غزواتِ کبریٰ

سریہ رجیع (مرثد بن ابی مرثد)

« صفر ۴ ہجری / جولائی یا اگست ۶۲۵ء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

غزوہ احد کے بعد مدینہ منورہ کے اطراف میں رہنے والے بعض قبائل نے مسلمانوں کی عسکری قوت کو کمزور سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ صفر ۴ ہجری میں عضل اور قارہ نامی قبائل کے چند وفود رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ان کے قبائل اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں، لہذا ان کی تعلیم و تربیت کے لیے قرآن کے معلمین بھیجے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی درخواست پر دس جلیل القدر صحابہ کرام پر مشتمل ایک وفد روانہ فرمایا، جس کی امارت حضرت مرثد بن ابی مرثد الغنوی رضی اللہ عنہ (اور بعض روایات کے مطابق حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ) کے سپرد کی گئی۔ اس وفد کا اصل مقصد خالص دعوتی اور تبلیغی تھا، لیکن قبائل کی نیت میں کھوٹ تھا اور وہ قریشِ مکہ کے ساتھ سازش کر چکے تھے۔

لشکروں کی روانگی اور غداری کی سازش

یہ وفدِ دعوت جب مدینہ سے روانہ ہوا اور مکہ اور عسفان کے درمیان واقع بنو ہذیل کے چشمے ‘الرجیع’ پر پہنچا، تو ان غدار راہنماؤں نے اپنے اصل ارادے ظاہر کر دیے۔ انہوں نے بنو لحیان (بنو ہذیل کی ایک شاخ) کو مخبری کر دی۔ بنو لحیان نے فوراً ایک سو کے قریب تربیت یافتہ تیر اندازوں کا دستہ بھیجا جنہوں نے ان نہتے اور مٹھی بھر صحابہ کرام کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ صحابہ کرام نے جب خود کو محصور پایا تو اپنی تلواریں سونت لیں اور ایک پہاڑی (فدفد) پر پناہ گزین ہو گئے۔

معرکہ کے تفصیلی احوال اور شجاعتِ صحابہ

مشرکین نے صحابہ کرام کو ہتھیار ڈالنے کے بدلے امان دینے کا لالچ دیا اور قسمیں کھائیں کہ وہ انہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ لیکن حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کے عہد و پیمان پر اعتبار کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ‘اللہ کی قسم! میں کسی کافر کے عہد پر پہاڑی سے نیچے نہیں اتروں گا۔ اے اللہ! ہمارے نبی ﷺ کو ہماری حالت کی خبر پہنچا دے۔’

اس کے بعد صحابہ کرام نے بے جگری سے مقابلہ شروع کیا۔ تیروں کی بوچھاڑ کے نتیجے میں حضرت عاصم بن ثابت، حضرت مرثد بن ابی مرثد اور حضرت خالد بن بکیر رضی اللہ عنہم سمیت سات صحابہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ مشرکین حضرت عاصم بن ثابت کا سر کاٹ کر مکہ کی ایک کافر عورت سلافہ بنت سعد کو بیچنا چاہتے تھے جس نے نذر مانی تھی کہ وہ عاصم کے سر کی کھوپڑی میں شراب پیے گی (کیونکہ حضرت عاصم نے احد میں اس کے دو بیٹوں کو قتل کیا تھا)۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندے کی لاش کی حفاظت فرمائی اور شہد کی مکھیوں اور بھڑوں کے ایک غیب لشکر نے ان کے جسم کو ڈھانپ لیا، جس کی وجہ سے کفار ان کے مادی وجود کو چھو بھی نہ سکے۔ بعد میں بارش کے ریلے نے ان کے جسدِ مبارک کو کہیں دور چھپا دیا۔

مکہ میں قید اور مظلومانہ شہادت

باقی بچ جانے والے تین صحابہ کرام (حضرت خبیب بن عدی، حضرت زید بن دثنہ اور حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہم) نے مشرکین کے امان کے وعدے پر پہاڑی سے نیچے آنے کا فیصلہ کیا۔ نیچے آتے ہی کفار نے غداری کی اور انہیں اپنی کمانوں کے تانتوں سے باندھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن طارق نے اس پہلی غداری پر سخت احتجاج کیا اور مکہ جانے سے انکار کر کے مزاحمت کی، جس پر کفار نے انہیں وہیں سنگسار کر کے شہید کر دیا۔

مشرکین نے حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ کو مکہ لے جا کر قریش کے ہاتھوں فروخت کر دیا، جو غزوہ بدر کے مقتولین کا انتقام لینے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ مکہ میں ان دونوں صحابہ کو سخت قید میں رکھا گیا۔ حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی قید کا یہ واقعہ نہایت مشہور ہے کہ قید کے دوران مکہ کی ایک عورت نے انہیں انگور کے خوشے کھاتے ہوئے دیکھا جبکہ اس موسم میں مکہ میں انگور کا نام و نشان تک نہ تھا، جو اللہ کی طرف سے ان کی غیبی مہمانی تھی۔

قتل گاہ کی طرف لے جاتے وقت حضرت خبیب نے دو رکعت نماز ادا کرنے کی مہلت مانگی۔ انہوں نے نہایت خشوع و خضوع سے دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: ‘اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم لوگ سمجھو گے کہ میں موت کے خوف سے نماز لمبی کر رہا ہوں، تو میں مزید نماز پڑھتا۔’ یہ اسلام کی تاریخ میں موت کے وقت دو رکعت سنت پڑھنے کی پہلی روایت بن گئی۔ سولی پر لٹکائے جانے سے قبل جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری جگہ محمد (ﷺ) ہوں اور تم اپنے گھر میں عافیت سے رہو؟ تو حضرت زید بن دثنہ اور حضرت خبیب دونوں نے تاریخی جواب دیا: ‘اللہ کی قسم! ہمیں تو یہ بھی گوارا نہیں کہ ہمارے بدلے رسول اللہ ﷺ کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چبھے اور ہم اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہیں۔’ اس عشقِ رسول کو دیکھ کر ابو سفیان پکار اٹھا: ‘میں نے دنیا میں کسی سے ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی محبت محمد (ﷺ) کے ساتھی ان سے کرتے ہیں۔’

شہدائے اسلام کے تزویراتی اثرات اور اسباق

سریہ رجیع اگرچہ مادی لحاظ سے ایک سانحہ تھا، لیکن اس نے مسلمانوں کو دشمن کے پروپیگنڈے اور منافقت سے نمٹنے کے لیے نئے تزویراتی اسباق دیے۔ اس واقعے نے مدینہ کی اسلامی ریاست کو سکھایا کہ دعوتی وفود بھیجتے وقت سخت عسکری حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔ شہدائے رجیع کی استقامت نے قریشِ مکہ کے حوصلے پست کر دیے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا کہ مسلمانوں کا ایمان مادی لالچ یا موت کے خوف سے متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن اسحاق (السيرة النبوية)
  • ابن ہشام (السيرة النبوية – غزوة الرجيع)
  • امام بخاری (صحيح البخاري – کتاب المغازي، باب غزوة الرجيع)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية – واقعات ۴ ہجری)
  • ابن سعد (الطبقات الکبرى)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ البقرہ، آیت ۲۰۷ (وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ) - یہ آیت اور مقتولینِ رجیع کے حوالے سے دیگر تفسیری روایات کا نزول ان جاں نثاروں کی شان میں مانا جاتا ہے۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سریہ رجیع (مرثد بن ابی مرثد)

تاریخ و سن ہجری: صفر ۴ ہجری / جولائی یا اگست ۶۲۵ء
میدانِ جنگ: الرجیع (مکہ اور عسفان کے درمیان بنو ہذیل کے علاقے میں واقع ایک چشمہ)
لشکرِ اسلام: ۱۰ جلیل القدر صحابہ کرام (جو قراء اور مبلغین تھے)
لشکرِ اعداء: ۱۰۰ سے زائد ماہر تیر انداز (بنو لحیان اور بنو ہذیل کے غدار مشرکین)
نتیجہ: مشرکین کی غداری کے نتیجے میں تمام مبلغ صحابہ کی مظلومانہ شہادت۔ تاریخِ اسلام میں استقامتِ ایمان، جذبہ شہادت، اور آخری لمحات تک توحید پر قائم رہنے کی ایک لازوال داستان رقم ہوئی۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com