دنیا 8 نومبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 321

گلگت بلتستان کونسل ۔۔ نشتن نہ گفتن صرف برخاستن

گلگت بلتستان کونسل ۔۔ نشتن نہ گفتن صرف برخاستن

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 5:48 شام

 گلگت بلتستان گڈ گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ آڈر 2009 اور آڈر 2018 کے تحت جو صوبائی طرز کا سیٹ اپ دیا گیا تھا اس کے تحت یہ دعویٰ تھا کہ اس انتظام سے خطے کے عوام کو ایمپاور کیا جارہا ہے۔

کسی بھی مملکت میں بااختیاری کا بڑا مظہر اس کے مقتدر عوامی ادارے ہوتے ہیں جس میں اسمبلیاں اور سینٹ وغیرہ شامل ہیں۔ چونکہ گلگت بلتستان مملکت خداد کے آئینی دائرہ کار میں شامل نہیں لہذا اس کے لیے علحیدہ ایک انتظامی طریقہ کار وضع کیا گیا جس کے تحت ایک اسمبلی اور کونسل متعارف کرائی گئی ہے۔ 

1947-48 کی جنگ آزادی کے بعد سے لے کر 2009 تک الحاق پاکستان کے باوجود اس خطے کو عوامی خواہشات کے برعکس ایف سی آر اور بعد ازاں مختلف فریم ورک اور وفاقی آڈرز کے تحت چلایا گیا۔ 2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے گڈ گورننس آرڈر جاری کیا جسے بعد ازاں مسلم لیگ کی حکومت نے اسے 2018 کے آڈر میں تبدیل کیا گوکہ یہ گلگت بلتستان کی قربانی اور عوامی خواہشات کے عین مطابق نہیں ہے لیکن پھر بھی اس آڈر کے تحت ملنے والی صوبائی طرز کی اسمبلی اور کونسل کو کسی حد تک پذیرائی حاصل ہوئی۔

2009 سے لے کر 2026 تک چار بار الیکشن ہوئے اور چوتھی حکومت حال ہی میں قائم ہوئی ہے۔ گڈ گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ آڈرز کے تحت ملنے والی اسمبلی کے ارکان براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں جبکہ کچھ ٹیکنوکریٹس اور خواتین کی مخصوص نشستیں بھی موجود ہیں۔ اسمبلی کے لیے قانون سازی کا دائرہ کار بھی متعین اور محدود ہے جبکہ دوسری طرف کونسل میں ارکان کی تعداد پندرہ ہے جس میں چھ رکن گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران منتخب کرتے ہیں جب کہ چھ ممبران کا تقرر وزیر اعظم صوابدیدی اختیارات کے تحت وفاقی وزرا یا ممبران قومی اسمبلی سے کرتا ہے۔