دنیا 7 نومبر 2026 ⏱ 5 min read 👁 205

پاکستانی بینکوں پر سائبر حملوں کا خطرہ، عام آدمی کیا کرے؟

پاکستانی بینکوں پر سائبر حملوں کا خطرہ، عام آدمی کیا کرے؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 8:33 شام

پاکستان میں بینکنگ اور آن لائن ادائیگی کے نظام پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے سائبر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے تاہم سائبر سکیورٹی ماہر کے مطابق عام شہری چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خود کو بڑی حد تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

پاکستان کی نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ایک ایڈوائزری میں خبردار کیا ہے کہ ہیکرز مصنوعی ذہانت اور خودکار بوٹس کی مدد سے بینکنگ سسٹمز، ادائیگی کے نظام اور موبائل ایپس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

ایڈوائزری کے مطابق یہ ٹیکنالوجی سسٹمز میں سکیورٹی کی خامیاں خودکار طریقے سے تلاش کر سکتی ہے جس سے سائبر مجرم کم وقت میں زیادہ بڑے اور پیچیدہ حملے کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

عام صارف خود کو کیسے محفوظ رکھے؟

سائبر سکیورٹی کے ماہر اسد الرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ عام صارف تین بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے سائبر حملوں کے خطرات کم کر سکتا ہے۔

1۔ ذاتی اور بینکنگ معلومات محفوظ رکھیں

اسد الرحمٰن کے مطابق سائبر مجرموں کو کسی بھی کارروائی کے لیے سب سے پہلے معلومات درکار ہوتی ہیں جو وہ دو طریقوں سے حاصل کرتے ہیں۔

پہلا طریقہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر صارفین کی جانب سے خود فراہم کردہ معلومات جمع کرنا ہے جبکہ دوسرے طریقے میں مجرم فون کالز، پیغامات اور مشکوک لنکس کے ذریعے صارفین کو جال میں پھنسا کر ان سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔

ان کے مطابق صارفین کو اپنی ذاتی معلومات انٹرنیٹ پر غیر ضروری طور پر شیئر کرنے اور نامعلوم افراد کی جانب سے بھیجے گئے لنکس کھولنے سے گریز کرنا چاہیے۔

2۔ اکاؤنٹس کے سکیورٹی فیچرز فعال کریں

اسد الرحمٰن نے بتایا کہ صارفین کو اپنے بینکنگ اور دیگر آن لائن اکاؤنٹس میں دستیاب سکیورٹی اور پرائیویسی فیچرز فعال رکھنے چاہییں۔

ان میں ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن، یعنی اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے ایک سے زیادہ مراحل میں شناخت کی تصدیق، اور بیک اپ کوڈز شامل ہیں۔

ان کے مطابق ایپس میں موجود دیگر حفاظتی سہولتوں سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔

3۔ موبائل ایپس اور سسٹم اپ ڈیٹ رکھیں

اسد الرحمٰن نے صارفین کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے موبائل فون کا آپریٹنگ سسٹم اور تمام ایپس باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ کسی نامعلوم ذریعے سے ایپ انسٹال نہ کی جائے کیونکہ ایک غیر محفوظ ایپ پورے موبائل فون تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔

بینکنگ ایپ اور بینک کے ریکارڈ میں فرق کا خدشہ؟

نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی ایڈوائزری میں بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صارفین کی موبائل ایپس اور بینک کے مرکزی ریکارڈ کے درمیان معلومات کی درستگی کی جانچ کریں۔

اس کے علاوہ بینکوں کو مالی لین دین کے ریکارڈ کا آزادانہ طور پر موازنہ کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ فرق یا غیر معمولی سرگرمی کی نشاندہی ہو سکے۔

ایڈوائزری میں بینکوں اور ادائیگی کے اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے مرکزی بینکنگ سسٹمز، ادائیگی کے گیٹ ویز، ڈیجیٹل ایپس اور دیگر متعلقہ خدمات کی سکیورٹی کا جائزہ لیں۔

بینکوں کو ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن نافذ کرنے، خودکار لاگ اِن کوششوں سے تحفظ یقینی بنانے اور حساس سسٹمز تک رسائی محدود رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے حکومت کی ہدایات

ایڈوائزری میں بینکنگ شعبے کے علاوہ اہم قومی انفراسٹرکچر اور صنعتی اداروں کے لیے بھی حفاظتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

ان اداروں کو انٹرنیٹ سے منسلک آلات اور صنعتی کنٹرول سسٹمز کی سکیورٹی جانچنے، غیر ضروری ریموٹ رسائی محدود کرنے اور آئی ٹی اور آپریشنل نیٹ ورکس کو الگ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

تمام اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اے آئی اور خودکار بوٹس کے ذریعے ممکنہ حملوں سے نمٹنے کی اپنی تیاری کا جائزہ لیں، سکیورٹی ریکارڈ محفوظ رکھیں اور کسی مشتبہ واقعے کی اطلاع متعلقہ قومی سائبر سکیورٹی چینل کو دیں۔

’سائبر سکیورٹی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں‘

سائبر سکیورٹی ماہر اسد الرحمٰن کے مطابق آن لائن تحفظ حکومت، اداروں اور صارفین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اداروں کی سائبر سکیورٹی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کسی حملے کی نشاندہی اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں اور حملے کی صورت میں ان کے نظام کتنی جلدی بحال ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق حکومت کو اداروں کے سائبر سکیورٹی آڈٹ کے لیے واضح ہدایات جاری کرنی چاہییں تاکہ ان کی حفاظتی تیاری کا جائزہ لیا جا سکے۔

اسد الرحمٰن نے عام صارفین کے لیے تعلیم اور آگاہی کو سب سے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کے طریقوں سے واقف ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے حکومت کے ساتھ میڈیا، تعلیمی اداروں اور دیگر تنظیموں کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچ سکے۔