مسلم سائنسدان و فلاسفہ

ابو الفداء اسماعیل بن علی عماد الدین (جغرافیہ دان و مورخ صاحب تقویم البلدان)

« أبو الفداء عماد الدين إسماعيل بن علي بن محمود بن محمد بن عمر بن شاهنشاه بن أيوب الأيوبي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور علمی نشوونما

ابو الفداء اسماعیل بن علی 672 ہجری (بمطابق 1273 عیسوی) میں دمشق، شام میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مشہور و معروف ایوبی خاندان سے تھا، اور وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے بھائی شاہنشاہ بن ایوب کی نسل سے تھے۔ ان کی پیدائش اس وقت ہوئی جب منگولوں کے حملوں کی وجہ سے ان کا خاندان عارضی طور پر حماة سے دمشق منتقل ہوا تھا۔ انہوں نے بچپن ہی سے دمشق کے ممتاز علماء سے روایتی اسلامی علوم، جن میں قرآن، علمِ حدیث، فقہ شافعی، اصول، اور عربی ادب شامل ہیں، کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ریاضی، فلکیات، جغرافیہ، اور طب جیسے عقلی علوم میں غیر معمولی مہارت حاصل کی، جس نے انہیں اپنے وقت کا ایک کثیر الجہت (Polymath) اسکالر بنا دیا۔

سیاسی اور عسکری سرگرمیاں (امارتِ حماة)

ابو الفداء محض ایک گوشہ نشین عالم نہیں تھے، بلکہ وہ ایک نڈر مجاہد اور زیرک سیاست دان بھی تھے۔ انہوں نے مملوک سلطنت کے تحت صلیبیوں اور منگولوں کے خلاف کئی معرکوں میں حصہ لیا۔ انہوں نے 1289ء میں فتحِ طرابلس اور 1291ء میں عکا کی مہمات میں بہادری کے جوہر دکھائے، جس سے صلیبیوں کا خطے سے خاتمہ ہوا۔ ان کی عسکری صلاحیتوں اور وفاداری سے متاثر ہو کر مملوک سلطان الناصر محمد بن قلاوون نے انہیں 1310ء میں حماة کا گورنر مقرر کیا اور بعد میں 1320ء میں انہیں ‘الملک المؤيد’ (خودمختار امیر) کے لقب سے نوازا۔ ان کے دورِ حکومت میں حماة نے علمی، تمدنی اور معاشی اعتبار سے بے پناہ ترقی کی، اور انہوں نے وہاں ایک عالی شان مسجد اور مدرسہ بھی قائم کیا جو آج بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔

علمی کارنامے اور لازوال تصانیف

ابو الفداء کی علمی شہرت ان کی دو عظیم کتب کی مرہونِ منت ہے:
1. تقویم البلدان (Sketch of the Countries): یہ علمِ جغرافیہ میں ایک انقلابی کتاب مانی جاتی ہے۔ اس میں انہوں نے دنیا کے مختلف خطوں، دریاؤں، پہاڑوں، اور شہروں کا تفصیلی نقشہ کھینچا اور ان کے طول بلد اور عرض بلد کا درست تعین کیا۔ اس کتاب کا بعد میں لاطینی اور دیگر یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور یہ صدیوں تک مغرب میں جغرافیہ کا بنیادی ماخذ رہی۔
2. المختصر في أخبار البشر (Concise History of Humanity): یہ ایک جامع عالمی تاریخ ہے جو تخلیقِ آدم سے شروع ہو کر ان کے اپنے دور (729ھ) تک کے حالات کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ کتاب اتنی مستند مانی گئی کہ بعد کے عظیم مورخین جیسے ابن کثیر اور ابن خلدون نے اس سے بکثرت استفادہ کیا۔ ابن کثیر نے ان کی تاریخ کے اسلوب اور صحت پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

ابو الفداء اسماعیل بن علی نے تقریباً 60 برس کی عمر میں 23 محرم الحرام 732 ہجری (بمطابق 1331 عیسوی) کو حماة، شام میں وفات پائی۔ انہیں ان کی تعمیر کردہ تاریخی مسجد کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی موت پر علمی دنیا میں گہرے رنج و ملال کا اظہار کیا گیا۔ وہ تاریخِ اسلام کی ان نادر شخصیتوں میں سے تھے جنہوں نے تلوار اور قلم دونوں کا حق بیک وقت ادا کیا۔ ان کی علمی میراث نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ یورپی نشاة الثانیہ (Renaissance) پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 14)
  • امام شمس الدین الذہبی (تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام)
  • صلاح الدین الصفدی (الوافي بالوفيات)
  • خیر الدین الزرکلی (الأعلام)
  • جلال الدین السیوطی (حسن المحاضرة في تاريخ مصر والقاهرة)

مبارک اقوال و ارشادات

علمِ تاریخ محض گزشتہ زمانوں کی داستان نہیں، بلکہ یہ عقل مندوں کے لیے عبرت اور مستقبل کی تدبیر کا سرچشمہ ہے۔

جغرافیہ کا علم کائنات میں تدبر کرنے اور اللہ رب العزت کی کاریگری کو پہچاننے کا ایک بہترین علمی راستہ ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ابو الفداء اسماعیل بن علی عماد الدین (جغرافیہ دان و مورخ صاحب تقویم البلدان)

لقب و کنیت: ابو الفداء، عماد الدين، الملك المؤيد، صاحب حماة، مورخ و جغرافية دان، امیرِ حماة
قبیلہ: بنو ایوب (ایوبی خاندان، کرد نژاد)
سن پیدائش و وفات: 672 ھ – 732 ھ / 1273ء – 1331ء
مقام تدفین: مسجد ابی الفداء، حماة، شام (سوریہ)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com