تاریخی پس منظر اور اسباب
غزوہ ذی امر، جسے غزوہ غطفان اور غزوہ انمار بھی کہا جاتا ہے، ربیع الاول ۳ ہجری میں پیش آیا۔ جنگِ بدر میں مسلمانوں کی شاندار اور تاریخی فتح کے بعد جزیرہ نما عرب کے مشرک قبائل شدید غیظ و غضب کا شکار تھے اور مدینہ منورہ کی ابھرتی ہوئی طاقت کو کچلنا چاہتے تھے۔ نجد کے علاقے میں آباد بنو غطفان کی دو بڑی شاخوں، بنو ثعلبہ اور بنو محارب نے مدینہ منورہ پر اچانک شب خون مارنے کی سازش تیار کی۔ انہوں نے اپنے نامور جنگجو سردار دعثور بن الحارث المحاربی کی قیادت میں ایک بڑا لشکر جمع کرنا شروع کیا۔ جب اس جارحانہ اجتماع کی مخبری مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کو ہوئی، تو آپ ﷺ نے دشمن کو ان کے اپنے ہی علاقے میں جا کر کچلنے کا فیصلہ فرمایا تاکہ مدینہ کے دفاع کو یقینی بنایا جا سکے۔
لشکرِ اسلام کی روانگی اور تزویراتی پیش قدمی
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کا انتظام جلیل القدر صحابی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمایا اور 450 صحابہ کرام کا لشکر لے کر روانہ ہوئے۔ یہ غزوہ بدر کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی فوجی مہم تھی۔ مدینہ کی سرحدوں کو محفوظ کرنے کے لیے یہ پیش قدمی انتہائی تیز رفتاری سے کی گئی۔ راستے میں مسلمانوں کو غطفان کا ایک شخص ‘جبار’ نامی ملا، جو مسلمانوں کی فوجی ہیبت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اسے جب اسلام کی دعوت دی گئی تو اس نے صدقِ دل سے اسلام قبول کر لیا اور لشکرِ اسلام کے لیے رہنما (گائیڈ) کا کردار ادا کیا۔ مسلمانوں کی اس تیز رفتار پیش قدمی کی خبر جب بنو غطفان کے قبائل کو ملی، تو ان پر خوف و ہراس طاری ہو گیا اور وہ لڑائی کی ہمت نہ پا کر پہاڑی چوٹیوں پر بکھر گئے اور روپوش ہو گئے۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور ایمان افروز معجزہ
رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کے ہمراہ ‘ذی امر’ نامی چشمے پر پہنچے اور وہیں پڑاؤ ڈالا۔ یہاں کوئی باقاعدہ جنگ تو نہ ہوئی، لیکن اس سفر کے دوران ایک انتہائی ایمان افروز واقعہ پیش آیا جو تاریخِ اسلام میں سنہری حروف سے لکھا گیا ہے۔ پڑاؤ کے دوران شدید بارش ہوئی جس سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے بھیگ گئے۔ آپ ﷺ نے اپنے بھیگے ہوئے کپڑے سکھانے کے لیے ایک درخت پر ڈال دیے اور خود اس درخت کے سائے تلے اکیلے آرام فرمانے لگے۔ لشکرِ اسلام کے باقی صحابہ کچھ فاصلے پر آرام کر رہے تھے۔
مشرکین کے سردار دعثور بن الحارث نے موقع غنیمت جانا اور ہاتھ میں ننگی تلوار لیے چوری چھپے آپ ﷺ کے سرہانے آ کھڑا ہوا۔ اس نے انتہائی تکبر سے تلوار لہرا کر کہا: ‘اے محمد! آج آپ کو مجھ سے کون بچائے گا؟’ رسول اللہ ﷺ نے بغیر کسی خوف اور جھجک کے انتہائی پروقار اور پرسکون آواز میں جواب دیا: ‘اللہ!’
اللہ کے نام کی غیبی ہیبت اور جلالِ نبوت کا ایسا اثر ہوا کہ دعثور کے ہاتھ کانپنے لگے اور تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فوراً وہ تلوار اٹھا لی اور اس کے گلے پر رکھ کر فرمایا: ‘اب بتاؤ، تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟’ دعثور عاجز آ گیا اور کہنے لگا: ‘کوئی بھی نہیں۔ آپ بہترین عفو درگزر فرمانے والے بنیں۔’ رسول اللہ ﷺ نے کمالِ شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے معاف کر دیا اور تلوار واپس کر دی۔ یہ حسنِ اخلاق اور معجزہ دیکھ کر دعثور فوراً پکار اٹھا: ‘میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں!’ وہ اپنی قوم میں واپس گیا اور اسلام کا سب سے بڑا داعی بن گیا۔
تزویراتی نتائج اور اثرات
اگرچہ اس غزوے میں کوئی خونی معرکہ آرائی نہیں ہوئی، لیکن اس کے تزویراتی نتائج نہایت گہرے اور دور رس تھے:
- قبائلِ نجد (بنو غطفان) کے دلوں میں مسلمانوں کی فوجی طاقت کی دھاک بیٹھ گئی، جس کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک مدینہ پر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔
- دشمن کا بڑا جنگجو سردار دعثور بن الحارث مسلمان ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس کے قبیلے کے متعدد لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔
- مدینہ کے گرد و نواح کے تجارتی راستے محفوظ ہو گئے اور اسلامی ریاست کی سرحدیں مزید مستحکم ہوئیں۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
اکثر مفسرینِ کرام (جیسے امام بغوی اور امام ابن کثیر) کے مطابق، سورۃ المائدہ کی آیت نمبر ۱۱ اسی واقعے کے تناظر میں نازل ہوئی:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ وَعَلَی اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ
ترجمہ: ‘اے ایمان والو! اپنے اوپر اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کیا تھا، تو اللہ نے ان کے ہاتھوں کو تم تک پہنچنے سے روک دیا، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔’
یہ آیت اور یہ معرکہ مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ حقیقی طاقت اور حفاظت کا سرچشمہ صرف اور صرف اللہ رب العزت کی ذات ہے۔ توکل علی اللہ اور دشمن کے لیے عفو و درگزر کی صفت ایسے ہتھیار ہیں جو بڑی سے بڑی دشمنی کو دوستی اور ایمان میں بدل دیتے ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق (السيرة النبوية)
- ابن ہشام (السيرة النبوية، جلد ۳)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، باب غزوة ذي أمر)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، تذکرہ غزواتِ رسول ﷺ)
- الواقدی (کتاب المغازی)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ المائدہ، آیت نمبر ۱۱ (مفسرین کے مطابق اس غزوے کی طرف اشارہ ہے)
