شاعری ہب / غزل / وفا کا نام زمانے سے مٹ گیا شاید

وفا کا نام زمانے سے مٹ گیا شاید

Wafa ka Naam Zamane se Mit Gaya Shayad Safi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وفا کا نام زمانے سے مٹ گیا شاید

پر ہم نے اپنے دل کو وفا کا گہوارہ بنا رکھا ہے!

لوگوں نے تو اپنے فائدے کی خاطر رشتے نبھائے

پر ہم نے بے لوث محبت کو شیوہ بنا رکھا ہے!

صفیؔ سچائی کی قیمت چکانی ہی پڑتی ہے

جسے ہم نے اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا ہے!

Wafa Ka Naam Zamane Se Mit Gaya Shayad

Par Hum Ne Apne Dil Ko Wafa Ka Gehwaara Bana Rakha Hai!

Logon Ne To Apne Faayede Ki Khaatir Rishte Nibhaaye

Par Hum Ne Be-Laus Mohabbat Ko Shewa Bana Rakha Hai!

Safi Sacchayi Ki Qeemat Chukaani Hi Padti Hai

Jise Hum Ne Apni Zindagi Ka Maqsad Bana Rakha Hai!

غزل Urdu
Comment
ابنِ صفی
تعارفِ شاعر

ابنِ صفی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 26 جولائی 1928 — 26 جولائی 1980 📍

اسرار احمد المعروف ابنِ صفیؔ (26 جولائی 1928ء – 26 جولائی 1980ء) برصغیر پاک و ہند کے سب سے عظیم جاسوسی ناول نگار (خالقِ فریدی، حمید اور علی عمران) ہونے کے ساتھ ساتھ اردو غزل...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے