تاریخی پس منظر اور اسباب
معرکہ ریدانیہ (Battle of Ridaniya) اسلامی تاریخ کا وہ موڑ ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ اور عالمِ اسلام کے سیاسی و مذہبی نقشے کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ پندرہویں صدی کے اواخر اور سولہویں صدی کے اوائل میں، مصر اور شام پر صدیوں سے حکومت کرنے والی مملوک سلطنت داخلی انتشار، اقتصادی بدحالی اور عسکری جمود کا شکار ہو چکی تھی۔ دوسری جانب، عثمانی سلطنت سلطان سلیم اول کی قیادت میں عروج پر تھی، جس نے صفوی سلطنت کو جنگِ چالدران (1514ء) میں شکست دے کر اپنی مشرقی سرحدیں محفوظ کر لی تھیں۔
مملوکوں نے عثمانیوں کے خلاف صفویوں کی درپردہ مدد کی تھی، جس کے بعد سلطان سلیم اول نے شام اور مصر کو عثمانی سلطنت کے تحت لا کر ایک عظیم اور متحد اسلامی سلطنت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے کا پہلا بڑا معرکہ 1516ء میں ‘مرج دابق’ کے مقام پر ہوا جس میں مملوک سلطان قانصوہ الغوری مارا گیا اور پورا شام عثمانیوں کے قبضے میں آگیا۔ اس کے بعد قاہرہ میں طومان بائے کو نیا مملوک سلطان منتخب کیا گیا، جس نے عثمانیوں کی بالادستی قبول کرنے اور صلح کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ چنانچہ سلطان سلیم اول نے اپنے لشکر کو قاہرہ کی طرف بڑھنے کا حکم دیا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
سلطان سلیم اول نے انتہائی کٹھن جغرافیائی حالات کے باوجود اپنی فوج کو جزیرہ نما سینا کے تپتے ہوئے صحرا سے کامیابی کے ساتھ گزارا۔ یہ عسکری تاریخ کا ایک حیرت انگیز کارنامہ تھا کہ عثمانی توپ خانہ اتنے بڑے ریگستان کو پار کر کے مصر پہنچا۔ دوسری طرف، نو منتخب مملوک سلطان طومان بائے نے قاہرہ کے باہر ‘ریدانیہ’ کے مقام پر دفاعی لائن قائم کی۔
مملوکوں کا دفاعی منصوبہ بنیادی طور پر خندقوں پر مبنی تھا، جن کے پیچھے انہوں نے فرنگیوں سے حاصل کردہ بھاری توپیں نصب کر رکھی تھیں۔ ان کا ارادہ عثمانیوں کو سامنے سے آنے پر مجبور کر کے توپوں کے گولوں سے اڑانا تھا۔ تاہم، عثمانی جاسوسوں نے اس منصوبے کی خبر سلطان سلیم اول کو دے دی۔ عثمانی سلطان، جو اپنے وقت کا بہترین جنگی دماغ تھا، نے روایتی سامنے کے حملے کے بجائے اپنے توپ خانے کو متحرک رکھا اور دشمن کے گرد گھیرا ڈالنے (Flanking Maneuver) کی حکمتِ عملی ترتیب دی۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور فریقین کی جنگی حکمتِ عملی
22 جنوری 1517ء کو صبح کے وقت جنگ کا آغاز ہوا۔ سلطان سلیم اول نے اپنی فوج کو ریدانیہ کے مورچوں پر براہِ راست حملے کے بجائے دائیں اور بائیں بازو سے حرکت دیتے ہوئے مملوکوں کے عقب اور پہلوؤں پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا۔ اس غیر متوقع چال نے طومان بائے کے توپ خانے کو بے اثر کر دیا کیونکہ مملوک توپیں زمین میں فکس تھیں اور انہیں آسانی سے دائیں بائیں نہیں گھمایا جا سکتا تھا۔
جنگ انتہائی خونریز روپ اختیار کر گئی۔ طومان بائے نے بے پناہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس نے اپنے چند بہترین اور جانثار سواروں کا ایک خاص دستہ تشکیل دیا اور عثمانی لشکر کے مرکز پر، جہاں عثمانی سلطان کا خیمہ نصب تھا، ایک شاندار اور جان لیوا حملہ کیا۔ طومان بائے کا مقصد عثمانی سلطان کو ہلاک کر کے جنگ کا فیصلہ یکمشت کرنا تھا۔ وہ عثمانی مرکز کو چیرتے ہوئے اندر داخل ہو گئے اور عثمانی وزیرِ اعظم سنان پاشا کو سلطان سلیم سمجھ کر قتل کر دیا۔ سنان پاشا عثمانی فوج کے ایک انتہائی قابل اور معزز کمانڈر تھے، جن کی موت نے سلطان سلیم کو شدید رنجیدہ کیا۔
اس عارضی کامیابی کے باوجود، عثمانی انکشاریہ (Janissaries) کے منظم پیادہ دستوں نے اپنی جدید بندوقوں (Muskets) سے زبردست جوابی کارروائی کی اور مملوکوں کے اس حملے کو پسپا کر دیا۔ عثمانی توپ خانے نے، جو متحرک پہیوں پر نصب تھا، مملوکوں کے صفوف پر آگ برسا دی۔ چند ہی گھنٹوں کے شدید ترین معرکے کے بعد مملوکوں کے حوصلے پست ہو گئے اور ان کی فوج تتر بتر ہو گئی۔
فتح قاہرہ اور خلافت کا انتقال
ریدانیہ کی فتح کے بعد سلطان سلیم اول فاتحانہ انداز میں قاہرہ میں داخل ہوئے۔ طومان بائے نے فرار ہو کر کچھ عرصہ گوریلا جنگ جاری رکھی لیکن بالآخر وہ گرفتار ہوا اور اسے پھانسی دے دی گئی۔ اس طرح ڈھائی سو سال سے قائم مملوک سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔
اس معرکے کا سب سے اہم مذہبی اور سیاسی نتیجہ یہ نکلا کہ قاہرہ میں مقیم آخری عباسی خلیفہ المتوکل علی اللہ الثالث نے خلافت کے تمام تبرکاتِ مقدسہ (جن میں رسول اللہ ﷺ کا جبہ مبارک، تلوار اور علم شامل تھے) عثمانی سلطان سلیم اول کے سپرد کر دیے۔ اس طرح خلافت باقاعدہ طور پر عثمانی خاندان کو منتقل ہو گئی اور سلطان سلیم اول تاریخ کے پہلے عثمانی خلیفہ اور ‘خادم الحرمین الشریفین’ بن گئے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے گورنروں نے قاہرہ آ کر سلطان کی اطاعت قبول کر لی اور یوں حرمین الشریفین بھی عثمانی قلمرو کا حصہ بن گئے۔
ایمانی و عسکری اسباق
- جدید عسکری ٹیکنالوجی کی اہمیت: مملوکوں کی شکست کا بنیادی سبب ان کا جدید جنگی ٹیکنالوجی (خاص طور پر متحرک توپ خانے اور بندوقوں) کو حقارت سے دیکھنا اور صرف روایتی گھڑ سواری پر تکیہ کرنا تھا۔ عثمانیوں نے وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالا۔
- عزم اور مستقل مزاجی: صحرائے سینا کو بھاری توپ خانے کے ساتھ عبور کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ایمان اور عزمِ صمیم ہو تو ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
- اتحادِ امت کی ضرورت: خلافت کا عثمانیوں کے پاس جانا بکھری ہوئی اسلامی دنیا کو ایک پرچم تلے جمع کرنے کا سبب بنا، جس نے آگے چل کر صدیاں اسلامی دنیا کو بیرونی خطرات (جیسے پرتگالی اور یورپی سامراج) سے محفوظ رکھا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن ایاس الحنفی (بدائع الزهور في وقائع الدهور) – یہ اس دور کے عینی شاہد مورخ ہیں۔
- محمد فرید بک المحامی (تاريخ الدولة العلية العثمانية)
- پروفیسر ڈاکٹر علی محمد الصلابی (الدولة العثمانية: عوامل النهوض وأسباب السقوط)
- جرجی زیدان (تاريخ مصر الحديث)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
یہ معرکہ نزولِ قرآن کے بعد کا ہے۔ تاہم، غلبہ اسلام، اتحادِ امت اور خلافت کی اہمیت کے متعلق سورۃ آل عمران کی آیت ۲۶ ('قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ') اور سورۃ الانفال کی عسکری تیاری سے متعلق ہدایات اس معرکہ پر صادق آتی ہیں۔
