خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان محمد بن تغلق (پیدائشی نام: ملک جونا خان) سلطنتِ دہلی کے تغلق خاندان کے دوسرے نامور حکمران تھے۔ وہ اپنے والد سلطان غیاث الدین تغلق کے عہد میں ولی عہد مقرر ہوئے اور فنونِ حرب و سیاست کی کڑی تربیت حاصل کی۔ ان کی ولادت دکن کی مہمات کے دوران ہوئی۔ بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور یادداشت کے مالک تھے۔ انہوں نے نہ صرف روایتی علوم جیسے فقہ، حدیث اور تفسیر پر عبور حاصل کیا بلکہ فلسفہ، منطق، فلکیات، طب اور ریاضی جیسے عقلی علوم میں بھی کمال حاصل کیا۔ وہ عربی اور فارسی زبان کے قادر الکلام ادیب اور فصیح بیان خطیب تھے۔
تخت نشینی اور انقلابی علمی اصلاحات
اپنے والد کے انتقال کے بعد 725 ھ (1325ء) میں محمد بن تغلق تختِ دہلی پر متمکن ہوئے۔ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں کئی ایسے انقلابی اور جرات مندانہ اقدامات اٹھائے جو ان کے عہد سے بہت آگے کے تھے۔ ان میں سب سے مشہور دارالخلافہ کی دہلی سے دولت آباد (دکن) منتقلی تھی، جس کا مقصد وسیع ہندوستانی سلطنت کو مرکزیت فراہم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے چاندی کے سکوں کی قلت پر قابو پانے کے لیے تانبے اور پیتل کی علامتی کرنسی (Token Currency) رائج کی، جو دنیا کی تاریخ میں مالیاتی اصلاحات کی ایک ابتدائی اور اہم ترین کوشش مانی جاتی ہے۔ تاہم، تانبے کی آسان دستیابی اور جعل سازی کے تدارک کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ سکیم ناکام ہو گئی۔
مذہبی رجحانات، علمی شغف اور سیرت
سلطان محمد بن تغلق کے کردار پر مورخین کے مابین شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ وہ ایک طرف انتہائی عابد، زاہد، باوضو رہنے والے اور شریعت کے سخت پابند مسلم حکمران تھے، تو دوسری طرف باغیوں اور شریعت کے باغیوں کے لیے نہایت سخت گیر اور جابر تھے۔ انہوں نے ابن تیمیہ کے افکار اور فکرِ فلسفہ کا گہرا مطالعہ کر رکھا تھا۔ وہ ہر شب علماء اور فقہاء کی محفلیں سجاتے اور علمی مباحثوں میں خود حصہ لیتے۔ مشہور مراکشی سیاح ابن بطوطہ، جو ان کے دربار میں برسوں قاضی رہے، سلطان کی بے پناہ سخاوت اور شاندار علمی قابلیت کی تعریف کرتے ہوئے ان کے دربار کو علم کا گہوارہ قرار دیتے ہیں۔
وفات اور تاریخی میراث
سلطان محمد بن تغلق کے آخری ایام سلطنت کے مختلف حصوں میں اٹھنے والی بغاوتوں کو کچلنے میں گزرے۔ گجرات اور سندھ کی مہمات کے دوران، وہ تھٹہ (سندھ) کے قریب سخت بیمار ہوئے اور 21 محرم 752 ھ کو انتقال کر گئے۔ ان کی وفات پر مشہور مورخ عبد القادر بدایونی نے لکھا: "سلطان کو اپنی رعایا سے اور رعایا کو اپنے سلطان سے نجات مل گئی۔” ان کے بعد ان کے چچازاد بھائی فیروز شاہ تغلق تخت نشین ہوئے۔ ان کی وفات سے تغلق سلطنت کا سنہرا دور روبہ زوال ہو گیا، لیکن برصغیر کی تاریخ میں ان کا نام ایک مصلح، فلسفی اور عظیم جرنیل کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ضیاء الدین برنی (تاریخ فیروز شاہی)
- ابن بطوطہ (عجائب الاسفار فی غرائب الدیار / رحلہ ابن بطوطہ)
- عبد القادر بدایونی (منتخب التواریخ)
- ابن حجر عسقلانی (الدرر الکامنة فی أعیان المائة الثامنة)
- احمد بن یحییٰ بن فضل اللہ العمری (مسالک الأبصار فی ممالک الأمصار)
مبارک اقوال و ارشادات
سلطنت کی بقا عدل اور سختی کے حسین امتزاج میں پوشیدہ ہے، رعایا کی اصلاح کے لیے تعزیر ناگزیر ہے۔
علم حاصل کرو کیونکہ علم کے بغیر حکمرانی تاریکی میں بھٹکنے کے مترادف ہے۔
