خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الحکم مصر کے ایک نہایت ممتاز، علمی اور باوقار خاندان میں 182 ہجری میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو جمح کے حلیف خاندان سے تھا، اسی لیے انہیں ‘القرشی بالولاء’ کہا جاتا ہے۔ ان کے والد، امام عبد اللہ بن عبد الحکم (متوفی 214 ھ)، امام مالک بن انس کے جلیل القدر شاگردوں میں شمار ہوتے تھے اور مصر میں مالکی فقہ کے سب سے بڑے علمبردار اور فقیہ تھے۔ ایسے علمی اور فقہی ماحول میں پرورش پانے کی وجہ سے عبد الرحمن کو بچپن ہی سے علمِ حدیث، فقہ اور تاریخِ اسلام سے گہرا شغف پیدا ہو گیا۔ انہوں نے اپنے وقت کے نامور شیوخ سے اکتسابِ فیض کیا اور کم عمری میں ہی حدیث اور فقہ پر کامل دسترس حاصل کر لی۔
علمی مقام اور فنِ حدیث میں خدمات
ابن عبد الحکم کا شمار مصر کے بلند پایہ محدثین اور فقہاء میں ہوتا ہے۔ علمِ اسما الررجال اور جرح و تعدیل کے ائمہ نے ان کی توثیق کی ہے۔ امام نسائی نے ان سے روایت لی ہے اور انہیں ‘صدوق’ (سچا) قرار دیا ہے۔ وہ اپنے والد کے علمی جانشین تھے اور انہوں نے مالکی مکتبِ فکر کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔ علمِ حدیث میں ان کا پایہ اس قدر بلند تھا کہ مصر اور دیگر اسلامی ممالک سے طالبانِ علم ان کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے۔ انہوں نے امام مالک کے اصحاب کی روایات کو جمع کیا اور مصر کے علمی حلقوں میں ان کا درسِ حدیث نہایت معتبر مانا جاتا تھا۔
شہرہ آفاق تصنیف "فتوح مصر والمغرب”
ابن عبد الحکم کی شہرت کا سب سے بڑا ذریعہ ان کی مایہ ناز اور تاریخی تصنیف "فتوح مصر وأخبارها” (جو فتوح مصر والمغرب کے نام سے مشہور ہے) ہے۔ یہ کتاب اسلامی تاریخ کی قدیم ترین اور اہم ترین دستاویزی کتب میں سے ایک ہے۔ اس کتاب کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
1. قدیم ترین ماخذ: یہ کتاب مصر، شمالی افریقہ (مغرب) اور اندلس (اسپین) کی اسلامی فتوحات پر لکھی جانے والی سب سے پہلی مستند تاریخ ہے۔
2. طریقہ کار: ابن عبد الحکم نے اس کتاب میں تاریخ کو محض قصے کہانیوں کی طرح بیان نہیں کیا، بلکہ محدثانہ اسلوب اختیار کرتے ہوئے باقاعدہ اسناد کے ساتھ فتوحات کے واقعات کو نقل کیا۔
3. جامعیت: کتاب میں سیدنا عمرو بن العاص کی قیادت میں مصر کی فتح، اسکندریہ کا محاصرہ، فسطاط کی بنیاد، اور پھر وہاں سے عقبہ بن نافع اور دیگر جرنیلوں کے ذریعے مغرب اور اندلس کی فتوحات کی مفصل تاریخ درج ہے۔ بعد کے تمام مؤرخین جیسے طبری، ابن الاثیر، اور ابن خلدون نے اس کتاب کو اپنا بنیادی ماخذ بنایا۔
ابتلا و آزمائش اور وفات
ابن عبد الحکم کی زندگی کا آخری حصہ آزمائش سے خالی نہ تھا۔ خلافتِ عباسیہ کے دور میں جب ‘خلقِ قرآن’ کا فتنہ اٹھا، تو ان کے خاندان کو بھی شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر اور ان کے بھائیوں پر سیاسی الزامات عائد کیے گئے اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں۔ لیکن انہوں نے کٹھن حالات میں بھی صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور اپنے علمی وقار کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ بالآخر، احمد بن طولون کے دورِ حکومت میں، مصر کے شہر فسطاط میں 257 ہجری (بمطابق 871ء) میں اس عظیم مؤرخ اور فقیہ نے داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی تدفین مصر کے مشہور قبرستان قرافہ صغرى میں ان کے والد کے پہلو میں ہوئی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 12)
- ابن حجر عسقلانی (تہذيب التہذيب، جلد 6)
- جلال الدین سیوطی (حسن المحاضرة في أخبار مصر والقاهرة)
- ابن خلکان (وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان)
- ابن ندیم (الفہرست)
مبارک اقوال و ارشادات
پوری تاریخ کو نقل کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ صرف مستند اور ثقہ راویوں کی روایات کو ہی قلمبند کیا جائے۔
مصر کی سرزمین اسلام کا وہ مضبوط قلعہ ہے جس نے افریقہ اور مغرب میں نورِ توحید پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
علم کا حصول اور اس کا ابلاغ دنیا کی سب سے بڑی سخاوت ہے۔
