تاریخی پس منظر اور اسباب
غزوہ بنو لحیان کا بنیادی سبب عسکری تادیب اور غداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا تھا۔ سن 4 ہجری میں بنو لحیان نے عضل اور قارو قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ میں ایک وفد بھیجا اور رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ انہیں دین سکھانے کے لیے معلمین بھیجے جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دس جلیل القدر صحابہ کرام (قراء) پر مشتمل ایک وفد روانہ کیا۔ جب یہ وفد مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع مقام ‘الرجیع’ پہنچا، تو بنو لحیان نے بدعہدی کی اور دو سو تیر اندازوں کے ذریعے ان نہتے صحابہ کو گھیر لیا۔ اس غدر میں عاصم بن ثابت سمیت اکثر صحابہ شہید ہوئے جبکہ حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہم کو زندہ گرفتار کر کے قریشِ مکہ کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا، جنہوں نے انہیں انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ کو اس حادثہِ فاجعہ کا شدید رنج تھا۔ تاہم، مدینہ کے ارد گرد کے سیاسی و عسکری حالات، غزوہ احزاب (خندق) اور غزوہ بنی قریظہ کی مصروفیات کی وجہ سے بنو لحیان سے فوری بدلہ لینا ممکن نہ تھا۔ جب سن 6 ہجری میں بیرونی اور اندرونی خطرات کم ہوئے اور امن قائم ہوا، تو رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کو ان کی غداری کا سبق سکھانے اور مجرمین کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عزم فرمایا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور انتہائی رازداری کے ساتھ ایک تزویراتی جنگی چال کے تحت مدینہ سے شمال کی جانب روانہ ہوئے تاکہ دشمن یہ سمجھے کہ لشکرِ اسلام شام کی طرف جا رہا ہے۔ کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد، آپ ﷺ نے اچانک رخ بدلا اور جنوب کی سمت مکہ مکرمہ کی طرف تیز رفتاری سے پیش قدمی شروع کر دی۔ اس عسکری حکمتِ عملی کا مقصد بنو لحیان کو غافل پا کر ان پر اچانک حملہ کرنا تھا۔
لشکرِ اسلام کی کل تعداد دو سو (200) جانباز مجاہدین پر مشتمل تھی، جن میں سے بیس (20) بہترین سوار تھے جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں برق رفتار کارروائی کی صلاحیت رکھتے تھے۔ لشکر نے تیزی سے فاصلہ طے کیا اور غران کے علاقے میں پہنچ گیا، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان بنو لحیان کا اصل مسکن تھا۔
معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ
جب لشکرِ اسلام بطنِ غران میں اس مقام پر پہنچا جہاں ‘یوم الرجیع’ کا سانحہ پیش آیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے شہدائے رجیع کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ بنو لحیان کو جاسوسوں کے ذریعے مسلمانوں کی تیز رفتار پیش قدمی کی خبر مل چکی تھی، جس کی وجہ سے وہ خوف زدہ ہو کر اپنے گھر بار چھوڑ کر قریبی پہاڑی چوٹیوں اور محفوظ دروں میں چھپ گئے۔
رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان کی اس بزدلانہ پسپائی کے بعد ان کا پیچھا کرنے کے لیے مہم جوئی کی، لیکن وہ پہاڑوں کی گہرائیوں میں روپوش ہو چکے تھے۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے بنو لحیان پر نفسیاتی غلبہ مکمل کرنے اور قریشِ مکہ پر مسلمانوں کی فوجی طاقت کی دھاک بٹھانے کے لیے ایک تزویراتی فیصلہ کیا۔ آپ ﷺ نے عسفان (جو مکہ مکرمہ کے بالکل قریب واقع ہے) کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دس سواروں کا ایک ہراول دستہ ‘کراع الغمیم’ تک بھیجا تاکہ قریش مکہ کو معلوم ہو جائے کہ مسلمان اب ان کی دہلیز تک بلا خوف و خطر آ سکتے ہیں۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
چونکہ بنو لحیان نے جنگ سے گریز کیا اور پہاڑوں میں روپوش رہے، اس لیے اس غزوہ میں کوئی براہِ راست تصادم پیش نہیں آیا اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا۔ لیکن اس مہم کے تزویراتی اثرات انتہائی دور رس ثابت ہوئے:
- مدینہ کا عسکری رعب: اس مہم نے ثابت کر دیا کہ مدینہ کی اسلامی ریاست اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے کی مکمل طاقت رکھتی ہے، چاہے اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے۔
- قبائل عرب کو تنبیہ: ارد گرد کے غدار اور شر پسند قبائل پر واضح ہو گیا کہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی قسم کی غداری کی قیمت مہنگی پڑے گی۔
- قریش مکہ پر دباؤ: مکہ کے بالکل قریب تک لشکرِ اسلام کی بلا روک ٹوک رسائی نے قریش کے غرور کو خاک میں ملا دیا اور ان پر نفسیاتی غلبہ حاصل ہو گیا، جس نے آگے چل کر صلح حدیبیہ کی راہ ہموار کی۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
اگرچہ اس غزوہ کے حوالے سے کوئی خاص سورت نازل نہیں ہوئی، لیکن اس مہم نے جہاد فی سبیل اللہ کے ان اصولوں کو سچ کر دکھایا جن کا ذکر سورۃ الانفال میں ملتا ہے، جیسے دشمنوں کے دلوں میں رعب پیدا کرنا (ترھیب) اور مومنین کی عسکری تیاری۔ اس غزوہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جنگ صرف تلوار چلانے کا نام نہیں، بلکہ تزویراتی چالیں، رازداری اور نفسیاتی برتری عسکری فتوحات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق (السيرة النبوية – تذکرہ غزوہ بنی لحيان)
- ابن ہشام (السيرة النبوية – جلد چہارم)
- ابن کثیر (البداية والنهاية – واقعات ۶ ہجری)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ – باب المغازی)
- علامہ صفی الرحمن مبارکپوری (الرحیق المختوم)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الانفال (دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈالنے اور مومنین کی نصرت کے عمومی قوانین)
غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
