انبیائے کرام و رسل علیہم السلام

سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام (صدیق مصر)

« يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم عليه السلام »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سیدنا یوسف علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر ہیں۔ آپ کا نسبی شرف یہ ہے کہ آپ کے والد سیدنا یعقوب، دادا سیدنا اسحاق اور پڑدادا سیدنا ابراہیم علیہم السلام سب اللہ کے برگزیدہ رسول تھے۔ نبی کریم ﷺ نے آپ کو ‘الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم’ کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ آپ کنعان (موجودہ فلسطین) میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں آپ نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں، جس کی تعبیر آپ کے والد نے یہ بتائی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بلند مرتبہ اور نبوت عطا فرمائے گا۔ آپ کے حسنِ جمال اور بے پناہ صلاحیتیوں کی وجہ سے سیدنا یعقوب علیہ السلام آپ سے بے پناہ محبت کرتے تھے، جو آپ کے سوتیلے بھائیوں کے لیے حسد کا باعث بنی۔

ابتلاء و آزمائش اور قیدِ تنہائی

بھائیوں نے حسد کے مارے آپ کو کنوئیں (الجب) میں پھینک دیا اور والد سے جھوٹ بولا کہ انہیں بھیڑیا کھا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور ایک قافلے نے آپ کو کنوئیں سے نکال کر مصر کے بازار میں معمولی قیمت پر فروخت کر دیا۔ مصر کے وزیر خزانہ (عزیزِ مصر) نے آپ کو خرید لیا۔ وہاں آپ کو زلیخا (عزیزِ مصر کی بیوی) کے فتنہ اور آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ نے کمالِ تقویٰ اور عصمت کا ثبوت دیتے ہوئے گناہ پر قید خانے کو ترجیح دی اور کئی سال قیدِ تنہائی میں گزارے۔ قید خانے میں بھی آپ نے دعوتِ توحید کا کام جاری رکھا اور قیدیوں کے خوابوں کی سچی تعبیریں بتائیں۔

اقتدارِ مصر، معاشی اصلاحات اور حسنِ تدبیر

مصر کے بادشاہ نے ایک عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر بتانے سے تمام درباری قاصر رہے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے جیل سے اس خواب کی بالکل درست تعبیر بتائی اور آنے والے سات سالہ خوفناک قحط سے بچنے کی تدبیر بھی پیش کی۔ بادشاہ آپ کی علم و حکمت کا گرویدہ ہو گیا اور آپ کو باعزت رہا کر کے مصر کی زمین کے تمام خزانے اور معاشی اختیارات آپ کے سپرد کر دیے۔ سیدنا یوسف علیہ السلام نے بحیثیت ‘عزیزِ مصر’ زبردست معاشی اصلاحات نافذ کیں، غلہ ذخیرہ کیا اور نہ صرف مصر بلکہ اطراف کے ممالک کو بھی قحط کے ہولناک اثرات سے بچایا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

قحط کے دوران جب آپ کے بھائی غلہ لینے مصر آئے، تو آپ نے انتہائی حکیمانہ تدبیر سے خود کو ظاہر کیا، انہیں معاف فرمایا اور اپنے پورے خاندان (بنو اسرائیل) کو کنعان سے مصر بلا لیا۔ یوں طویل جدائی کے بعد سیدنا یعقوب علیہ السلام سے آپ کا تاریخی ملاپ ہوا۔ آپ نے طویل عرصے تک مصر پر عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کی اور توحید کی دعوت کو عام کیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر مبارک تقریباً 110 سال تھی۔ آپ کی وصیت کے مطابق، بعد میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام آپ کے تابوتِ مبارک کو مصر سے نکال کر فلسطین لے گئے، جہاں آپ کو آپ کے اجداد کے پہلو میں الخلیل (حبرون) میں دفن کیا گیا۔ آپ کی زندگی صبر، عفت، عفو و درگزر اور معاشی انتظام کار کی لازوال تاریخ ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن کثیر (البدایہ والنہایہ – قصص الانبیاء)
  • امام طبری (تاریخ الرسل والملوک)
  • ابن اثیر (الکامل فی التاریخ)
  • حافظ ابن حجر عسقلانی (فتح الباری شرح صحیح البخاری)

مبارک اقوال و ارشادات

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ (اے میرے رب! مجھے قید خانہ اس کام سے زیادہ پسند ہے جس کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں)

إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (بیشک جو تقویٰ اور صبر اختیار کرے، تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا)

لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أرحم الراحمين (آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے)

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام (صدیق مصر)

لقب و کنیت: کنیت: ابو یعقوب | القاب: الصدیق، جمیل القدر، عزیزِ مصر، الکریم بن الکریم بن الکریم بن الکریم
قبیلہ: بنو اسرائیل (آلِ اسحاق علیہ السلام)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 1600 قبل مسیح (عہدِ قدیم) - وصال تاریخی مآخذ کے مطابق طویل عہدِ حکومت کے بعد ہوا
مقام تدفین: مصر میں دریائے نیل میں (پہلی تدفین)، بعد ازاں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں الخلیل (حبرون)، فلسطین میں منتقل کیا گیا
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com