تاریخی پس منظر اور اسباب
غزوہ ذی العشیرہ (جسے غزوہ عشیرہ بھی کہا جاتا ہے) غزواتِ رسول ﷺ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد، قریشِ مکہ کی اسلام دشمن سرگرمیوں اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جواب دینے کے لیے مدینہ منورہ کی نوزائیدہ اسلامی ریاست نے ایک نئی عسکری و تزویراتی حکمتِ عملی اپنائی۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد مکہ کے مشرکین پر معاشی دباؤ ڈالنا تھا، کیونکہ مکہ کی معیشت کا تمام تر دارومدار شام کی طرف جانے والے تجارتی قافلوں پر تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو اطلاع ملی کہ قریش کا ایک بہت بڑا اور قیمتی تجارتی قافلہ، جس کی قیادت ابو سفیان بن حرب کر رہا تھا، مکہ سے شام کی طرف جا رہا ہے۔ اس قافلے کی مالیت بہت زیادہ تھی اور اس میں قریش کے تمام بڑے رؤسا کا مال شامل تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس قافلے کی ناکہ بندی کے لیے صحابہ کرام کو نکلنے کا حکم دیا۔
لشکرِ اسلام کی روانگی اور تزویراتی حرکت
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کا انتظام حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد مخزومیؓ (بعض روایات کے مطابق حضرت فزاع بن عمر یا نواس بن ثعلبہ) کے سپرد فرمایا۔ مدینہ سے روانہ ہونے والے لشکر کی تعداد 150 سے 200 کے درمیان تھی، اور یہ تمام کے تمام مہاجرین صحابہ کرام تھے۔ چونکہ انصار سے مدینہ سے باہر جنگ کا کوئی بیعت کا باقاعدہ معاہدہ اس وقت تک واضح نہیں تھا، اس لیے ابتدائی مہمات میں صرف مہاجرین کو شامل کیا گیا۔ لشکرِ اسلام کا سفید علم حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ کے ہاتھ میں تھا۔ لشکرِ اسلام انتہائی رازداری اور تیز رفتاری کے ساتھ مدینہ کے شمال مغرب میں واقع بحرِ احمر کے ساحلی تجارتی راستے پر آگے بڑھا۔
مقامِ ذی العشیرہ پر قیام اور تزویراتی معاہدہ
جب رسول اللہ ﷺ اپنے جانثاروں کے ساتھ مقامِ ذی العشیرہ پہنچے، تو معلوم ہوا کہ ابو سفیان کا قافلہ چند روز قبل ہی وہاں سے تیزی کے ساتھ گزر چکا ہے اور مسلمانوں کی گرفت میں نہیں آ سکا۔ تاہم، رسول اللہ ﷺ نے اس سفر کو بے مقصد نہیں چھوڑا۔ آپ ﷺ نے ذی العشیرہ کے ارد گرد آباد قبائل، بالخصوص بنو مدلج اور ان کے حلیف قبیلے بنو ضمرہ کے ساتھ طویل مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں ایک تاریخی عدم جارحیت اور باہمی دفاع کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کی رو سے طے ہوا کہ یہ قبائل مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں حصہ لیں گے۔ اس معاہدے نے مدینہ کی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا دیا اور قریشِ مکہ کے لیے شام کا تجارتی راستہ انتہائی غیر محفوظ کر دیا۔
غزوے کے دوران پیش آنے والا ایک یادگار واقعہ
اسی مہم کے دوران ایک مشہور اور ایمان افروز واقعہ پیش آیا۔ حضرت عمار بن یاسرؓ روایت کرتے ہیں کہ میں اور حضرت علی بن ابی طالبؓ ایک کھجور کے باغ میں آرام کر رہے تھے۔ ہم مٹی پر لیٹے ہوئے تھے جس کی وجہ سے ہمارے جسموں پر مٹی لگ گئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، حضرت علیؓ کو مٹی میں اٹا ہوا دیکھ کر پیار سے جگایا اور فرمایا: "اٹھو، اے ابو تراب (مٹی والے)!”۔ اسی موقع پر آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو پیش گوئی فرمائی کہ "کیا میں تمہیں انسانوں کے دو سب سے بدبخت ترین آدمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ایک قومِ ثمود کا وہ شقی جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹیں، اور دوسرا وہ شخص جو (اے علی!) تمہاری پیشانی پر ایسا وار کرے گا کہ تمہاری داڑھی خون سے تر ہو جائے گی۔”
تزویراتی نتائج اور معرکہِ بدر کا پیش خیمہ
غزوہ ذی العشیرہ بظاہر بغیر کسی مڈبھیڑ کے ختم ہو گیا، لیکن اس کے تزویراتی نتائج انتہائی دور رس ثابت ہوئے۔ بنو مدلج کے ساتھ معاہدے نے قریش کی تجارتی ناکہ بندی کو مزید مضبوط کر دیا۔ یہی وہ قافلہ تھا جس کی شام سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ دوبارہ ناکہ بندی کے لیے نکلے، اور وہی مہم آخر کار مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان کفر و اسلام کے پہلے معرکے، یعنی غزوہِ بدرِ کبریٰ (2 ہجری) کا باعث بنی۔ اس لحاظ سے غزوہ ذی العشیرہ کو غزوہِ بدر کا براہِ راست پیش خیمہ کہا جا سکتا ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق، السيرة النبوية (کتاب المغازی)
- ابن ہشام، السيرة النبوية، جلد دوم
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ذکر غزواتِ رسول ﷺ
- الواقدی، کتاب المغازی، باب غزوہ ذی العشیرہ
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ذکر مہماتِ مدینہ
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
عمومی اشارہ: سورۃ الحج (آیت 39) جس میں قتال کی اجازت دی گئی، اور مہماتِ مدینہ کے عمومی احوال
