ایران کے ساتھ دفاعی معاہدہ نہیں ہے: محسن نقوی
ایران کے ساتھ دفاعی معاہدہ نہیں ہے: محسن نقوی
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں جعمیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی ایک روز قبل تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہو رہا تھا نہ ہی وہاں پاکستان کی دفاع یا کسی اور متعلقہ موضوع پر بات چیت ہو رہی تھی۔‘
مولانا فضل الرحمن نے بدھ کو قومی اسمبلی میں ہی بات کرتے ہوئے حکومت اور خاص طور پر خواجہ آصف کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے، میٹنگ ہو رہی ہے، دفاعی وزیر اور خارجہ وزیر یہاں بیٹھے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا تھا کہ ’وہاں بھی وزارت داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے؟ اپنی عزت و مقام، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔‘
ان کی اس تقریر کے جواب میں جو سوشل میڈیا پر چھائی رہی جمعرات کو خواجہ آصف نے کہا کہ ’تہران میں جو کچھ ہو رہا تھا وہ وزارت دفاع کا مینڈیٹ نہیں تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے سمجھا کہ میں ریکارڈ پر واضح کر دوں کہ میری وہاں (تہران) ضرورت نہیں تھی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے تاہم یاد دلایا کہ وہ حالیہ دو دفاعی معاہدوں کے موقع پر موجود تھے۔ ’فیلڈ مارشل وہاں پر ایک صلح کے پیامبر بن کر پہنچے، اس کے لیے زمین ہموار کی اور وہاں سعودی اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف آئے۔ ترکی سے بھی وزیر دفاع نہیں آئے۔‘
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ’یمن اور سعودی عرب کی صورت حال بگڑ سکتی تھی مگر اسے کچھ سنبھالا دیا گیا ہے اور بات چیت اس طرف چلی ہے کہ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں یمن اور سعودی عرب سے متعلق صورت حال امن کی کی طرف بڑھے۔ ’اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ نکتہ چینی صحیح نہیں تھی۔‘
انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے الفاظ پر کہا کہ ’مجھے طعنہ دیتے ہیں کہ کچھ شرم کرو کچھ حیا کرو۔ آپ بھی تو کچھ شرم اور کچھ حیا کر لیں۔
جناب خواجہ آصف صاحب بھی تشریف فرما ہیں۔ وزیرِ دفاع! دفاعی معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے، میٹنگ ہو رہی ہے، دفاعی وزیر یہاں بیٹھا ہوا ہے، خارجہ وزیر یہاں بیٹھا ہوا ہے۔ وہاں بھی وزارتِ داخلہ کی ڈیوٹی ہوتی ہے؟ اپنی عزت و مقام، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔امیر جےیوآئی کا قومی اسمبلی میں خطاب #مولاناکی_للکار #عوام_کاسامناکرو #سنسرڈ_پارلیمنٹ_نامنظور #حلف_سےوفاداری_نبھاؤ #جمھوریت_میں_زباں_بندی_کیوں
— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) October 28, 2026
’کن کن چیزوں اور مرعات کو آپ نے پچھلے 40 سال کی سیاست میں انجوائے کیا ہے۔ دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے کیا کارنامہ انجام دیا ہے؟‘
انہوں نے کہا کہ ’مولانا کی ساری سیاست کی بنیاد مذہب پر ہے۔ میرے لیے یہ ٹھیک ہے ہونا بھی چاہیے، جن کے پاس مذہب کی فرنچائز ہو وہ سیاست کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔‘
قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی تقریر کے دوران اپوزیشن نشستوں سے ایک خاتون رکن نے بات کرنا چاہی تو خواجہ آصف نے کہا کہ ’اب مولانا کو خواتین کی حمایت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ کوئی مرد نہیں مل رہا جو دفاع کر سکے۔‘
اس سے قبل بدھ کو مولانا فضل الرحمن نے قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں بدنام کیا گیا کہ یہ تو دہشت گردی کو سپورٹ کر رہے ہیں، یہ تو دہشت گردی کا ساتھ دے رہے ہیں۔ بھئی، دہشت گردی کے خلاف عوام میں اگر کوئی جنگ لڑی ہے تو میں نے لڑی ہے۔‘
’آپ مجھے طعنہ دے رہے ہیں؟ میں اگر اس محاظ پر آپ کے ساتھ نہ ہوتا تو آج آپ اڑ چکے ہوتے، نظر بھی نہ آتے۔ لیکن ہم ملک میں آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں، ہم پارلیمانی جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔‘
ایران کے ساتھ دفاعی معاہدہ نہیں ہے: محسن نقوی
بعد ازاں وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو ہی سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ تاثر دینا کہ (ایران کے ساتھ) یہ دفاعی معاہدہ تھا، حالاں کہ یہ سرے سے دفاعی معاہدہ تھا ہی نہیں۔‘
محسن نقوی نے کہا کہ ان کے ایران کے دورے ذاتی خواہش پر نہیں بلکہ وزیر اعظم کی جانب سے سونپی گئی خصوصی ذمہ داریوں کے تحت ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم نے ایران سے متعلق اہم ذمہ داریاں دی ہیں، جن کا تعلق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے ہے۔
وزیر داخلہ نے جمعیت علمائے اسلام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس جماعت نے ’اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کیا۔‘
محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے لیے ریاست اس وقت تک ماں کی طرح ہے جب تک وہ اسے نچوڑ کر خالی نہیں کر دیتے۔ ریاست اس وقت تک بہت اچھی ہے جب تک وہ اس سے دولت نکال سکتے ہیں، لیکن جب انہیں ریاست اور حکومت میں حصہ نہیں ملتا تو وہ ریاست پر تھوکتے ہیں۔ کہیں بھی یہ رویہ مناسب نہیں۔‘
کامران مرتضیٰ نے ایک بار پھر مداخلت کرتے ہوئے محسن نقوی کے الفاظ پر اعتراض کیا، جس پر محسن نقوی نے جواب دیا کہ ایک روز قبل دوسری جانب سے بھی اسی طرح کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے۔
شور شرابے کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے عابد شیر علی بھی کھڑے ہوگئے اور بلند آواز میں جواب دینے لگے، جس پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے مداخلت کی۔
اس کے بعد محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’یہی لوگ (جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما) گورنر راج نافذ ہونے سے پہلے ہمارے پاس آیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گورنر راج نافذ کریں، ہمیں ان سے نجات دلائیں۔ جو لوگ آپ کے پاس آکر بیٹھتے ہیں اور اپوزیشن کرتے ہیں، وہ دل سے چاہتے تھے کہ گورنر راج نافذ ہو۔ میں یہ بات آپ کو ثابت کرکے دکھاؤں گا۔‘
وزیر داخلہ نے جمعیت علمائے اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’اب آپ کو ریاست میں نوکریاں نہیں ملیں گی۔ اب آپ کو ریاست سے پیسے نہیں ملیں گے اور نہ ہی ریاست کی طرف سے ٹکٹ ملیں گے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمعیت علمائے اسلام مسلسل حد سے تجاوز کر رہی ہے اور اگر اس نے یہ سلسلہ جاری رکھا تو اسے جواب بھی ملے گا۔
