کراچی میں رنگوں اور روشنیوں سے سجا ’دیوالی بازار‘
کراچی میں رنگوں اور روشنیوں سے سجا ’دیوالی بازار‘
کراچی کے علاقے صدر میں آرٹس کونسل کی عمارت کے قریب یکم سے آٹھ نومبر تک سجا دیوالی بازار ان دنوں ہندو برادری کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں لوگ اپنے اہل خانہ کے ساتھ خریداری کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
رنگ برنگی روشنیوں، مٹی کے چھوٹے چھوٹے دیوں، موم بتیوں، رنگولی اور مٹھائیوں سے سجا کراچی کا دیوالی بازار ہندو برادری کو خریداری کے ساتھ اپنی مذہبی خوشیاں کھلے ماحول میں منانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں.
بازار میں چاکلیٹوں کے سٹالز بھی دکھائی دیتے ہیں جب کہ دیوالی کی مناسبت سے مختلف آرائشی اشیا بھی موجود ہیں۔ یہ بازار محض خریداری کی جگہ نہیں بلکہ ایک ایسے تہوار کی خوشیوں کو عوامی سطح پر منانے کی کوشش بھی ہے، جس کی تیاریاں ہندو خاندان کئی روز پہلے سے شروع کر دیتے ہیں۔
بازار میں رنگولی کا سامان، مٹی کے دیے، موم بتیاں، ایل ای ڈی لائٹس، لکشمی کے سٹکرز، چاکلیٹس اور دیگر آرائشی اشیا فروخت کے لیے موجود ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں اور پٹاخوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
’اقلیتوں کو خوشیاں منانے کا حق ہے‘
اس بازار کے انعقاد کا خیال پیش کرنے والے منتظم عبدالحسیب کہتے ہیں کہ پاکستان کے قومی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے اور اسی تصور نے انہیں ہندو برادری کے لیے دیوالی بازار سجانے کی ترغیب دی۔
عبدالحسیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ خود مسلمان ہیں لیکن ان کے خیال میں جس طرح مسلمانوں کے لیے عید اور چاند رات کے موقعے پر بازار اور تفریحی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، اسی طرح ہندو برادری کو بھی اپنے مذہبی تہوار کی خوشیاں منانے کا موقع ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: ’جس طرح ہم لوگ اپنی عید مناتے ہیں، اسی طرح ہندو کمیونٹی کی بھی اپنی عید ہے۔ دیوالی ان کے لیے خوشی کا تہوار ہے اور انہیں بھی حق ہے کہ اپنی خوشیاں رنگا رنگ انداز میں منائیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق مسلمانوں کی عید کے موقعے پر بازاروں میں لڑکیوں اور خواتین کے لیے مہندی، کپڑے، جوتے اور دیگر اشیا دستیاب ہوتی ہیں، جب کہ دیوالی بازار میں ہندو برادری کی مذہبی اور ثقافتی روایات سے متعلق اشیا رکھی گئی ہیں۔
عبدالحسیب کا کہنا تھا کہ دیوالی کے موقعے پر یہاں دیے، رنگولی، لکشمی کے سٹیکرز اور دیگر مذہبی و آرائشی سامان کے علاوہ بچوں کے لیے کھانے پینے کی چیزیں، پٹاخے اور رنگین دھواں پیدا کرنے والی اشیا بھی موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے دیوالی سے متعلق زیادہ تر اشیا مندروں کے اندر یا باہر فروخت ہوتی تھیں، لیکن اس بازار کے انعقاد کا مقصد ان سرگرمیوں کو مندروں سے باہر ایک کھلی عوامی جگہ پر لانا تھا، جہاں لوگ خریداری کے ساتھ تفریح بھی کر سکیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اس پیمانے پر کھلے مقام پر دیوالی بازار پہلی مرتبہ لگایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس سلسلے میں حکومتی اداروں کا تعاون بھی حاصل رہا اور شہریوں کی جانب سے بازار کو اچھا ردعمل ملا ہے۔
عبدالحسیب کا کہنا تھا کہ عوام کی بڑی تعداد بازار کا رخ کر رہی ہے اور انتظامات میں مصروفیت کے باعث وہ گزشتہ دو روز سے مناسب نیند بھی نہیں لے سکے۔
کراچی صدر میں یکم سے آٹھ نومبر 2026 تک سجا دیوالی بازار ہندو برادری کے لیے تفریح کا سبب ہے (ممتاز جمالی/انڈپینڈنٹ اردو)
