دنیا 7 نومبر 2026 ⏱ 3 min read 👁 284

’سینڈ پیپر گیٹ‘ سکینڈل کا پوری آسٹریلوی ٹیم کو علم تھا: عثمان خواجہ

’سینڈ پیپر گیٹ‘ سکینڈل کا پوری آسٹریلوی ٹیم کو علم تھا: عثمان خواجہ

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 8:33 شام

عثمان خواجہ نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ 2018 میں کیپ ٹاؤن میں پیش آنے والے ’سینڈ پیپر گیٹ‘ سکینڈل کے بارے میں آسٹریلیا کی پوری ٹیم کو معلوم تھا اور یہ کہ اس سے پہلے پورٹ الزبتھ کے ٹیسٹ میں بھی یہی حربہ استعمال کیا گیا۔

سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد کپتان سٹیو سمتھ، ان کے نائب ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ کو شرمندگی کے ساتھ وطن واپس بھیج دیا گیا تھا۔

کرکٹ آسٹریلیا کی تحقیقات میں یہی تین کھلاڑی تھے جن کے بارے میں ثابت ہوا کہ انہیں گیند سے چھیڑ چھاڑ کی اس سازش کا پیشگی علم تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

سمتھ پر ایک سال کی پابندی لگی اور انہیں کپتانی سے ہٹا دیا گیا، وارنر کو 12 ماہ کے لیے معطل کر کے تمام قائدانہ ذمہ داریوں سے محروم کر دیا گیا، جبکہ بینکرافٹ پر نو ماہ کی پابندی عائد کی گئی۔

تاہم سابق اوپنر عثمان نے، جو اس سال 88 ٹیسٹ میچوں کے بعد ریٹائر ہوئے، سڈنی مارننگ ہیرالڈ کو بتایا کہ سب کو گیند سے چھیڑ چھاڑ کا علم تھا۔

اگلے ہفتے ان کی خود نوشت کی اشاعت سے پہلے، جس کا ایک باب اسی معاملے کے لیے مخصوص ہے، انہوں نے کہا ’ہم سب کو پتا تھا۔ بلے بازوں کو بھی، گیند بازوں کو بھی اور عملے کو بھی۔ ہم سب کو۔‘

پیٹ کمنز، مچل سٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن سمیت گیند بازوں نے 2021 میں عوامی طور پر اس بات سے انکار کیا تھا کہ انہیں اس کا علم تھا۔

خواجہ نے بتایا کہ کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے بعد انہوں نے ڈریسنگ روم میں خطاب کرتے ہوئے ٹیم پر زور دیا کہ وارنر، سمتھ اور بینکرافٹ کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے سب مل کر ذمہ داری قبول کریں۔

خواجہ نے کہا ’مثالی صورتحال میں میں یہ نہیں کرنا چاہتا۔ میں نہیں چاہتا کہ میں وہ شخص بنوں جو سچ بولے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مجھے واقعی یقین تھا کہ آٹھ سال بعد تک سچ سامنے آ چکا ہو گا۔

یہ 29 مارچ، 2018 کو تیار کی گئی فائل تصاویر کا مجموعہ ہے، جس میں (بائیں جانب) اے ایف پی ٹی وی کی جاری کردہ فوٹیج سے لی گئی ایک تصویر دکھائی گئی ہے۔ اس میں سٹیو سمتھ 24 مارچ، 2018 کو کیپ ٹاؤن میں پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کر رہے ہیں، جب انہوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں گیند سے چھیڑ چھاڑ کا اعتراف کیا تھا (اے ایف پی)