خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت ابو الفیض ثوبان بن ابراہیم، جو تاریخِ اسلام میں "ذوالنون مصری” کے نام سے مشہور ہیں، تصوف و سلوک کے اولین ستونوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کی ولادت تقریباً 180 ہجری میں بالائی مصر کے تاریخی شہر اخمیم میں ہوئی۔ آپ کا خاندان اصلاً نوبیا (مصر و سوڈان کا سرحدی علاقہ) سے تعلق رکھتا تھا اور ان کے والد بنو قریش کے آزاد کردہ غلام تھے، جس کی وجہ سے انہیں قرشی یا مولیٰ قریش بھی کہا جاتا ہے۔
ذوالنون مصری نے ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں علم و عرفان کے چشمے پھوٹ رہے تھے۔ بچپن ہی سے آپ کے باطن میں زہد و تقویٰ اور تلاشِ حق کی تڑپ موجود تھی، جس نے آپ کو دنیاوی آسائشوں سے دور کر کے علمِ دین کی پیاس بجھانے کے لیے دور دراز کے اسفار پر آمادہ کیا۔
علمی سفر اور علومِ شریعت کی تحصیل
ذوالنون مصری محض ایک صوفی اور زاہد ہی نہیں تھے، بلکہ وہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم اور محدث بھی تھے۔ آپ نے علمِ حدیث کی تحصیل کے لیے حجازِ مقدس کا سفر کیا اور مدینہ منورہ میں امام دار الہجرت، امام مالک بن انس کے حلقہ درس میں طویل وقت گزارا۔ آپ نے امام مالک سے "موطا” کی سماعت کی اور اس کی روایت کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے امام لیث بن سعد مصری، فضیل بن عیاض اور سفیان بن عیینہ جیسے عظیم محدثین اور فقہاء سے کسبِ فیض کیا۔
آپ کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے شریعت اور طریقت کا ایسا حسین امتزاج پیش کیا جس نے مابعد کے صوفیہ کے لیے ایک واضح اور مستند راہ متعین کی۔ وہ علمِ باطن کے ساتھ ساتھ فقہ اور ظاہر کی پابندی پر سختی سے زور دیتے تھے۔
زہد و تصوف اور عقیدہء معرفت کی تدوین
تاریخِ تصوف میں ذوالنون مصری کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے "معرفتِ الٰہی” کے نظریات کو علمی و فکری انداز میں مدون اور بیان کیا۔ ان سے پہلے تصوف زیادہ تر عملی زہد، خوفِ خدا اور کثرتِ عبادت تک محدود تھا، لیکن حضرت ذوالنون نے محبتِ الٰہی، توبہ کی حقیقت، احوال و مقامات اور معرفتِ ربانی کی اصطلاحات کو تفصیلاً واضح کیا۔
ان کا ماننا تھا کہ معرفت عقل و قیاس سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک نور ہے جو وہ اپنے چنیدہ بندوں کے دلوں میں ڈالتا ہے۔ آپ کی مجالس میں حقائق و معارف کا وہ سمندر ٹھاٹھیں مارتا تھا جس سے بڑے بڑے علماء حیران رہ جاتے تھے۔ صوفیائے بغداد، بالخصوص حضرت جنید بغدادی، آپ کی آراء اور علمی اقوال کو سند کا درجہ دیتے تھے۔
ابتلاء و آزمائش اور فتنہ خلقِ قرآن
عظیم مصلحین کی طرح ذوالنون مصری کو بھی حاسدین اور ظاہر پرست علماء کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر بعض لوگوں نے بدعت اور الحاد کا الزام لگایا اور عباسی خلیفہ المتوکل باللہ کے دربار میں شکایت کی گئی۔ آپ کو قید کر کے بغداد لے جایا گیا۔
جب آپ خلیفہ المتوکل کے سامنے پیش ہوئے تو انہوں نے معرفتِ الٰہی اور شریعت پر ایسا فصیح و بلیغ اور مدلل خطبہ دیا کہ خلیفہ زار و قطار رونے لگا۔ المتوکل نے آپ پر لگے تمام الزامات خارج کر دیے اور انتہائی احترام کے ساتھ آپ کو رہا کر کے مصر واپس بھیج دیا۔ خلیفہ بعد میں اکثر کہا کرتا تھا کہ "اگر ذوالنون صوفی ہیں، تو زمین پر کوئی سچا صوفی نہیں بچا”۔
وصالِ مبارک اور تاریخی میراث
حضرت ذوالنون مصری نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس، زہد و تقویٰ اور اشاعتِ دین میں گزاری۔ بالآخر 245 ہجری (بعض روایات کے مطابق 246 ہجری) میں آپ کا وصال قاہرہ، مصر میں ہوا۔
آپ کے جنازے کے وقت ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا کہ پرندوں کے ایک غول نے آپ کی چارپائی پر سایہ کیے رکھا یہاں تک کہ آپ کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد ان کی قبر پر لکھی ہوئی تحریریں ان کی پاکیزہ زندگی کی گواہ بنیں۔ آپ کا مزار مبارک آج بھی مصر کے مشہور قبرستان قرافہ صغریٰ میں مرجع خلائق ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابو نعیم اصفہانی (حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- ابن الجوزی (صفوة الصفوة)
- علی بن عثمان ہجویری (کشف المحجوب)
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
مبارک اقوال و ارشادات
عارف وہ نہیں جو خدا کی باتیں کثرت سے کرے، بلکہ عارف وہ ہے جس کی خاموشی خدا کی طرف رہنمائی کرے۔
سچی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ کو بھی بھول جائے اور صرف اپنے رب کی یاد میں غرق ہو جائے۔
عشق الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دنیا کی لذتوں سے منہ موڑ لے اور اپنے باطن کو غیر اللہ سے پاک کر لے۔
