📖 تاریخ، پس منظر اور شہرت کا راز
شالامار باغ کی نہر کو پانی کی فراہمی کے لیے مغل انجینئر علی مردان خان اور ملا علاء الملک تونی نے راوی سے ۱۶۰ کلومیٹر لمبی راجباہر نہر کھدوائی تھی۔ مغل دور میں جب یہ فوارے چلتے تھے تو سنگِ مرمر کی آبشار کے نیچے چراغ رکھے جاتے تھے جن سے پانی کے گرتے قطروں میں روشنی کی قوس قزح چمک اٹھتی تھی۔ ۱۹۸۱ء میں اسے شاہی قلعے کے ساتھ یونیسکو عالمی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ ہر سال بہار کے موسم میں شالامار باغ کے باہر صوفی بزرگ مادھو لال حسین کا روایتی میلہ چراغاں سجتا ہے۔
