
جزیرہ قشم سمیت جنوبی ایران کے متعدد علاقوں میں دھماکے: سرکاری میڈیا
جزیرہ قشم سمیت جنوبی ایران کے متعدد علاقوں میں دھماکے: سرکاری میڈیا
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ہفتے کی شام جنوبی ایران کے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن میں آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم بھی شامل ہے۔
ایران کے سرکاری ٹی وی نے امکان ظاہر کیا کہ ان دھماکوں کا تعلق اس اہم آبی گزرگاہ میں ایرانی فوجی سرگرمیوں سے ہو سکتا ہے، جو فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے کے بعد سے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے ان علاقوں میں کسی میزائل حملے کی تصدیق نہیں کی جب کہ نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ جزیرہ قشم میں سنے جانے والے دھماکوں کا تعلق میزائل حملوں سے نہیں تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔
ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے اتوار کی صبح بتایا کہ آبنائے میں ’غیر مجاز راستے‘ سے گزرنے کی کوشش کے دوران دو آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ پاسداران انقلاب نے جن واقعات کا حوالہ دیا، کیا ان کا تعلق جنوبی ایران کے علاقوں میں سنے جانے والے دھماکوں کی آوازوں سے ہے؟
