شارحین حدیث و ائمہ جرح و تعدیل

امام نور الدین علی بن ابی بکر ہیثمی رحمہ اللہ (صاحب مجمع الزوائد)

« أبو الحسن نور الدين علي بن أبي بكر بن سليمان بن أبي بكر بن عمر بن صالح الهيثمي الشافعي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی رحمہ اللہ کی ولادت رجب المرجب 735 ہجری (بمطابق 1335ء) میں مصر میں ہوئی۔ ان کی نسبت "ہیثمی” قاہرہ کے قریب واقع ایک بستی "الہیتم” کی طرف ہے۔ آپ کا تعلق متوسط علمی گھرانے سے تھا، لیکن بچپن ہی سے قدرت نے ان میں حفظ و ضبط اور ذکاوت کی بے پناہ صلاحیتیں ودیعت کر رکھی تھیں۔ اوائلِ عمری میں ہی انہوں نے قرآن کریم حفظ کیا اور بنیادی اسلامی علوم کی طرف متوجہ ہوئے۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ وہ تھا جب انہوں نے اپنے وقت کے عظیم ترین امامِ حدیث، حافظ زین الدین العراقی رحمہ اللہ کی صحبت اختیار کی، جن کی شاگردی نے الہیثمی کو علمِ حدیث کا درخشندہ ستارہ بنا دیا۔

علمی سفر اور شیوخ و اساتذہ

امام الہیثمی نے علمِ حدیث کے حصول کے لیے کثیر اسفار کیے۔ انہوں نے قاہرہ، دمشق، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے کبار محدثین سے سماع کیا۔ ان کے اساتذہ میں سب سے نمایاں نام حافظ زین الدین العراقی کا ہے، جن کے ساتھ وہ سائے کی طرح رہے اور دمشق و حرمین الشریفین کے علمی اسفار میں ان کے ہمراہ رہے۔ انہوں نے حافظ عراقی سے کتبِ حدیث کا سماع کیا اور علمِ علل و رجال میں مہارت تامہ حاصل کی۔ ان کے دیگر شیوخ میں امام تقی الدین السبکی، شمس الدین بن القماح، اور ابن جماعہ شامل ہیں۔ وہ اپنے استاد حافظ عراقی کے اس قدر چہیتے تھے کہ حافظ عراقی نے اپنی صاحبزادی کا نکاح ان سے کر دیا اور وہ زندگی کے آخری ایام تک اپنے استاد کے خدمت گزار اور علمی رفیق رہے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب اور مجمع الزوائد

امام ہیثمی کا سب سے بڑا اور لازوال علمی کارنامہ ان کی تصنیف لطیف "مجمع الزوائد ومنبع الفوائد” ہے۔ یہ علمِ حدیث کی تاریخ میں ایک منفرد اور بے مثال انسائیکلوپیڈیا ہے۔ انہوں نے مسند احمد، مسند ابویعلیٰ، مسند البزار، اور امام طبرانی کی تینوں معاجم (المعجم الکبیر، المعجم الاوسط، المعجم الصغیر) میں موجود ان تمام احادیث کو یکجا کیا جو کتبِ ستہ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابوداؤد، سنن ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) میں موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے ان احادیث کو کتبِ فقہ کی طرز پر مرتب کیا اور ہر حدیث کے راویوں پر جرح و تعدیل کے اصولوں کے مطابق کلام کر کے ان کی صحت و ضعف کا فیصلہ کیا۔ ان کے اس کام کو محدثین نے بے حد سراہا۔ ان کے مایہ ناز شاگرد حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ امام ہیثمی علمِ حدیث کے متون کے کثرتِ حفظ کے لحاظ سے اپنے دور میں بے نظیر تھے۔ آپ انتہائی زاہد، متقی، خوش اخلاق اور دنیاوی جاہ و جلال سے دور رہنے والے انسان تھے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام نور الدین الہیثمی رحمہ اللہ نے اپنی آخری سانس تک خدمتِ حدیث کا فریضہ سرانجام دیا۔ ان کا وصال ملتان و مصر کے حالات کے تناظر میں 29 رمضان المبارک 807 ہجری (بمطابق اپریل 1405ء) کو قاہرہ میں ہوا اور انہیں وہیں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی علمی میراث آج بھی پوری دنیا کے محدثین، فقہاء اور طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی کتب بالخصوص مجمع الزوائد، غایۃ المقصد فی زوائد المسند، اور زوائد الحارث امتِ مسلمہ کا ایک گراں قدر علمی اثاثہ ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (إنباء الغمر بأبناء العمر)
  • شمس الدین السخاوی (الضوء اللامع لأهل القرن التاسع)
  • جلال الدین السیوطی (حسن المحاضرة في تاريخ مصر والقاهرة)
  • ابن العماد الحنبلی (شذرات الذهب في أخبار من ذهب)
  • امام الہیثمی (مقدمہ مجمع الزوائد ومنبع الفوائد)

مبارک اقوال و ارشادات

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: "وہ متونِ حدیث کے بہت بڑے حافظ تھے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی علمِ حدیث کی خدمت میں وقف کر رکھی تھی۔"

امام ہیثمی اپنے شفیق استاد حافظ عراقی کے متعلق فرماتے ہیں: "میں نے اپنے شیخ کی خدمت میں تیس برس گزارے، انہوں نے مجھ پر علمی و مادی طور پر احسانات کیے اور اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کیا۔"

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام نور الدین علی بن ابی بکر ہیثمی رحمہ اللہ (صاحب مجمع الزوائد)

لقب و کنیت: ابو الحسن، نور الدين، حافظ الحدیث، الہیثمی، الشافعی، صاحبِ مجمع الزوائد
قبیلہ: قبیلہ ہذیل (مصر کے شہر "ہیتم" کی طرف نسبت ہے)
سن پیدائش و وفات: 735 ھ – 29 رمضان 807 ھ / 1335ء – 1405ء
مقام تدفین: قاہرہ، مصر
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com