{
"arabic_name”: "فتح عكا (تحرير عكا وطرد الصليبيين النهائي من الشام عام 690 هـ)”,
"battle_date_hijri”: "۱۷ جمادی الاولیٰ ۶۹۰ ہجری / ۱۸ مئی ۱۲۹۱ء”,
"battle_location”: "قلعہ بند شہر عکا، ساحلِ شام (موجودہ فلسطین)”,
"battle_muslim_forces”: "تقریباً 160,000 مجاہدین (60,000 سوار اور 100,000 پیادہ دستے)”,
"battle_enemy_forces”: "30,000 سے 40,000 مسلح صلیبی نائٹس اور فوجی دستے”,
"battle_commanders”: "سلطان الاشرف صلاح الدین خلیل بن قلاوون، امیر حسام الدین لاچین، امیر سنجر الشجاعی”,
"battle_martyrs”: "حتمی تعداد نامعلوم (شدید محاصرے اور لڑائی میں ہزاروں مجاہدین شہید ہوئے)”,
"battle_enemy_casualties”: "تقریباً تمام محافظین ہلاک یا گرفتار، چند بحری راستے سے قبرص فرار ہونے میں کامیاب ہوئے”,
"battle_outcome”: "امتِ مسلمہ کی فیصلہ کن ترین تاریخی فتح (سرزمینِ شام سے صلیبیوں کا آخری اور حتمی اخراج)”,
"battle_quran_ref”: "سورۃ الاسراء (آیت: 81) اور سورۃ الانبیاء (آیت: 105)”,
"html_content”: "
تاریخی پس منظر اور اسباب
شام اور فلسطین سے صلیبی وجود کا مکمل خاتمہ تاریخِ اسلام کا ایک درخشاں باب ہے، جس کا نقطہ عروج 1291ء میں ‘فتحِ عکا’ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ عکا (Acre) صلیبیوں کا آخری سب سے بڑا اور مضبوط ترین گڑھ تھا، جہاں سے وہ پورے خطے پر دوبارہ قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کی وفات کے بعد، عکا صلیبی مملکتِ یروشلم کا عملی دارالحکومت بن چکا تھا اور عسکری و تجارتی لحاظ سے بے پناہ اہمیت کا حامل تھا۔ جنگ کا فوری سبب یہ بنا کہ عکا کے نووارد متعصب صلیبیوں نے پرامن مسلم تاجروں اور کسانوں کا سفاکانہ قتلِ عام کیا، جس پر مملوک سلطان المنصور سیف الدین قلاوون نے انتقام اور عکا کی آزادی کا عزم کیا۔ اگرچہ سلطان قلاوون کا انتقال مہم کی تیاری کے دوران ہی ہو گیا، لیکن ان کے بہادر بیٹے اور جانشین سلطان الاشرف صلاح الدین خلیل نے اپنے والد کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس عظیم جہاد کی قیادت سنبھالی۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
سلطان الاشرف خلیل نے شام اور مصر سے ایک عظیم الشان فوج تیار کی جس کی تعداد تقریباً 160,000 بتائی جاتی ہے۔ اس لشکر کے ساتھ بڑی تعداد میں وزنی منجنیقیں تھیں، جن میں سب سے بڑی منجنیق ‘المنصوری’ کہلاتی تھی۔ دوسری طرف، عکا کے قلعے میں نائٹس ٹیمپلر (Knights Templar)، نائٹس ہاسپٹلر (Knights Hospitaller) اور جیوٹونک نائٹس سمیت یورپ کے مایہ ناز اور جنونی جنگجو موجود تھے، جن کی تعداد 30,000 سے زائد تھی۔ ان کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ، خوراک اور سمندری راستے سے مسلسل کمک پہنچ رہی تھی۔ اپریل 1291ء میں مسلم افواج نے عکا کا مکمل محاصرہ کر لیا اور شہر کی مضبوط فصیلوں کے گرد خندقیں کھود کر مورچہ بندی کر لی۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور مجاہدین کی شجاعت
محاصرہ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک انتہائی شدت سے جاری رہا۔ سلطان الاشرف خلیل کی نگرانی میں مسلم منجنیقوں نے دن رات فصیلوں پر سنگ باری کی، جس سے عکا کی بیرونی دیواریں اور برج ہل کر رہ گئے۔ صلیبیوں نے کئی بار رات کے وقت مسلم کیمپوں پر اچانک حملے کیے، لیکن مسلم پہرے داروں اور مجاہدین کی چوکسی نے انہیں ہر بار ناکام بنا دیا۔ جنگ کا فیصلہ کن مرحلہ مئی کے وسط میں اس وقت آیا جب مسلمانوں نے ‘برج الملعون’ (The Accursed Tower) پر دھاوا بول دیا۔ مجاہدین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے فصیل کے نیچے بارود اور سرنگیں بچھا کر اسے اڑا دیا۔ ٹیمپلرز کے گرینڈ ماسٹر ‘گیلوم ڈی بوجیو’ (Guillaume de Beaujeu) نے مسلمانوں کو روکنے کی آخری کوشش کی لیکن وہ مجاہدین کے تیر کا نشانہ بن کر مارا گیا۔ گرینڈ ماسٹر کی ہلاکت سے صلیبیوں میں مایوسی پھیل گئی اور مسلم غازی نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے۔
صلیبیوں کا اخراج اور فتح کے تزویراتی اثرات
18 مئی 1291ء کو عکا پر مسلمانوں کا مکمل کنٹرول ہو گیا۔ ٹیمپلرز نے اپنے مضبوط قلعے (The Templar Fortress) میں پناہ لی، لیکن چند دنوں کے شدید حملوں کے بعد وہ قلعہ بھی زمین بوس ہو گیا اور تمام اندرونی مزاحمت کا خاتمہ ہو گیا۔ عکا کی اس تاریخی فتح کے بعد، شام کے ساحل پر موجود دیگر صلیبی قلعے جیسے صور (Tyre)، صیدا (Sidon)، بیروت (Beirut) اور طرطوس (Tortosa) بھی یکے بعد دیگرے بغیر کسی بڑی مزاحمت کے مسلمانوں کے قبضے میں آگئے۔ اس طرح سنہ 1099ء میں شروع ہونے والی صلیبی جنگوں کا شام و فلسطین کی سرزمین سے مکمل اور حتمی خاتمہ ہو گیا اور بیت المقدس کی حفاظت ہمیشہ کے لیے یقینی بنا دی گئی۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
عکا کی فتح مسلمانوں کے اتحاد، عسکری تیاری اور توکل علی اللہ کا نتیجہ تھی۔ یہ معرکہ قرآنِ پاک کے اس فرمان کی عملی تصویر تھا: "وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا” (اور کہہ دیجیے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے)۔ اس فتح نے ثابت کیا کہ جب مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرتے ہیں اور باطل کے خلاف اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ کی نصرت لازماً ان کے قدم چومتی ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية – جلد 13)
- المقریزی (السلوك لمعرفة دول الملوك – جلد 2)
- ابن تغری بردی (النجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة)
- ابو الفداء (المختصر في أخبار البشر)
”
}
”
}
