خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
ابو ریحان محمد بن احمد البيرونی 3 ذوالحجہ 362 ہجری (بمطابق 973 عیسوی) کو خوارزم (موجودہ ازبکستان) کے بیرونی علاقے (مضافات) میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے آپ کو ‘البیرونی’ کہا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق ایک علمی اور معزز گھرانے سے تھا۔ انہوں نے بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کیا اور خوارزم کے شاہی خاندان (آلِ عراق) کے مشہور ریاضی دان اور ماہر فلکیات ابو نصر منصور بن عراق کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کی۔ اوائل عمری ہی میں انہوں نے عربی، فارسی، سنسکرت، عبرانی اور سریانی زبانوں پر مہارت حاصل کر لی، جس نے ان کے لیے بین الاقوامی علوم کے دروازے کھول دیے۔
علمی اسفار، دربارِ غزنوی اور کتاب الہند
سیاسی انقلابات کے بعد، جب سلطان محمود غزنوی نے خوارزم فتح کیا، تو البیرونی غزنی آ گئے اور سلطان محمود کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے سلطان کے ساتھ ہندوستان کے کئی اسفار کیے۔ ان اسفار کے دوران انہوں نے سنسکرت زبان سیکھی، ہندو مذہب، فلسفہ، معاشرت اور علوم کا گہرا مطالعہ کیا اور اپنی معرکہ آرا کتاب ‘کتاب الہند’ (تحقیق ما للہند من مقولۃ مقبولۃ فی العقل أو مرذولۃ) تصنیف کی۔ یہ کتاب تقابلِ ادیان، تاریخ اور سماجیات کی دنیا میں پہلی باضابطہ اور غیر متعصبانہ علمی دستاویز مانی جاتی ہے، جس کی بدولت انہیں ‘پہلا ماہرِ بشریات’ (First Anthropologist) اور ‘محققِ ہند’ کہا جاتا ہے۔
نمایاں علمی کارنامے، سائنسی خدمات اور تصانیف
البیرونی ایک کثیر الجہت (Polymath) شخصیت تھے۔ انہوں نے ریاضی، فلکیات، جغرافیہ، طبیعیات، تاریخ اور علم الادویات میں لازوال کارنامے انجام دیے۔ ان کی سب سے بڑی سائنسی فتوحات میں سے ایک زمین کے قطر (Radius) کی پیمائش تھی، جو انہوں نے قلعہ نندنہ (موجودہ جہلم، پاکستان) کے مقام پر صرف دیسی دائرہ کار اور جیومیٹری کی مدد سے معلوم کی، جو جدید دور کی پیمائش کے حیرت انگیز طور پر قریب ترین ہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں شامل ہیں:
1. آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ: قدیم قوموں کے تقویم (Calendars) اور تاریخ پر مستند کتاب۔
2. القانون المسعودی: فلکیات اور ریاضی کا انسائیکلوپیڈیا۔
3. کتاب الجواہر فی معرفۃ الجواہر: قیمتی پتھروں کی کثافتِ اضافی معلوم کرنے کا طریقہ۔
4. کتاب الصیدنہ فی الطب: جڑی بوٹیوں اور علم الادویات کی جامع لغت۔
وصال اور تاریخی میراث
علامہ ابو ریحان البیرونی نے اپنی زندگی کے آخری ایام غزنی (افغانستان) میں علمی تصنیف و تالیف میں گزارے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ بسترِ مرگ پر بھی وہ اپنے شاگردوں سے ریاضی اور وراثت کے مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔ آپ نے رجب 440 ہجری (بمطابق دسمبر 1048 عیسوی) میں وفات پائی اور غزنی ہی میں مدفون ہوئے۔ ان کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے چاند کے ایک گڑھے (Crater) کا نام ‘البیرونی’ رکھا گیا ہے اور دنیا بھر کے سائنسدان انہیں انسانی تاریخ کے عظیم ترین دماغوں میں شمار کرتے ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- یاقوت الحموی (معجم الأدباء – ارشاد الاريب إلى معرفة الاديب)
- ابن أبي أصيبعة (عيون الأنباء في طبقات الأطباء)
- جلال الدین السیوطی (تاریخ الخلفاء وتذکرۃ الحفاظ)
- خیر الدین الزرکلی (الأعلام)
- جارج سارٹن (تاریخ سائنس کا مقدمہ – Introduction to the History of Science)
مبارک اقوال و ارشادات
تعصب انسان کی عقل کو اندھا کر دیتا ہے اور اسے سچائی کو قبول کرنے اور اس کا مشاہدہ کرنے سے روکتا ہے۔
میرا مقصد حق کا حصول اور علم کی ترویج ہے، چاہے اس کا سرچشمہ کوئی بھی قوم یا مذہب ہو۔
علم بذاتِ خود ایک لذت اور شرافت ہے، اس کی جستجو دنیاوی لالچ اور خوف سے بالاتر ہونی چاہیے۔
