تاریخی پس منظر اور اسباب
جزیرہ قبرص (Cyprus) بحیرہ روم کے مشرق میں ایک انتہائی اہم تزویراتی (Strategic) حیثیت کا حامل جزیرہ ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے شام، مصر اور اناطولیہ کے ساحلوں کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے اس جزیرے کی جغرافیائی اہمیت دگنی ہو گئی تھی۔ عثمانی دور میں، یہ جزیرہ جمہوریہ وینس (Republic of Venice) کے زیرِ اثر تھا اور یہاں موجود عیسائی بحری قزاقوں نے مسلمانوں کے تجارتی جہازوں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ جانے والے حاجیوں کے قافلوں کو لوٹنا اپنا معمول بنا رکھا تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم سلطان سلیم ثانی نے تخت نشین ہونے کے بعد اپنے والد سلطان سلیمان قانونی کے ادھورے مشن کو پورا کرنے کا عزم کیا۔ عثمانی شیخ الاسلام ابوالسعود افندی نے ایک تاریخی فتویٰ جاری کیا جس میں مسلمانوں کے بحری راستوں کے تحفظ اور قزاقوں کے شر سے بچاؤ کے لیے قبرص کی فتح کو ناگزیر اور شرعاً جائز قرار دیا گیا۔ اس طرح 1570ء میں عثمانی سلطنت نے قبرص کو وینس کے تسلط سے آزاد کرانے کے لیے ایک بڑے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا۔
عثمانی بحری و زمینی لشکر کی روانگی
سلطان سلیم ثانی نے اس مہم کی کمان اپنے نامور اور تجربہ کار جرنیل لالا مصطفیٰ پاشا کو سونپی، جبکہ عثمانی بحری بیڑے کی قیادت امیر البحر پِیالے پاشا اور مؤذن زادہ علی پاشا کے ہاتھ میں دی گئی۔ مئی 1570ء میں عثمانی بحری بیڑا قسطنطنیہ (استنبول) سے روانہ ہوا، جس میں لگ بھگ 350 سے زائد چھوٹے بڑے جہاز شامل تھے جن پر جدید عثمانی توپ خانہ، بارود اور ہزاروں جانثار پیادہ فوج سوار تھی۔ جولائی 1570ء میں عثمانی فوج جزیرہ قبرص کے ساحل پر کامیابی سے اتری۔ عثمانیوں کی اس اچانک اور بھرپور چڑھائی نے وینس کے حکمرانوں کو حیرت زدہ کر دیا، اور انہوں نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے اپنے مضبوط قلعوں میں پناہ لے لی۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور فتوحات
عثمانی فوج نے جزیرے پر اترنے کے بعد سب سے پہلے نکوسیا (Nicosia) کا رخ کیا، جو جزیرے کا دارالحکومت اور ایک انتہائی مضبوط قلعہ بند شہر تھا۔ لالا مصطفیٰ پاشا نے شہر کا محاصرہ شروع کیا۔ تقریباً سات ہفتوں کے شدید محاصرے اور پے در پے حملوں کے بعد، عثمانی فوج ستمبر 1570ء میں نکوسیا کی فصیلوں کو توڑنے میں کامیاب ہو گئی اور شہر پر عثمانی پرچم لہرا دیا۔ نکوسیا کی فتح کے بعد عثمانی لشکر نے فاماگوستا (Famagusta) کا رخ کیا، جو پورے بحیرہ روم میں دفاعی لحاظ سے مضبوط ترین قلعہ مانا جاتا تھا۔ فاماگوستا کا محاصرہ اسلامی عسکری تاریخ کے طویل ترین اور کٹھن ترین محاصروں میں سے ایک ہے۔ دشمن کے گورنر مارکو انتونیو برگاڈین نے انتہائی سخت مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور عثمانی فوج پر مسلسل گولہ باری کی۔ لالا مصطفیٰ پاشا نے صبر اور عسکری مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قلعے کے نیچے سرنگیں کھدوائیں اور بارود سے اڑا کر فصیلوں کو نقصان پہنچایا۔ تقریباً دس ماہ تک جاری رہنے والے اس تاریخی محاصرے کے بعد، جب قلعے میں خوراک اور گولہ بارود کا ذخیرہ ختم ہو گیا، تو وینس کی فوج نے اگست 1571ء میں ہتھیار ڈال دیے۔
سقوطِ قبرص اور تزویراتی اثرات
فاماگوستا کی فتح کے ساتھ ہی پورے جزیرہ قبرص پر اسلامی سلطنتِ عثمانیہ کا مکمل تسلط قائم ہو گیا۔ لالا مصطفیٰ پاشا نے فتح کے بعد شہر کے گرجا گھروں کو مساجد میں تبدیل کرنے کا حکم دیا، جن میں سب سے مشہور ‘جامع لالا مصطفیٰ پاشا’ (سابقہ سینٹ نکولس کیتھیڈرل) ہے۔ عثمانیوں نے مقامی آرتھوڈوکس عیسائی آبادی کو وینس کے کیتھولک حکمرانوں کے ظلم و ستم سے نجات دلائی اور انہیں مذہبی آزادی فراہم کی۔ قبرص کی فتح سے عثمانیوں کو بحیرہ روم کے مشرق میں مکمل بالادستی حاصل ہو گئی، اور شام، مصر اور اناطولیہ کے درمیان سمندری تجارتی راستے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے۔ اس فتح نے عیسائی دنیا بالخصوص پوپ اور یورپی طاقتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
اسلامی تاریخ میں قبرص کی اہمیت اور ایمانی اسباق
قبرص کی اسلامی تاریخ بہت قدیم ہے۔ سب سے پہلے عہدِ عثمانی (حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت) میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں صحابہ کرام نے قبرص پر بحری حملہ کیا تھا، جس میں مشہور صحابیہ حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا شہید ہوئیں اور وہیں دفن ہوئیں۔ عثمانیوں کی اس فتح نے صحابہ کرام کے اس قدیم خواب کو دوبارہ تعبیر بخشی۔ اس معرکے سے یہ ایمانی سبق ملتا ہے کہ جب مسلمان حق کی سربلندی، مظلوموں کی مدد اور حرمین شریفین کے راستوں کے تحفظ کے لیے یکسو ہو کر میدان میں نکلتے ہیں، تو اللہ رب العزت کی نصرت ان کے شاملِ حال ہوتی ہے، چاہے سامنے دنیا کی کتنی ہی بڑی مادی طاقت اور مضبوط ترین قلعے کیوں نہ ہوں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- کاتب چلبی (تحفة الكبار في أسفار البحار)
- مصطفیٰ نعیمہ (تاريخ نعيمة – تاریخِ سلطنتِ عثمانیہ)
- جوزف فان ہیمر پورگشٹال (History of the Ottoman Empire)
- پروفیسر ڈاکٹر خلیل انالجک (The Ottoman Empire: The Classical Age)
- ابو الفوز محمد امین السویدی (سبائك الذهب في معرفة قبائل العرب)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
جہاد فی سبیل اللہ، اتمامِ حجت اور مظلوموں کی داد رسی کے عمومی احکام (جیسے سورۃ الانفال: 60 اور سورۃ الفتح: 1)
