خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان غیاث الدین تغلق، جن کا اصل نام غازی ملک تھا، دہلی کے مشہور تغلق خاندان کے بانی ہیں۔ ان کے والد جازی بک ایک ترک غلام تھے جو سلطان غیاث الدین بلبن کے دربار سے وابستہ تھے، جبکہ ان کی والدہ کا تعلق پنجاب کے ایک معزز جٹ گھرانے سے تھا۔ غازی ملک نے نہایت کسمپرسی کی حالت سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور اپنی عسکری صلاحیتوں کے بل بوتے پر ترقی کی منازل طے کیں۔ سلطان علاء الدین خلجی کے دورِ حکومت میں انہیں دیپالپور کا گورنر اور سلطنت کی مغربی سرحدوں کا محافظ مقرر کیا گیا۔ انہوں نے سلطنت دہلی پر بارہا حملہ آور ہونے والے سفاک منگولوں کے خلاف 29 تاریخی معرکے لڑے اور ہر بار انہیں عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔ اسی غیر معمولی بہادری کی بنا پر انہیں ‘الملک الغازی’ (فاتحِ منگول) کا خطاب ملا۔
تخت نشینی اور سیاسی و عسکری خدمات
سلطان علاء الدین خلجی کے انتقال کے بعد دہلی سلطنت انتشار کا شکار ہو گئی۔ خلجی خاندان کے آخری تاجدار قطب الدین مبارک شاہ کو ان کے ہندو نومسلم وزیر خسرو خان نے قتل کر دیا اور خود تخت پر قابض ہو گیا۔ خسرو خان کے دور میں دہلی میں اسلامی تشخص مجروح ہونے لگا، جس پر غازی ملک نے علمِ جہاد بلند کیا۔ انہوں نے ہندوستان کے دیگر مسلم امراء کو مکتوب لکھ کر اسلام کی سربلندی اور خلجی خاندان کے انتقام کے لیے اکٹھا کیا۔ سن 1320ء میں غازی ملک نے ایک خونریز معرکے میں خسرو خان کو شکست فاش دی اور دہلی پر دوبارہ اسلامی پرچم لہرایا۔ چونکہ خلجی خاندان کا کوئی وارث زندہ نہیں بچا تھا، اس لیے امراء اور مشائخِ وقت کے متفقہ فیصلے کے تحت غازی ملک کو ‘سلطان غیاث الدین تغلق شاہ’ کے لقب سے تختِ دہلی پر بٹھایا گیا۔
نمایاں کارنامے، عدل و انصاف اور فلاحی کام
سلطان غیاث الدین تغلق نے تخت نشین ہوتے ہی سلطنت میں امن و امان بحال کیا۔ انہوں نے علاء الدین خلجی کے دور کے سخت ترین مالیاتی قوانین کو نرم کیا اور کسانوں کے حق میں انقلابی زرعی اصلاحات نافذ کیں۔ انہوں نے حکم دیا کہ لگان (ٹیکس) میں یکدم اضافہ نہ کیا جائے بلکہ اسے تدریجی اور قابلِ برداشت حد تک (کل پیداوار کا دسواں یا گیارہواں حصہ) رکھا جائے۔ انہوں نے آبپاشی کے لیے نہریں کھدوائیں، کنویں بنوائے اور باغات لگوائے جس سے زراعت کو زبردست فروغ ملا۔ غیاث الدین تغلق نے مواصلات اور ڈاک کے نظام (بريد) کو انتہائی جدید اور تیز رفتار بنایا۔ انہوں نے دہلی کے قریب ایک مضبوط قلعہ بند شہر ‘تغلق آباد’ کی بنیاد رکھی۔ تاریخ میں انہیں ایک انتہائی پارسا، نمازِ باجماعت کے پابند، اور منصف مزاج حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے شراب نوشی اور بیہودہ رسومات پر سختی سے پابندی عائد کی۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سلطان غیاث الدین تغلق کا وصال فروری 1325ء (ربیع الاول 725ھ) میں ایک ناگہانی واقعے میں ہوا۔ وہ بنگال کی کامیاب مہم سے واپس لوٹ رہے تھے کہ ان کے استقبال کے لیے افغان پور (دہلی کے قریب) میں لکڑی کا ایک عظیم الشان محل تیار کیا گیا تھا۔ جب ہاتھیوں کی پریڈ کے دوران لکڑی کا چبوترہ ہلا تو پورا محل گر پڑا، جس کے ملبے تلے دب کر سلطان اور ان کا چھوٹا بیٹا موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ بعض مورخین نے اسے ان کے بیٹے جونا خان (سلطان محمد بن تغلق) کی سازش قرار دیا جبکہ دیگر کے نزدیک یہ محض ایک حادثہ تھا۔ ان کا شاندار مقبرہ تغلق آباد کے قلعے میں واقع ہے جو آج بھی ان کی عظمت کا عکاس ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا بیٹا محمد بن تغلق تخت نشین ہوا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ضیاء الدین برنی (تاریخِ فیروز شاہی)
- ابن بطوطہ (عجائب الاسفار / رحلہ ابن بطوطہ)
- امیر خسرو دہلوی (تغلق نامہ)
- محمد قاسم فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
- عبد القادر بدایونی (منتخب التواریخ)
مبارک اقوال و ارشادات
رعایا پر ٹیکس کا بوجھ اس قدر متوازن ہونا چاہیے کہ وہ نہ تو اتنے امیر ہو جائیں کہ باغی بن جائیں، اور نہ ہی اتنے مفلس ہوں کہ زراعت اور کاروبار چھوڑ بیٹھیں۔
سلطنت کی بقا اور ترقی کا راز عدل و انصاف کی بلا تفریق فراہمی اور کسانوں کی خوشحالی میں پنہاں ہے۔
