معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

فتح دمشق (۱۴ ہجری)

« رجب سے شعبان ۱۴ ہجری / ستمبر ۶۳۵ء »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

فتحِ دمشق اسلامی تاریخ کا ایک ایسا سنگِ میل ہے جس نے شام پر صدیوں پر محیط بازنطینی (رومی) تسلط کا خاتمہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ خلافتِ راشدہ کے عہدِ زریں میں، خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں شام کی فتوحات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں اپنے عروج پر پہنچا۔ معرکہ اجنادین اور فحل کی فتوحات کے بعد رومی افواج نے دمشق کے مضبوط تاریخی قلعے میں پناہ لے لی۔ دمشق شام کا سب سے اہم، قدیم اور عسکری لحاظ سے محفوظ ترین شہر تھا، جس کی تسخیر کے بغیر پورے خطۂ شام پر کنٹرول حاصل کرنا ناممکن تھا۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح اور سیدنا خالد بن ولید کی قیادت میں اسلامی لشکر نے اس عظیم مہم کا آغاز کیا۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

جب مجاہدینِ اسلام دمشق کی فصیلوں کے سامنے پہنچے، تو انہوں نے پایا کہ شہر کے گرد ایک گہری خندق کھدی ہوئی ہے اور فصیل انتہائی بلند اور مضبوط ہے۔ رومی کمانڈر توماس (توما) نے دمشق کے دفاع کے لیے بھرپور تیاریاں کر رکھی تھیں۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے تزویراتی حکمتِ عملی کے تحت شہر کا محاصرہ کرنے کے لیے دمشق کے تمام اہم دروازوں پر مجاہدین کے دستے تعینات کر دیے:

  • بابِ شرقی (مشرقی دروازہ): سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جانثار دستہ۔
  • بابِ جابیہ: سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مرکزی لشکر۔
  • بابِ توما: سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کا دستہ۔
  • بابِ صغیر: سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا دستہ۔
  • بابِ فرادیس: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا دستہ۔

یہ محاصرہ کئی ماہ تک جاری رہا، جس کے دوران رومیوں نے فصیل کے اندر سے مجاہدین پر پتھر اور جلتے ہوئے کوئلے پھینکے، لیکن صحابہ کرام کے عزم و استقلال میں کوئی لغزش نہ آئی۔

معرکہ کے تفصیلی احوال اور فتح کا انوکھا واقعہ

دمشق کا محاصرہ تقریباً چھ ماہ طویل ہو گیا۔ رومیوں کو امید تھی کہ شہنشاہ ہرقل ان کی مدد کے لیے بھیجے گا، لیکن مسلمانوں نے کمالِ ہوشیاری سے ہرقل کے بھیجے گئے امدادی لشکروں کو راستے ہی میں روک کر پسپا کر دیا۔ ایک رات، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مخبروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ دمشق کے رومی بطریق (گورنر) کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی ہے اور پوری رومی فوج جشن و سرور میں مدہوش ہے۔ سیدنا خالد بن ولید نے اس تزویراتی موقع کو غنیمت جانا۔

سیدنا خالد بن ولید چند جانثاروں (بشمول قعقاع بن عمرو) کے ساتھ رات کے اندھیرے میں خندق کو تیر کر عبور کر گئے۔ انہوں نے فصیل پر کمندیں پھینکیں اور دیوار پر چڑھ کر پہرے داروں کو خاموشی سے ختم کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اندر سے بابِ شرقی کا دروازہ کھول دیا اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے لشکرِ اسلام شہر کے اندر داخل ہو گیا۔

دوسری طرف، جب رومیوں نے دیکھا کہ خالد بن ولید فصیل توڑ کر داخل ہو چکے ہیں اور اب بچنا ناممکن ہے، تو انہوں نے چالاکی کی اور بابِ جابیہ پر متعین سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر صلح کی درخواست کی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ابو عبیدہ نرم دل اور صلح پسند ہیں۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اندرونی صورتحال سے بے خبر تھے، چنانچہ انہوں نے ان کی صلح کی پیشکش قبول کر لی اور پرامن طور پر بابِ جابیہ سے داخل ہو گئے۔ دمشق کے وسط میں دونوں اسلامی لشکروں کی ملاقات ہوئی۔ ایک حصہ بزورِ شمشیر (عنوۃً) فتح ہوا تھا اور دوسرا حصہ صلح کے ذریعے (صلحاً)۔ بعد میں صحابہ کے مشورے سے پوری فتح کو صلح کا درجہ دے کر شہریوں کے حقوق اور املاک کا تحفظ کیا گیا، جو اسلامی عدل کی ایک بے مثال نظیر ہے۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

اس طویل محاصرے اور حتمی معرکے میں چند درجن مجاہدین نے شہادت کا جامِ نوش کیا، جب کہ رومیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ فتح دمشق کے تزویراتی اثرات انتہائی دور رس ثابت ہوئے:

  • شام کا سب سے بڑا مرکز مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگیا جس سے رومیوں کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔
  • شام کے دیگر شہروں (جیسے حمص، حماۃ، اور قنسرین) کی فتح کی راہ ہموار ہو گئی۔
  • مسلمانوں کے عدل و انصاف، ٹیکسوں میں کمی، اور مذہبی آزادی کے مظاہرے نے مقامی عیسائی آبادی کو مسلمانوں کا گرویدہ بنا دیا۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

فتحِ دمشق بظاہر مادی اسباب کے تحت حاصل ہوئی، لیکن اس کے پیچھے ایمان، تقویٰ، اور اللہ کی ذات پر کامل توکل کارفرما تھا۔ قرآن مجید کی سورہ آلِ عمران کی آیت: "وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ” (اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے) اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ جب بندے اللہ کی راہ میں خلوصِ دل سے کھڑے ہو جائیں، تو فرشتے بھی ان کی نصرت کرتے ہیں۔ دمشق کا واقعہ مسلمانوں کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ جنگی تدبیر، شب بیداری، اور باہمی اتحاد و اطاعتِ امیر ہی حقیقی کامیابی کی کنجی ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن جریر الطبری: تاريخ الرسل والملوك (جلد ۳، واقعات ۱۴ ہجری)
  • ابن کثیر: البداية والنهاية (جلد ۷، باب فتح دمشق)
  • الواقدی: فتوح الشام (دمشق کے محاصرے کی تفصیلات)
  • ابن الاثیر: الكامل في التاريخ

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ الروم (رومیوں کی شکست اور مسلمانوں کی فتح و نصرت کی پیشگوئی کے تناظر میں) اور عمومی آیاتِ جہاد و استقامت

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

فتح دمشق (۱۴ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: رجب سے شعبان ۱۴ ہجری / ستمبر ۶۳۵ء
میدانِ جنگ: دمشق، شام (سرزمینِ شام کا عظیم ترین قلعہ بند شہر)
لشکرِ اسلام: تقریباً ۲۰،۰۰۰ سے ۳۰،۰۰۰ مجاہدینِ اسلام
لشکرِ اعداء: تقریباً ۱۵،۰۰۰ سے ۲۰،۰۰۰ رومی فوج (قلعہ بند عساکر اور مقامی محافظین)
نتیجہ: اسلامی تاریخ کی عظیم الشان تزویراتی فتح۔ دمشق پر اسلامی پرچم لہرایا گیا اور شام میں بازنطینی (رومی) اقتدار کی جڑیں اکھڑ گئیں۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com