خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
موسیٰ بن نصیر 19 ہجری (عہدِ فاروقی) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نصیر شام کے سرحدوں پر واقع ایک قلعہ ‘عین التمر’ کے قیدیوں میں سے تھے جنہیں سیدنا خالد بن ولید نے قید کیا تھا، بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور بنو امیہ کے جلیل القدر رہنما عبد العزیز بن مروان کے مقربِ خاص اور سپہ سالار بنے۔ اسی نسبت سے موسیٰ بن نصیر کی تربیت دمشق کے شاہی دربار اور علمی و عسکری ماحول میں ہوئی۔ وہ انتہائی فصیح و بلیغ، دلیری، اصابتِ رائے اور گہری انتظامی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ عسکری تربیت کے ساتھ ساتھ انہوں نے کبار صحابہ کرام سے علمِ حدیث اور فقہ بھی حاصل کیا۔
امارتِ مغرب اور فتوحاتِ افریقہ
موسیٰ بن نصیر کو اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک کے عہد میں شمالی افریقہ (مغربِ عربی) کا گورنر مقرر کیا گیا۔ اس وقت شمالی افریقہ میں بربر قبائل کی بغاوتوں اور رومیوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے شدید بدامنی تھی۔ موسیٰ بن نصیر نے اپنی بے مثال حکمتِ عملی سے نہ صرف امن قائم کیا بلکہ بربر قبائل کے دل جیت کر انہیں دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ انہوں نے بربروں کی ایسی عظیم عسکری قوت تیار کی جس نے بعد میں اندلس کی فتح میں ہراول دستے کا کام کیا۔ انہوں نے طنجہ (Tangier) اور مراکش کے دور دراز علاقوں تک اسلامی پرچم لہرایا اور وہاں مساجد اور علمی مراکز قائم کیے۔
فتحِ اندلس اور بے مثال فتوحات
شمالی افریقہ میں استحکام کے بعد، موسیٰ بن نصیر نے یورپ (اندلس) کی طرف پیش قدمی کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے سن 92 ہجری (711ء) میں اپنے نامور اور وفادار بربر غلام اور سپہ سالار طارق بن زیاد کو سات ہزار فوج دے کر اندلس روانہ کیا۔ طارق بن زیاد نے ‘وادی لکہ’ کے تاریخی معرکے میں راڈرک (لذریق) کی لاکھوں کی فوج کو شکست فاش دی۔ اس عظیم کامیابی کے بعد موسیٰ بن نصیر خود 93 ہجری میں ایک بڑا لشکر لے کر اندلس پہنچے اور اشبیلیہ (Seville)، ماردہ (Merida) اور دیگر ناقابلِ تسخیر قلعوں کو فتح کیا۔ دونوں جرنیلوں نے مل کر تقریباً پورے جزیرہ نما اندلس (اسپین اور پرتگال) پر اسلام کا پرچم لہرا دیا اور مسلم تاریخ کا ایک سنہرا باب رقم کیا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
اندلس کی فتوحات کے عروج پر خلیفہ ولید بن عبد الملک نے موسیٰ بن نصیر اور طارق بن زیاد کو دمشق واپس بلا لیا۔ دمشق واپسی کے سفر کے دوران خلیفہ ولید کا انتقال ہو گیا اور سلیمان بن عبد الملک تخت نشین ہوا۔ سیاسی تبدیلیوں اور حسد کی بنا پر موسیٰ بن نصیر کو معزول کر دیا گیا اور ان کی آخری عمر زہد و عبادت میں گزری۔ سن 97 ہجری (بعض روایات کے مطابق 99 ہجری) میں وہ خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کے ساتھ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے اور دورانِ سفر مدینہ منورہ کے قریب ‘وادی القریٰ’ میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کا انتقال غربت و تندستی کی حالت میں ہوا، لیکن تاریخ نے انہیں ہمیشہ کے لیے ‘فاتحِ مغرب و اندلس’ کے طور پر امر کر دیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (تہذيب التہذيب)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 4)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 9)
- ابن خلکان (وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان)
- ابن الاثیر (الكامل في التاريخ)
مبارک اقوال و ارشادات
خدا کی قسم! اگر مجھ پر خلیفہ کی اطاعت کا پاس نہ ہوتا تو میں اندلس کے پار بحرِ ظلمات کو عبور کر کے عیسائی یورپ کے قلب تک اسلام کا پرچم لہرا دیتا۔
میدانِ جنگ میں فتح کثرتِ تعداد سے نہیں، بلکہ دلوں کے ثبات اور نیتوں کے اخلاص سے حاصل ہوتی ہے۔
بے شک اللہ عزوجل اپنے مخلص بندوں کو کبھی رسوا نہیں کرتا، بشرطیکہ وہ دنیا کے بجائے صرف آخرت کے طلبگار رہیں۔
