خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امیر البحر غازی عروج بربروس پاشا تقریباً 1474ء (879ھ) میں جزیرہ مِدلّی (موجودہ لیسبوس، یونان) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد یعقوب آغا ایک عثمانی سپاہی (سپاہی آقنجی) تھے جنہوں نے اس جزیرے کی فتح میں حصہ لیا اور وہیں سکونت اختیار کی۔ عروج پاشا کے چار بھائی تھے: اسحاق، خضر (جو بعد میں خیر الدین بربروس کہلائے) اور الیاس۔ عروج پاشا نے بچپن ہی سے بحری تجارت اور جہاز رانی سیکھی۔ وہ عربی، ترکی، یونانی، اطالوی اور ہسپانوی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ابتدائی دور میں وہ اپنے بھائی الیاس کے ساتھ بحری تجارت کرتے تھے، لیکن ایک بحری معرکے میں سینٹ جان کے نائٹس (صلیبی جنگجوؤں) نے ان پر حملہ کر دیا، جس میں الیاس شہید ہو گئے اور عروج پاشا کو قیدی بنا کر روڈس جزیرے پر غلام بنا لیا گیا۔ دو سال کی سخت قید کے بعد وہ دلیری سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور دوبارہ سمندر کا رخ کیا۔
جہادی زندگی اور اندلسی مسلمانوں کی امداد
قید سے آزادی کے بعد عروج پاشا نے مملوک سلطنت اور پھر تونس کے حفصی حکمران ابو عبد اللہ محمد المتوکل کے ساتھ معاہدہ کر کے جزیرہ جربہ کو اپنا مرکز بنایا۔ یہ وہ دور تھا جب اندلس (اسپین) میں مسلمانوں کا سقوط ہو چکا تھا اور عیسائی حکمران اندلسی مسلمانوں (موریسکوس) کا قتل عام کر رہے تھے۔ عروج پاشا اور ان کے بھائی خضر نے اپنے بحری بیڑے کے ذریعے ہسپانوی بحریہ کا مقابلہ کیا اور ہزاروں بے گناہ ہسپانوی مسلمانوں اور یہودیوں کو بچا کر شمالی افریقہ منتقل کیا۔ اس عظیم ہمدردی اور مدد کی وجہ سے مظلوم اندلسی مسلمان انہیں محبت سے "بابا عروج” (پانی کی لہروں کا باپ یا نجات دہندہ باپ) کہتے تھے۔ یہی لفظ مغربی زبانوں میں بگڑ کر "بربروسا” (سرخ داڑھی والا) بن گیا کیونکہ عروج پاشا کی داڑھی سرخ رنگ کی تھی۔
نمایاں کارنامے، فتحِ الجزائر اور فضائل
عروج پاشا نے شمالی افریقہ کو ہسپانوی استعمار سے بچانے کے لیے تاریخی مہمات شروع کیں۔ انہوں نے 1512ء میں بجایہ پر حملہ کیا جہاں وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کا ایک بازو کٹ گیا، لیکن انہوں نے حوصلہ نہ ہارا اور مصنوعی بازو لگا کر دوبارہ میدانِ کارزار میں اترے۔ انہوں نے ہسپانوی قبضے سے جیجل اور پھر 1516ء میں الجزائر کو آزاد کرایا۔ الجزائر کے مقامی لوگوں کی درخواست پر انہوں نے وہاں کی حکومت سنبھالی اور پہلی بار الجزائر کو ایک منظم اسلامی ریاست کی شکل دی اور عثمانی خلافت سے الحاق کا اعلان کیا۔ انہوں نے سلطان سلیم اول کو وفاداری کا پیغام بھیجا، جنہوں نے عروج پاشا کو الجزائر کا گورنر اور بحیرہ روم کا امیر البحر مقرر کیا۔ ان کی بہادری، تقویٰ، اور کٹی ہوئی دائیں آستین کے ساتھ میدانِ جنگ میں لڑنا دشمنوں کے دلوں پر رعب طاری کر دیتا تھا۔
شہادت اور تاریخی میراث
1518ء (924ھ) میں ہسپانوی سلطنت نے ایک بہت بڑا لشکر تلمسان (الجزائر کا ایک شہر) پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے بھیجا۔ عروج پاشا اپنے چند سو ساتھیوں کے ساتھ قلعے میں محصور ہو گئے۔ انہوں نے تلمسان کا دفاع کرتے ہوئے دشمن کی کثیر تعداد کا پامردی سے مقابلہ کیا۔ جب وہ پیچھے ہٹنے لگے تو ان کے کچھ ساتھی پیچھے رہ گئے۔ عروج پاشا دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے واپس اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے پہنچے اور انتہائی بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ ہسپانوی کمانڈر نے ان کی لاش سے سر الگ کر کے اپنی فتح کے جشن کے طور پر اسپین بھیجا۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بھائی خیر الدین بربروس نے ان کے مشن کو جاری رکھا۔ عروج بربروس کو تلمسان کی تاریخی مسجد سیدی بومدین کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ وہ آج بھی عالمِ اسلام بالخصوص الجزائر اور ترکی میں ایک عظیم قومی اور مذہبی ہیرو کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- کاتب چلیبی (تحفة الكبار في أسفار البحار – عثمانی بحری تاریخ کا مستند ترین ماخذ)
- ابن ابی دینار القیروانی (المؤنس في أخبار إفريقية وتونس – شمالی افریقہ کی تاریخ)
- احمد بن خالد الناصری (الاستقصا لأخبار دول المغرب الأقصى)
- خیر الدین بربروس پاشا (مذكرات خير الدين بربروس – سوانح و مہمات)
- ڈاکٹر علی محمد الصلابی (دولة العثمانية: عوامل النهوض وأسباب السقوط)
مبارک اقوال و ارشادات
ہم سمندروں میں اپنی جانیں اللہ کے دین کی سربلندی اور مظلوم مسلمانوں کی حفاظت کے لیے قربان کرتے ہیں۔
جب تک ہماری رگوں میں خون کا آخری قطرہ باقی ہے، عیسائی صلیبیوں کو بحیرہ روم میں مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے نہیں دیں گے۔
اگر ہم حق کی راہ میں لڑتے ہوئے مارے گئے تو ہم شہید ہیں، اور اگر بچ گئے تو غازی ہیں، دونوں صورتوں میں جیت ہماری ہی ہے۔
