معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

معرکہ فحل (۱۳ ہجری)

« ۲۸ ذوالقعدہ ۱۳ ہجری / بمطابق ۲۳ جنوری ۶۳۵ء (عہدِ خلافتِ راشدہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ) »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

معرکہ فحل، جسے تاریخِ اسلام میں ‘وقعة الردغة’ (دلدر یا کیچڑ کا معرکہ) بھی کہا جاتا ہے، فتوحاتِ شام کے سلسلے کا ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن معرکہ ہے۔ اجنادین اور یرموک کے معرکوں میں رومیوں کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان پے در پے شکستوں کے بعد رومی فوج نے پسپائی اختیار کی اور اردن کے سرحدی مقام ‘فحل’ (Pella) میں جمع ہونا شروع کر دیا۔ رومی شہنشاہ ہرقل نے اپنی بکھری ہوئی طاقت کو یکجا کر کے مسلمانوں کے خلاف ایک آخری اور فیصلہ کن دفاعی حصار قائم کرنے کا حکم دیا۔ رومیوں نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت وادیِ اردن کی نہروں اور پانی کے چشموں کے دہانے کھول دیے، جس کی وجہ سے فحل کا پورا میدانی علاقہ کیچڑ اور دلدل میں تبدیل ہو گیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی سواروں کی پیش قدمی کو روکا جا سکے اور مجاہدین دلدل میں پھنس کر ان کے تیر اندازوں کا نشانہ بن جائیں۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر اسلامی لشکر کی قیادت امین الامت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے۔ انہوں نے رومیوں کے اس نئے اجتماع کو ختم کرنے کے لیے لشکرِ اسلام کو حرکت دی۔ لشکر کے ہراول دستے کی قیادت شجاعت کے پیکر سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، جبکہ میمنہ پر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور میسرہ پر حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ متعین تھے۔ لشکر کے قلب کی قیادت خود حضرت ابو عبیدہؓ اور حضرت شرحبیل بن حسنہؓ کے ہاتھ میں تھی۔ جب مجاہدین فحل کے قریب پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ زمین کو جان بوجھ کر دلدل بنا دیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے انتہائی صبر اور دور اندیشی سے کام لیا اور دلدل کے خشک ہونے یا رومیوں کے باہر نکلنے کا انتظار کرنے لگے۔

معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ

رومیوں کا خیال تھا کہ مسلمان اس کیچڑ کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، اس لیے وہ خود کو محفوظ سمجھ کر غافل ہو گئے۔ رومی کمانڈر سقلار نے سوچا کہ مسلمانوں پر اچانک حملہ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ چنانچہ رومی فوج دلدل کے راستوں کو عبور کرتی ہوئی اچانک مسلمانوں پر حملہ آور ہوئی۔ لیکن بیدار مغز اسلامی سالاروں نے پہلے ہی سے پہرے دار اور جنگی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں۔ جیسے ہی رومیوں نے حملہ کیا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اسلامی سواروں اور پیادوں نے رومیوں کو گھیر لیا۔ فحل کی یہ جنگ انتہائی شدید اور خونریز تھی۔ مجاہدینِ اسلام نے اپنی روایتی شجاعت اور ایمانی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے رومیوں کے پاؤں اکھاڑ دیے۔ رومی فوج نے جب دیکھا کہ ان کے حملے ناکام ہو رہے ہیں، تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی۔ لیکن اب وہ خود اسی دلدل (الردغہ) میں پھنس گئے جو انہوں نے مسلمانوں کے لیے تیار کی تھی۔ مجاہدین نے پیچھے ہٹتی ہوئی رومی فوج پر بھرپور وار کیے، جس کے نتیجے میں رومیوں کا بہت بڑا جانی نقصان ہوا۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

اس معرکے میں مسلمانوں کو بہت کم جانی نقصان اٹھانا پڑا اور چند سو مجاہدین جامِ شہادت نوش کر گئے۔ دوسری طرف رومیوں کے دس ہزار سے زائد سپاہی ہلاک ہوئے، جن میں ان کا مغرور کمانڈر سقلار بھی مارا گیا۔ معرکہ فحل کی فتح کے بعد شام اور فلسطین میں رومیوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ اس عظیم فتح کے تزویراتی (Strategic) اثرات یہ مرتب ہوئے کہ اردن کا پورا علاقہ مسلمانوں کے زیرِ نگین آ گیا اور بیت المقدس اور دمشق کی فتح کے لیے راستے بالکل صاف ہو گئے۔ وہاں کے مقامی عیسائی باشندوں نے رومیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر مسلمانوں کا استقبال کیا اور اسلامی عدل و انصاف سے متاثر ہو کر جزیہ دینا قبول کیا۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

معرکہ فحل مسلمانوں کو یہ سکھاتا ہے کہ دشمن چاہے کتنی ہی مکارانہ تدبیریں کیوں نہ کر لے اور مادی اسباب کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کرے، اگر مسلمان صبر، تقویٰ اور بہترین جنگی تدبیر اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ دشمن کی چالوں کو انہی کے خلاف الٹ دیتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ‘وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ’ (فاطر: 43)۔ مجاہدینِ اسلام کی یہ فتح اس بات کی گواہ ہے کہ کامیابی مادی کثرت سے نہیں بلکہ ایمانی جذبے اور توکل علی اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن جریر الطبری (تاريخ الرسل والملوك)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)
  • ابن اثیر الجزری (الكامل في التاريخ)
  • الواقدی (فتوح الشام)
  • احمد بن یحییٰ البلاذری (فتوح البلدان)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

یہ معرکہ عہدِ فاروقی میں ہوا، اس لیے اس کے بارے میں کوئی مخصوص آیت نازل نہیں ہوئی، البتہ یہ اللہ کی اس عمومی بشارت کا مظہر ہے: 'وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ' (الروم: 47)

غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ فحل (۱۳ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: ۲۸ ذوالقعدہ ۱۳ ہجری / بمطابق ۲۳ جنوری ۶۳۵ء (عہدِ خلافتِ راشدہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ)
میدانِ جنگ: مقام فحل (قدیم پیلا - Pella)، وادی اردن، شام و فلسطین کی سرحد کے قریب
لشکرِ اسلام: تقریباً 20,000 سے 30,000 مجاہدینِ اسلام
لشکرِ اعداء: تقریباً 50,000 سے 80,000 رومی (بازنطینی) کثیر لشکر
نتیجہ: لشکرِ اسلام کی شاندار اور تزویراتی فتح؛ رومیوں کی مدافعت کا مکمل خاتمہ اور اردن و فلسطین پر اسلامی پرچم کی سربلندی۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com