📖 تاریخ، پس منظر اور شہرت کا راز
قلعے کا سب سے دل دہلا دینے والا معرکہ ۱۸۴۸-۴۹ء میں برطانوی سکھ جنگ کے دوران پیش آیا جب برطانوی فوج کے توپ خانے نے قلعے کے بارود خانے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں زبردست دھماکے سے قلعے کی فصیل کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا اور ۵۰۰ سے زائد محافظ شہید ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس قلعے کے احاطے کو سرسبز باغ میں تبدیل کر دیا گیا جسے "قاسم باغ" کا نام دیا گیا۔ آج قلعے کے اندر حضرت بہاؤ الدین زکریا، شاہ رکنِ عالم، نواب مظفر خان شہید کے مزارات، دمدمہ اور تاریخی یادگاریں موجود ہیں جو ہر سال لاکھوں زائرین کا استقبال کرتی ہیں۔
