خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
شمس الدین محمد بن ابی طالب انصاری دمشقی، جو اسلامی تاریخ میں ‘شیخ الربوہ’ اور ‘الدمشقی’ کے نام سے مشہور ہیں، دمشق (شام) میں 654 ہجری (بمطابق 1256ء) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مدینہ منورہ کے معزز قبیلہ بنو خزرج (انصار) سے تھا، جس کا ایک علمی خاندان ہجرت کر کے شام کے دارالحکومت دمشق میں آباد ہو گیا تھا۔ ان کی پرورش دمشق کے ایک علمی اور روحانی ماحول میں ہوئی۔ بچپن ہی سے انہوں نے اسلامی علوم، خاص طور پر فقہ، حدیث، اور کلام کی تعلیم حاصل کی، اور ساتھ ہی ساتھ تصوف کی راہ اختیار کی، جس کی وجہ سے انہیں ‘الصوفی’ بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے دمشق کے مایہ ناز علماء سے اکتسابِ فیض کیا اور اپنی ذہانت و فطانت کی بدولت جلد ہی علمی حلقوں میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔
علمی خدمات، جغرافیاوی کارنامے اور تصانیف
علامہ دمشقی کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی مایہ ناز تصنیف ‘نخبة الدهر في عجائب البر والبحر’ (زمانہ کا انتخاب، خشکی اور تری کے عجائبات کے بیان میں) ہے۔ یہ کتاب قرونِ وسطیٰ کے اسلامی جغرافیہ، طبعی سائنس اور کائناتیات (Cosmography) کا ایک بے مثال انسائیکلوپیڈیا مانی جاتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف شام، فلسطین، جزیرہ نما عرب اور مصر کے جغرافیائی حالات، دریاؤں، پہاڑوں اور شہروں کی تفصیلات درج کیں، بلکہ سمندروں کے تغیرات، زلزلوں کے اسباب، معدنیات کی کیمسٹری اور مختلف بلاد کے نباتات و حیوانات پر بھی سیر حاصل بحث کی۔ انہوں نے زمین کی گولائی (Spherical Earth) اور فلکیاتی اصولوں کو تفصیلاً بیان کیا اور اس دور کی سائنسی ایجادات اور انسانی تہذیبوں کی تاریخ کو قلمبند کیا۔ ان کی تحریریں مشاہدے اور عقلی دلائل پر مبنی تھیں، جو انہیں اپنے دور کے دیگر مصنفین سے ممتاز کرتی ہیں۔
نمایاں علمی مقام، افکار اور فضائل
شمس الدین الدمشقی محض ایک جغرافیہ نگار نہیں تھے، بلکہ وہ علمِ کلام اور تقابلِ ادیان پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے نظریات پر مدلل تنقید کی اور اسلام کے عقلی دفاع میں اہم مقالات تحریر کیے۔ صوفیانہ مزاج رکھنے کے باعث ان کی علمی تحقیقات میں خالقِ کائنات کی عظمت اور کائنات کی تخلیق میں کارفرما حکمتِ الہیٰ کا پہلو نمایاں رہتا تھا۔ انہوں نے دمشق کی مشہور درسگاہ ‘الربوہ’ میں تدریس کے فرائض سرانجام دیے، اسی مناسبت سے انہیں ‘شیخ الربوہ’ کہا جاتا ہے۔ ان کے علمی مقام کا اعتراف ان کے ہم عصر علماء نے بھی کیا، جن میں امام ابن تیمیہ اور امام ذہبی کے معاصرین شامل ہیں۔ ان کا اندازِ تحریر نہایت سلیس، دلکش اور علمی وقار سے بھرپور تھا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
زندگی کے آخری حصے میں علامہ دمشقی دمشق سے صفد (فلسطین) منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنے آخری ایام علمی سرگرمیوں اور عبادت و ریاضت میں گزارے۔ ان کا وصال 727 ہجری (بمطابق 1327ء) میں صفد کے مقام پر ہوا اور وہیں ان کی تدفین عمل میں آئی۔ ان کا علمی ورثہ آج بھی جغرافیہ اور اسلامی سائنس کی تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی کتاب ‘نخبة الدهر’ کے متعدد یورپی زبانوں (جیسے فرانسیسی اور جرمن) میں تراجم ہوئے، جس نے جدید جغرافیہ اور علومِ ارضیات کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة، جلد 4)
- صلاح الدین الصفدی (الوافي بالوفيات، تذکرہ شمس الدین الدمشقی)
- امام شمس الدین الذہبی (تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام)
- جلال الدین السیوطی (حسن المحاضرة في تاريخ مصر والقاهرة)
مبارک اقوال و ارشادات
زمین گول ہے اور پانی اس کے کناروں اور اعماق کو اس طرح گھیرے ہوئے ہے جیسے پیاز کا چھلکا پیاز کو محیط ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سمندروں اور خشکی کے عجائبات میں اپنی ربوبیت کی ایسی نشانیاں رکھی ہیں جو عقلِ انسانی کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔
