Sahaba (صحابی)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا مکمل نام سعد بن مالک بن اُہیب بن عبد مناف بن زہرہ ہے۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز قبیلہ بنو زہرہ سے تھا، جو کہ قریش کے اہم ترین قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کی والدہ کا نام حمنہ بنت سفیان بن امیہ تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ بنت وہب کی چچا زاد بہن تھیں۔ اس رشتے کی بنا پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کا ماموں (از قبیلہ زہرہ) ہونے کا شرف بھی حاصل تھا، جسے اکثر "خال رسول اللہ” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

آپ کے والد کا نام ابی وقاص (مالک بن اُہیب) تھا اور اسی نسبت سے آپ کو سعد بن ابی وقاص کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ کا شمار سابقون الاولون یعنی اسلام قبول کرنے والے ابتدائی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہوتا ہے۔ آپ کو عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ جنہیں رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی) میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ آپ اپنی بے مثال شجاعت، ماہر تیر اندازی اور مستجاب الدعوات (جن کی دعا اللہ فوراً قبول فرماتے ہیں) ہونے کی وجہ سے مشہور تھے۔ فارس (ایران) کی عظیم فتح میں آپ کی قیادت اور کردار کی وجہ سے آپ کو "فاتح ایران” کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی پیدائش مکہ مکرمہ میں ہوئی اور آپ نے اپنی جوانی جاہلیت کے ماحول میں گزاری۔ آپ ابتدا ہی سے نہایت ذہین اور مستقل مزاج طبیعت کے مالک تھے اور تیر اندازی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے اعلان کے بعد، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر یا بعض روایات کے مطابق ایک خواب دیکھنے کے بعد، آپ نے نہایت کم عمری میں اسلام قبول کیا۔ بعض روایات کے مطابق آپ اسلام قبول کرنے والے تیسرے یا چوتھے اور بعض کے مطابق ساتویں شخص تھے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً سترہ سال تھی۔

آپ کے قبولِ اسلام پر آپ کی والدہ حمنہ بنت سفیان کو سخت رنج ہوا۔ انہوں نے آپ کو اسلام سے باز رکھنے کے لیے ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا کہ انہوں نے کھانا پینا ترک کر دیا اور قسم کھا لی کہ وہ اس وقت تک کچھ نہ کھائیں گی نہ پئیں گی جب تک سعد اسلام سے پھر نہ جائیں۔ ان کا خیال تھا کہ والدہ کی محبت سعد کو کمزور کر دے گی اور وہ اپنی ماں کو بھوک پیاس سے مرتا دیکھ کر اسلام چھوڑ دیں گے۔ لیکن حضرت سعد رضی اللہ عنہ ایمان پر ثابت قدم رہے۔ جب ان کی والدہ نے اپنی ضد جاری رکھی تو انہوں نے فرمایا کہ "اے میری ماں! میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں، لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے میری محبت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اگر آپ کی سو جانیں بھی ہوں اور وہ سب ایک ایک کرکے میرے سامنے نکل جائیں، تو بھی میں اپنے دین سے منہ نہیں موڑوں گا۔” اس واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیات نازل فرمائیں: "اور ہم نے انسان کو اپنے والدین کے ساتھ حُسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ اور اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے کوئی علم نہیں، تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔” (سورۃ لقمان: 14-15 اور سورۃ العنکبوت: 8) یہ آیات حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے تسلی اور استقامت کا باعث بنیں۔ آپ نے مکہ کے ابتدائی دور میں شدید آزمائشوں کا سامنا کیا، مگر پائے استقلال میں ذرہ برابر بھی لغزش نہ آئی۔ آپ ان پہلے صحابہ میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اعلانیہ نماز ادا کی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اسلام کی خدمت، جہاد اور فتوحات کے لیے وقف کیا۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تقریباً تمام غزوات میں شریک ہوئے۔

  • غزوہ بدر: آپ نے اس اولین غزوہ میں داد شجاعت دی اور کفار کے مقابلے میں پامردی سے لڑے۔
  • غزوہ احد: یہ وہ غزوہ ہے جس میں آپ کی تیر اندازی کی مہارت سب سے زیادہ نمایاں ہوئی۔ جب مسلمانوں میں کچھ انتشار پیدا ہو گیا اور کفار رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچ گئے، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کمال دلیری سے آپ ﷺ کا دفاع کیا۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا: "ارم سعد فداک ابی وامی” (تیر چلاؤ سعد، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں)۔ یہ جملہ رسول اللہ ﷺ نے کسی اور صحابی کے لیے استعمال نہیں فرمایا تھا اور یہ آپ کے لیے ایک عظیم شرف اور فضیلت ہے۔
  • دیگر غزوات: آپ غزوہ خندق، صلح حدیبیہ، فتح مکہ، غزوہ خیبر اور غزوہ تبوک سمیت تمام بڑے غزوات اور مہمات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہے۔
  • ایرانی فتوحات (خلافت عمر فاروق رضی اللہ عنہ): حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اسلامی فتوحات کا دائرہ وسیع ہو رہا تھا۔ جب فارس کی طاقتور ساسانی سلطنت سے مقابلہ درپیش ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو اسلامی لشکر کا سپہ سالار مقرر فرمایا۔ یہ آپ کی سب سے بڑی فوجی کامیابی کا آغاز تھا۔
  • جنگ قادسیہ (636ء): یہ وہ تاریخی جنگ ہے جس نے فارس کی کمر توڑ دی اور اس کی عظیم سلطنت کو زوال پذیر کیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ایک چھوٹے اسلامی لشکر کے ساتھ فارس کے عظیم جرنیل رستم فرخزاد کی قیادت میں موجود لاکھوں کے لشکر کا مقابلہ کیا۔ یہ جنگ کئی دنوں تک جاری رہی اور بالآخر مسلمانوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ولولہ انگیز قیادت میں شاندار فتح حاصل کی۔ رستم مارا گیا اور فارس کی سلطنت کا غرور خاک میں مل گیا۔ یہ فتح اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔
  • فتح مدائن و کوفہ کا قیام: جنگ قادسیہ کے بعد، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے پیش قدمی جاری رکھی اور ساسانی دارالحکومت مدائن (Ctesiphon) کو فتح کیا۔ اس کے بعد آپ نے کوفہ شہر کی بنیاد رکھی، جو مسلمانوں کے لیے ایک فوجی چھاؤنی اور بعد ازاں ایک اہم علمی و ثقافتی مرکز بنا۔ آپ کوفہ کے پہلے امیر (گورنر) بھی مقرر ہوئے۔
  • دورِ عثمان اور علی رضی اللہ عنہما: حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی آپ کی قدر و منزلت برقرار رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے جن چھ صحابہ کو خلافت کے لیے نامزد فرمایا تھا، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی ان میں شامل تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان جب اختلاف پیدا ہوا، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اس فتنے سے کنارہ کشی اختیار کی اور غیر جانبداری کا راستہ اپنایا۔ آپ کا موقف تھا کہ وہ ایسے فتنے میں شریک نہیں ہوں گے جہاں مسلمان ایک دوسرے کے خلاف تلوار اٹھائیں۔

میراث اور وصال

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے طویل عمر پائی اور اپنی زندگی کا ہر لمحہ اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں گزارا۔ آپ رضی اللہ عنہ کا وصال 55 ہجری (بمطابق 675 عیسوی) میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر آپ کے اپنے محل (قصرفاق) میں ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر تقریباً 80 سال تھی۔ آپ کے جنازہ کی نماز مدینہ کے گورنر مروان بن حکم نے پڑھائی اور آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی حیات اور خدمات مسلمانوں کے لیے بے شمار سبق چھوڑ گئی ہیں۔

  • آپ عشرہ مبشرہ میں سے تھے، جنہیں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی بشارت دی۔
  • آپ کی دعا قبول ہوتی تھی، اس لیے آپ "مستجاب الدعوات” کہلاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے آپ کے لیے دعا فرمائی تھی: "اللہم سدد رمیتہ وأجب دعوتہ” (اے اللہ! اس کے تیر کو ٹھیک نشانہ پر پہنچا اور اس کی دعا قبول فرما)۔
  • آپ نے سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور بعض روایات کے مطابق سب سے پہلے اللہ کی راہ میں خون بہایا۔
  • آپ کی قائدانہ صلاحیتوں اور جنگ قادسیہ میں شاندار فتح نے اسلامی سلطنت کی بنیادوں کو مستحکم کیا اور فارس جیسے عظیم ملک کو اسلام کے سایہ تلے لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
  • آپ کی غیر جانبداری اور حکمت عملی فتنوں کے دور میں بھی مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اسلام کے عظیم ترین سپہ سالاروں اور سابقون الاولون میں سے ایک ہیں، جن کا نام ہمیشہ تاریخ اسلام میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک (تاریخ طبری)
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ
  • صحیح بخاری
  • صحیح مسلم
  • حاکم نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com