غزواتِ کبریٰ

غزوہ حمراء الاسد (۳ ہجری)

« ۱۶ شوال ۳ ہجری / مارچ ۶۲۵ء (غزوہ احد کے اگلے ہی دن) »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

غزوہ حمراء الاسد دراصل غزوہ احد کا ہی ایک تزویراتی تسلسل ہے۔ شوال ۳ ہجری میں احد کے میدان میں عارضی پسپائی کے بعد جب قریش مکہ مدینہ منورہ سے واپس لوٹ رہے تھے، تو انہوں نے راستے میں ‘الروحاء’ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ وہاں ابو سفیان اور دیگر مشرک سرداروں نے باہمی مشورہ کیا کہ انہوں نے مسلمانوں کو کمزور تو کر دیا ہے لیکن ان کی طاقت کو جڑ سے نہیں اکھاڑا اور مدینہ پر مکمل قبضہ کیے بغیر واپس جا رہے ہیں، جو کہ ایک بڑی سیاسی و فوجی غلطی ہے۔ چنانچہ انہوں نے مدینہ منورہ پر دوبارہ اچانک حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔

دوسری طرف، اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی بے پناہ عسکری بصیرت اور وحی الہیٰ کی روشنی میں بھانپ لیا کہ قریش مکہ مدینہ پر دوبارہ حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ اگر قریش نے ایسا کیا تو مسلمانوں کا حوصلہ پست ہو سکتا تھا۔ اس خطرے کا سدِ باب کرنے کے لیے اور عرب قبائل پر یہ واضح کرنے کے لیے کہ احد میں جانی نقصان کے باوجود مسلمانوں کی قوتِ مدافعت ختم نہیں ہوئی، آپ ﷺ نے فوری طور پر مشرکین کے تعاقب کا اعلان فرمایا۔ آپ ﷺ نے سخت تاکید فرمائی کہ اس مہم میں صرف وہی لوگ شریک ہوں گے جو کل احد کی جنگ میں شریک تھے۔ اس کا مقصد زخمی مجاہدین کے حوصلوں کو عروج پر لانا اور دشمن پر رعب ڈالنا تھا۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

اتوار ۱۶ شوال ۳ ہجری کو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا گورنر مقرر کیا اور احد کے تھکے ہوئے اور شدید زخمی صحابہ کرام کو تیار ہونے کا حکم دیا۔ صحابہ کرام کے زخم ابھی تازہ تھے، کئی صحابہ اپنے بھائیوں کے کندھوں کا سہارا لے کر آئے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی ایک پکار پر سب لبیک کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے خود بھی زخموں سے چور ہونے کے باوجود زرہ پہنی اور علمِ جہاد سیدنا علی بن ابی طالب (یا ایک روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیق) رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا۔

مسلمانوں کا یہ جانثار لشکر مدینہ سے تقریباً ۸ میل کے فاصلے پر واقع مقام ‘حمراء الاسد’ پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ نے دشمن کو مرعوب کرنے کے لیے عسکری حکمتِ عملی کے تحت حکم دیا کہ رات کے وقت مختلف ٹیلوں پر پانچ سو (500) مقامات پر آگ جلائی جائے۔ رات کے اندھیرے میں اتنی وسیع آگ دیکھ کر دور سے دیکھنے والوں کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہاں کوئی لاکھوں کا لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔ یہ ایک شاندار نفسیاتی حربہ تھا جس نے دشمن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی۔

معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ

جب مسلمان حمراء الاسد میں خیمہ زن تھے، تو قبیلہ خزاعہ کے رئیس معبد الخزاعی (جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے لیکن مسلمانوں کے خیر خواہ تھے) وہاں سے گزرے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کی غیر معمولی ہمت اور عزمِ صمیم کو دیکھا۔ یہاں سے گزر کر جب معبد الخزاعی ‘الروحاء’ کے مقام پر ابو سفیان کے لشکر سے ملے، تو ابو سفیان نے مدینہ پر دوبارہ حملے کے ارادے سے ان سے مسلمانوں کے حالات دریافت کیے۔

معبد الخزاعی نے مشرکین کا حوصلہ پست کرنے کے لیے مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہوئے کہا: "اے ابو سفیان! محمد (ﷺ) ایک ایسے لشکرِ جرار کے ساتھ تمہارے تعاقب میں آ رہے ہیں جس کی مثال میں نے زندگی میں نہیں دیکھی۔ وہ سب غصے سے بپھرے ہوئے ہیں اور جو احد کی جنگ میں شریک نہیں ہو سکے تھے، وہ بھی اب ان کے ساتھ آ ملے ہیں تاکہ اپنے پچھلے نقصان کا بدلہ لے سکیں۔” یہ سن کر ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور ان کے دلوں پر مسلمانوں کا ایسا رعب طاری ہوا کہ انہوں نے مدینہ پر دوبارہ حملے کا ارادہ فوراً ترک کر دیا اور تیزی سے مکہ کی طرف پسپائی اختیار کرنے میں ہی عافیت سمجھی۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

غزوہ حمراء الاسد میں مسلمانوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ باقاعدہ روبرو جنگ کی نوبت ہی نہیں آئی اور دشمن خوفزدہ ہو کر بھاگ کھڑا ہوا۔ تاہم، مسلمانوں نے اس مہم کے دوران قریش کے دو اہم مہروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا:

  • ابو عزہ الجمحی: یہ مکہ کا ایک شاعر تھا جسے غزوہ بدر میں قیدی بنایا گیا تھا، لیکن اس نے اپنی غریبی اور بیٹیوں کا واسطہ دیا تو حضور ﷺ نے اس سے عہد لیا تھا کہ وہ دوبارہ مسلمانوں کے خلاف تلوار یا زبان استعمال نہیں کرے گا۔ اس نے احد میں عہد شکنی کی اور قریش کو اکسایا۔ حمراء الاسد کے موقع پر یہ دوبارہ گرفتار ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی سزائے موت کا حکم دیا تاکہ کوئی غدار اسلام کو کمزور نہ سمجھے۔ اسی موقع پر آپ ﷺ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔”
  • معاویہ بن مغیرہ: یہ شخص قریش کا ایک جاسوس تھا جو مکہ کی روانگی کے بعد مدینہ کے ارد گرد معلومات اکٹھی کر رہا تھا، اسے بھی گرفتار کر کے قتل کیا گیا۔

اس غزوہ کے تزویراتی اثرات انتہائی دور رس تھے۔ احد میں عارضی ہزیمت کے بعد مشرکینِ عرب اور یہودِ مدینہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اب مسلمانوں کا خاتمہ قریب ہے، لیکن حمراء الاسد کے فوری اور دلیرانہ اقدام نے ثابت کر دیا کہ مسلمانوں کی عسکری قوت اب بھی ناقابلِ تسخیر ہے۔ اس سے مسلمانوں کا کھویا ہوا وقار اور رعب دوبارہ بحال ہو گیا۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں اس غزوے کی اہمیت اور صحابہ کرام کے ایمانی جذبے کو ابدی بنا دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو قبول کیا اس کے بعد کہ انہیں زخم لگ چکے تھے، ان میں سے جنہوں نے نیکی کی اور تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے خلاف بڑا لشکر جمع کیا ہے، پس ان سے ڈرو، تو ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے کہا: ‘حسبنا اللہ ونعم الوکیل’ (ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے)۔ پس وہ اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچی اور انہوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔” (سورہ آل عمران: ۱۷۲-۱۷۴)

اس غزوے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ تزویراتی اور نفسیاتی جنگ میں استقامت، دشمن پر رعب کا قیام، اور قیادت کی مکمل اطاعت ہی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے، چاہے ظاہری حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن اسحاق (السيرة النبوية)
  • ابن ہشام (السيرة النبوية)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)
  • ابن سعد (الطبقات الکبریٰ)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورہ آل عمران، آیات ۱۷۲ تا ۱۷۴

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

غزوہ حمراء الاسد (۳ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: ۱۶ شوال ۳ ہجری / مارچ ۶۲۵ء (غزوہ احد کے اگلے ہی دن)
میدانِ جنگ: حمراء الاسد (مدینہ منورہ سے جنوب کی طرف تقریباً ۸ میل یا ۱۳ کلومیٹر کے فاصلے پر)
لشکرِ اسلام: غزوہ احد میں شریک زخمی اور تھکے ہوئے جانثار صحابہ (تقریباً ۵۰۰ سے ۶۰۰ صحابہ کرام)
لشکرِ اعداء: قریش مکہ کا لشکر جرار (تقریباً ۳۰۰۰ مسلح جنگجو، ابو سفیان کی قیادت میں)
نتیجہ: تزویراتی اور نفسیاتی فتح: قریش مکہ مسلمانوں کی ہمت دیکھ کر خوفزدہ ہو کر مکہ فرار ہو گئے اور مسلمانوں کا رعب بحال ہو گیا۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com