خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطانہ رضیہ سلطانہ (پہلی مسلم خاتون فرمانروا)

« رضية بنت شمس الدين إيلتتمش التركية »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطانہ رضیہ کی ولادت 1205ء (601 ھ) کے لگ بھگ دہلی کے مقتدر مسلم حکمران سلطان شمس الدین التمش کے ہاں ہوئی۔ وہ خاندانِ غلاماں کی چشم و چراغ تھیں، جو اپنی بہادری، فراست اور عسکری صلاحیتوں کے باعث ممتاز تھا۔ التمش نے اپنی بیٹی کی غیر معمولی ذہانت کو بھانپتے ہوئے اسے روایتی نسوانی امور کے ساتھ ساتھ شہسواری، شمشیر زنی، تیر اندازی اور سیاست و انتظامِ سلطنت کی اعلیٰ تعلیم و تربیت فراہم کی۔ رضیہ نے کم عمری ہی میں سیاسی بصیرت کا لوہا منوا لیا تھا، یہی وجہ تھی کہ التمش اپنے بیٹوں کی نااہلی سے مایوس ہو کر رضیہ کو اپنا جانشین نامزد کرنے پر مجبور ہوئے۔

تخت نشینی اور طرزِ حکومت

سلطان التمش کی وفات کے بعد درباری سازشوں کے تحت رضیہ کے سوتیلے بھائی رکن الدین فیروز کو تخت پر بٹھایا گیا، لیکن اس کی نااہلی کے باعث سلطنت میں انتشار پھیل گیا۔ رضیہ نے کمالِ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہلی کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے موقع پر سرخ لباس (جو اس دور میں انصاف کا مظہر تھا) پہن کر عوام سے مخاطب ہو کر اپنا حقِ خلافت مانگا۔ دہلی کے عوام اور فوج نے ان کا بھرپور ساتھ دیا، اور یوں 1236ء میں وہ سلطنتِ دہلی کے تخت پر جلوہ افروز ہوئیں۔ انہوں نے مردانہ لباس زیب تن کیا، پردے کی رسم کو ترک کیا، اور دربارِ عام میں خود امورِ سلطنت چلانے لگیں، جس سے ان کی جرأت اور غیر روایتی سوچ کا اظہار ہوتا ہے۔

نمایاں کارنامے، عدل و انصاف اور انتظامِ سلطنت

سلطانہ رضیہ کا دورِ حکومت مختصر مگر انتہائی شاندار تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے باغی امرائے چہلگانی (چالیس ترک امراء کا طاقتور گروہ) کی سازشوں کو اپنی سیاسی چالوں سے ناکام بنایا۔ سلطنت میں امن و امان قائم کیا، سڑکوں کی تعمیر کروائی، کنویں کھدوائے، اور علم و ادب کی سرپرستی کے لیے متعدد مدارس اور کتب خانے قائم کیے۔ انہوں نے عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جہاں امیر اور غریب کے لیے یکساں قوانین تھے۔ غیر ترک سرداروں (جیسے جلال الدین یاقوت حبشی) کو اعلیٰ عہدوں پر فائز کر کے انہوں نے ترک اشرافیہ کی اجارہ داری کو توڑنے کی کوشش کی، جو بعد میں ان کی مخالفت کی بڑی وجہ بنی۔

زوال، شہادت اور تاریخی میراث

ترک امراء نے رضیہ کے خلاف بغاوتیں شروع کر دیں، جن کی قیادت بھٹنڈہ کے گورنر ملک اختیار الدین التونیہ نے کی۔ رضیہ نے اس بغاوت کو کچلنے کے لیے پیش قدمی کی لیکن جنگ میں انہیں شکست ہوئی اور یاقوت حبشی شہید ہو گئے۔ التونیہ نے رضیہ کو قید کر لیا۔ رضیہ نے سیاسی مصلحت کے تحت التونیہ سے شادی کر لی اور دونوں نے مشترکہ طور پر دہلی کا تخت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کی۔ تاہم، 25 ربیع الاول 637 ھ (اکتوبر 1240ء) کو کیتھل کے قریب ان کی فوج کو شکست ہوئی اور وہ میدانِ جنگ میں جرات سے لڑتے ہوئے شہید ہوئیں۔ رضیہ سلطانہ تاریخِ اسلام کی پہلی باقاعدہ خاتون تاجدار تھیں جن کے نام کا خطبہ پڑھا گیا اور سکہ جاری ہوا۔ ان کا دورِ حکومت برصغیر میں نسوانی خودمختاری اور جرأت کی لازوال علامت ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • منہاج سراج جوزجانی (طبقاتِ ناصری) – معاصر مورخ کا مستند ترین احوال
  • ابن بطوطہ (رحلہ ابن بطوطہ) – رضیہ سلطانہ کے مزار اور ان کی عظمت کا تذکرہ
  • ملا عبدالقادر بدایونی (منتخب التواریخ)
  • ابوالقاسم فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
  • ضیاء الدین برنی (تاریخِ فیروز شاہی)

مبارک اقوال و ارشادات

سلطنت کا استحکام عدل و انصاف اور رعایا کی خوشحالی میں پنہاں ہے، نہ کہ محض طاقت کے وحشیانہ استعمال میں۔

تاج و تخت کسی کی ذاتی جاگیر نہیں، یہ اللہ کی امانت ہے جس کا حساب عوام کی خدمت کے ذریعے دینا ہوتا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطانہ رضیہ سلطانہ (پہلی مسلم خاتون فرمانروا)

لقب و کنیت: جلالة الدين، رضية سلطانة، ملکہ دوراں، پہلی مسلم خاتون فرمانروا، شاہِ جہاں
قبیلہ: خاندانِ غلاماں (مملوک خاندان - البری تُرک)
سن پیدائش و وفات: 601 ھ – 637 ھ / 1205ء – 1240ء
مقام تدفین: محلہ بلبلی خانہ، نزد ترکمان گیٹ، دہلی، ہندوستان (ایک اور روایت کے مطابق کیتھل، ہریانہ)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com