پاکستان جانے والے ایل این جی ٹینکر پر حملہ، قطر اور سعودی عرب کی مذمت
پاکستان جانے والے ایل این جی ٹینکر پر حملہ، قطر اور سعودی عرب کی مذمت
قطر اور سعودی عرب نے خلیجی پانیوں میں مبینہ طور پر پاکستان کے لیے ایل این جی لے جانے والے ایک ٹینکر پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’خطرناک اقدام‘ قرار دیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کا تحفظ خطرے میں پڑ گیا۔
بلومبرگ نے اتوار کو معاملے سے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستان نے گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب حملے سے قبل ایل این جی بردار جہاز ’المعیدہ‘ کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے ایران سے بات چیت کی تھی۔
ذرائع کے مطابق مارشل آئی لینڈز کا جہاز قطر سے ایل این جی لے کر آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہا تھا کہ جس پر حملہ کیا گیا۔
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔ ان کے مطابق واقعے سے چند گھنٹے قبل ایرانی حکام کی جانب سے جہاز کو گزرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ واقعے کے حالات کا تعین کرنے اور جہاز پر حملے کے ذمہ داروں کی شناخت کے لیے ضروری تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت خارجہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ریاست قطر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے اثاثوں کے تحفظ اور اپنے جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔‘
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ میں طویل عرصے سے ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف عالمی بحری جہازوں کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے، جس کے باعث توانائی کی ترسیل اور عالمی منڈیوں میں خلل پیدا ہوا ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے بھی قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی کی ملکیت ایل این جی بردار جہاز کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔
سعودی وزارت خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’مملکت ان تمام خلاف ورزیوں کو مسترد کرنے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتی ہے جو بحری جہاز رانی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے تحفظ اور سلامتی کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔‘
قطر نے بھی ایسے ’غیر ذمہ دارانہ اور لاپرواہ اقدامات‘ کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے علاقائی سلامتی اور استحکام پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قطری وزارت خارجہ کے مطابق توانائی بردار جہازوں کو نشانہ بنانے سے ماحولیاتی خطرات پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جس کے سمندری ماحول اور خطے کے ممالک کی آبی سلامتی پر سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
