Sahaba (صحابی)

ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام مالک بن التیہان تھا، جبکہ ان کی کنیت "ابو الہیثم” ہی زیادہ مشہور ہوئی۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنو عوف بن الخزرج سے تھا، جو کہ مدینہ منورہ کے انصار کے دو بڑے قبائل میں سے ایک، یعنی خزرج کی ایک شاخ تھی۔ آپ ان چند جلیل القدر انصار صحابہ کرام میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ آپ مدینہ منورہ میں اپنی شرافت، سخاوت اور حکمت کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے آپ کو انصار کے بارہ نقیبوں (سرداروں/نمائندوں) میں سے ایک منتخب فرمایا، جو آپ کے مقام و مرتبے کا واضح ثبوت ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنہ اپنی ابتدائی زندگی میں بھی مدینہ منورہ کے ایک معزز اور بااثر فرد تھے۔ آپ ان خوش نصیبوں میں سے تھے جنہیں اسلام کی دعوت سب سے پہلے پہنچی۔ آپ نے مکہ مکرمہ میں نبی اکرم ﷺ سے ملاقات کی اور آپ کے دستِ حق پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ آپ پہلی بیعتِ عقبہ (621 عیسوی) میں شامل ہونے والے بارہ انصاری صحابہ میں سے ایک تھے، جنہوں نے حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے، اولاد کو قتل نہیں کریں گے اور نیک کاموں میں سرکشی نہیں کریں گے۔

اس کے بعد، آپ دوسری بیعتِ عقبہ (622 عیسوی) میں بھی موجود تھے، جب مدینہ منورہ سے تہتر مرد اور دو خواتین نے آ کر نبی اکرم ﷺ سے ملاقات کی اور اسلام قبول کیا، اور آپ ﷺ اور مسلمانوں کی ہر حال میں مدد کرنے کا عہد کیا۔ اس موقع پر نبی اکرم ﷺ نے انصار میں سے بارہ نقیبوں کا انتخاب فرمایا، جن میں ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے۔ یہ انتخاب ان کی قیادت، ایمانداری اور دین کے لیے ان کے گہرے عزم کا عکاس تھا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں اخوت و بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ نے تمام غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے شانہ بشانہ حصہ لیا، جن میں غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق، اور دیگر اہم معرکے شامل ہیں۔ غزوہ بدر میں آپ کا کردار نمایاں تھا، اور اسی وجہ سے آپ "بدری صحابی” کہلائے۔

آپ کی سخاوت اور میزبانی کا ایک مشہور واقعہ احادیث اور سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے کہ ایک دن نبی اکرم ﷺ، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ بھوک کی شدت سے بے قرار ہو کر ابو الہیثم رضی اللہ تعالی عنہ کے باغ میں تشریف لے گئے، جبکہ وہ اپنے گھر پر موجود نہیں تھے۔ جب وہ واپس آئے تو اپنے مہمانوں کو دیکھ کر انتہائی خوش ہوئے، انہیں ٹھنڈا پانی پلایا، اور اپنے مہمانوں کے لیے تازہ کھجوروں کا انتظام کیا اور ایک بکری کا بچہ ذبح کر کے عمدہ کھانا پیش کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے آپ کے اس حسنِ سلوک پر دعا دی۔ یہ واقعہ نبی اکرم ﷺ سے آپ کے قریبی تعلق اور آپ کی سخاوت کی بہترین مثال ہے۔

نقیب ہونے کی حیثیت سے، آپ نے انصار کے درمیان اتحاد اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور اسلام کے ابتدائی دور میں مدینہ منورہ کی معاشرتی و دفاعی تنظیم میں ایک کلیدی ستون ثابت ہوئے۔

میراث اور وصال

ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت میں گزاری۔ آپ نبی اکرم ﷺ کے سچے عاشق، ایک بہادر سپاہی، اور ایک سخاوت مند انسان تھے۔ آپ کا وصال امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا، بعض روایات کے مطابق آپ نے جنگِ یرموک یا جنگِ قادسیہ میں شرکت کی تھی، جبکہ دیگر روایات کے مطابق آپ مدینہ منورہ میں ہی فوت ہوئے۔ آپ کی وفات کے صحیح سال کے بارے میں مختلف آراء ہیں، تاہم یہ یقینی ہے کہ آپ نے نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد بھی اسلام کی خدمت جاری رکھی۔

آپ کی میراث ایک ایسے عظیم صحابی کی ہے جنہوں نے دینِ حق کی خاطر بے مثال قربانیاں دیں اور نبی اکرم ﷺ کی رفاقت میں رہ کر اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار کی عملی تصویر پیش کی۔ آپ کی سیرت، آنے والی نسلوں کے لیے استقامت، سخاوت اور ایثار کا روشن مینار ہے۔

مستند حوالہ جات

  • سیرت ابن ہشام
  • طبقات ابن سعد
  • البدایہ و النہایہ لابن کثیر
  • تاریخ طبری
  • الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی
  • اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ لابن الاثیر

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ابو الہیثم بن تیہان رضی اللہ تعالی عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com