخوارزمی نے ہندوستانی عدد ‘صفر’ (Zero) کو عربی نظامِ حساب میں شامل کر کے اعشاری نظام (Decimal System) کو متعارف کرایا، جسے مغرب میں ‘الگورتھم’ (Algorithm) کہا گیا (جو خود ‘الخوارزمی’ کے نام کی بگڑی ہوئی شکل ہے)۔ ان کی ریاضیاتی خدمات محض نظریاتی نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے اپنی کتاب کا ایک بڑا حصہ اسلامی قانونِ وراثت (علم الفرائض)، وصایا، تقسیمِ اراضی، زکوٰۃ کے حساب اور تجارتی شراکت داری کے شرعی مسائل کو حل کرنے کے لیے وقف کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ‘کتاب صورت الارض’ لکھ کر مسلم جغرافیہ نگاری کی بنیاد رکھی اور قبلہ کی سمت معلوم کرنے کے لیے ریاضیاتی فارمولے وضع کیے۔

وصال اور عظیم تاریخی میراث

الخوارزمی نے تقریباً 70 سال کی عمر میں 235 ہجری (بمطابق 850 عیسوی) کے قریب بغداد میں وفات پائی۔ ان کی وفات کے بعد صدیوں تک ان کی کتب لاطینی اور دیگر یورپی زبانوں میں ترجمہ ہو کر یورپ کی یونیورسٹیوں میں نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہیں۔ سائنسی مورخین، جیسے جارج سارٹن، نے انہیں ‘قرونِ وسطیٰ کا سب سے بڑا ریاضی دان’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو تاریکی سے نکال کر جدید سائنسی اور ڈیجیٹل دور (جو الگورتھم پر مبنی ہے) کی بنیاد فراہم کی۔

مستند تاریخی و علمی حوالہ جات

  • ابن الندیم، الفہرست (الخوارزمی کے احوال اور کتب کی اولین تفصیل)
  • ابن خلکان، وفیات الاعیان وانباء ابناء الزمان
  • القفطی، إخبار العلماء بأخبار الحکماء
  • ابن ابی اصیبعہ، عیون الانباء فی طبقات الاطباء
  • جارج سارٹن، Introduction to the History of Science (تاریخِ سائنس کا مقدمہ)

مبارک اقوال و ارشادات

بے شک اللہ نے محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف لائیں اور دنیا کو عدل و علم سے بھر دیں۔

میں نے حساب کی ایک ایسی کتاب (الجبر والمقابلہ) مرتب کی ہے جس کی لوگوں کو وصیتوں، وراثت، تجارتی لین دین اور زمین کی پیمائش جیسے شرعی احکام و معاملات میں ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ابو عبد اللہ محمد بن موسیٰ الخوارزمی

لقب و کنیت: ابو عبد اللہ، الخوارزمی، امام الحساب، موجد الجبر، صاحب التصانیف الفریدہ
قبیلہ: خوارزم (وسط ایشیا کا نامور علمی خطہ، جو موجودہ ازبکستان میں واقع ہے)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 164 ھ – 235 ھ / 780ء – 850ء (عہدِ عباسی)
مقام تدفین: بغداد، دار الخلافہ عباسی الرافدین (موجودہ عراق)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com