مسلم سائنسدان و فلاسفہ

ابو القاسم خلف بن عباس الزہراوی

« أبو القاسم خلف بن عباس الزهراوي الأنصاري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

ابو القاسم خلف بن عباس الزہراوی اسلامی اندلس (اسپین) کے سنہری دور کے عظیم ترین مسلم طبیب، دوا ساز اور تاریخِ انسانی کے مایہ ناز جراح (Surgeon) تھے۔ ان کی ولادت 325 ہجری (بمطابق 936 عیسوی) میں قرطبہ کے نواحی شاہی شہر ‘مدینۃ الزہراء’ میں ہوئی۔ ان کا خاندان انصارِ مدینہ سے تعلق رکھتا تھا، اسی لیے انہیں ‘الأنصاري’ بھی کہا جاتا ہے۔ الزہراوی نے قرطبہ کی عظیم جامعات میں تعلیم حاصل کی، جہاں انہوں نے طب، جراحت، کیمیا، اور ادویات سازی کے علوم میں کمال حاصل کیا۔ ان کی ذہانت اور مہارت کی وجہ سے اندلس کے اموی خلیفہ الحکم ثانی نے انہیں اپنا شاہی طبیب مقرر کیا۔

علمی سفر اور طب و جراحت میں خدمات

ابو القاسم الزہراوی نے علمِ طب خصوصاً جراحت (Surgery) کو ایک نیا جنم دیا۔ ان سے پہلے جراحت کو طب کا ایک ادنیٰ اور الگ شعبہ سمجھا جاتا تھا، لیکن الزہراوی نے اپنے عملی تجربات اور سائنسی تحقیقات سے اسے ایک معزز اور مستقل علم کی حیثیت دی۔ انہوں نے انسانی جسم کی تشریح (Anatomy) کو جراحت کے لیے لازمی قرار دیا۔ وہ پہلے جراح تھے جنہوں نے کینسر کی رسولیوں کو کامیابی سے نکالا، مثانے کی پتھری نکالنے کے لیے مخصوص اوزار تیار کیے، اور زچگی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے جدید طریقے وضع کیے۔ انہوں نے طب میں حفظانِ صحت اور مریض کی دیکھ بھال کے اخلاقی اصولوں کو بھی انتہائی اہمیت دی۔

نمایاں کارنامے، ایجادات اور کتاب التصریف

الزہراوی کا سب سے بڑا علمی شاہکار ان کی شہرہ آفاق تصنیف ‘التصريف لمن عجز عن التأليف’ ہے، جو 30 جلدوں پر مشتمل ایک جامع طبی انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس کتاب کا تیسواں حصہ خاص طور پر جراحت پر مبنی ہے، جس میں الزہراوی نے خود ایجاد کیے ہوئے 200 سے زائد جراحی کے آلات (Surgical Instruments) کی تصاویر، ان کی بناوٹ اور استعمال کے طریقے تفصیل سے قلمبند کیے۔ ان کی چند انقلابی ایجادات اور دریافتیں درج ذیل ہیں:
1. کیٹ گٹ (Catgut): بلی کی آنتوں سے ایسا ٹانکا تیار کرنا جو انسانی جسم کے اندر خود بخود تحلیل ہو جاتا ہے (آج بھی اندرونی ٹانکوں کے لیے یہی اصول استعمال ہوتا ہے)۔
2. زچگی کے لیے مخصوص چمٹے (Obstetric Forceps) کی ایجاد۔
3. خون بہنے کو روکنے کے لیے شریانوں کو باندھنے (Ligatures) کا طریقہ کار۔
4. کان، ناک اور گلے کے آپریشنز کے لیے مخصوص اوزاروں کی تخلیق۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

ابو القاسم الزہراوی نے تقریباً 79 سال کی عمر پا کر 404 ہجری (بمطابق 1013 عیسوی) میں قرطبہ میں وفات پائی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی کتاب ‘التصریف’ کا لاطینی زبان میں ترجمہ ‘Liber Alsaharavi’ کے نام سے کیا گیا۔ یہ کتاب اگلی پانچ صدیوں (بارہویں سے سترہویں صدی عیسوی) تک یورپ کی تمام بڑی طبی جامعات (جیسے سالرنو اور مونٹپیلیئر) میں جراحت کی واحد اور بنیادی درسی کتاب کے طور پر پڑھائی جاتی رہی۔ مغربی مؤرخین اعتراف کرتے ہیں کہ الزہراوی کی تحقیقات کے بغیر جدید سرجری کا وجود ممکن نہ تھا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن ابی اصیبعہ (عيون الأنباء في طبقات الأطباء)
  • حمیدی الاندلسی (جذوة المقتبس في ذكر ولاة الأندلس)
  • ابن حزم الاندلسی (رسالة في فضل الأندلس محاسنها)
  • جارج سارٹن (مقدمہ برائے تاریخِ سائنس – Introduction to the History of Science)
  • ڈونلڈ کیمبل (Arabian Medicine and its Influence on the Middle Ages)

مبارک اقوال و ارشادات

علمِ تشریح (Anatomy) کے بغیر جراحت (Surgery) کرنا اندھیرے میں تیر چلانے کے مترادف ہے، جس سے مریض کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اپنے مریضوں کے ساتھ انتہائی شفقت اور مروّت کا برتاؤ کرو، اور امیر و غریب کا فرق کیے بغیر سب کا یکساں اخلاص سے علاج کرو۔

طبیب کو چاہیے کہ وہ دوا تجویز کرنے سے پہلے مریض کی قوتِ مدافعت اور اس کے مزاج کا باریک بینی سے مطالعہ کرے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ابو القاسم خلف بن عباس الزہراوی

لقب و کنیت: ابو القاسم (کنیت)، الزہراوی (نسبت)، جدِ جراحت (Father of Surgery)، ابوالقاسمیس (Abulcasis - لاطینی نام)
قبیلہ: انصار (بنو خزرج - ان کے اجداد مدینہ منورہ کے انصار تھے جو فتحِ اندلس کے بعد وہاں منتقل ہوئے تھے)
سن پیدائش و وفات: 325 ھ – 404 ھ / 936ء – 1013ء (تقریباً)
مقام تدفین: مدینۃ الزہراء، قرطبہ، اندلس (موجودہ ہسپانیہ)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com