Sahaba (صحابی)

حضرت عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ

« أبو سعيد عبد الله بن مغفل بن عبد نهم بن عفيف المزني »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا تعلق عرب کے مشہور اور معزز قبیلے بنو مزینہ سے تھا، جو مکہ اور مدینہ کے درمیانی علاقے میں سکونت پذیر تھا۔ ان کا پورا نسب عبد اللہ بن مغفل بن عبد نهم بن عفیف المزنی ہے۔ ان کی ولادت ہجرتِ مدینہ سے قبل مکہ کے نواح میں ہوئی۔ وہ اپنے قبیلے کے ان چیدہ چیدہ افراد میں شامل تھے جنہوں نے اسلام کے آفاقی پیغام کو سنتے ہی لبیک کہا اور کفر و شرک کی تاریکیوں سے نکل کر اسلام کے نورِ ہدایت سے منور ہوئے۔ ان کا شمار مدینہ منورہ کے ان جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے زہد و تقویٰ اور فہمِ دین میں بلند مقام حاصل کیا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے صلح حدیبیہ سے قبل اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ وہ سن 6 ہجری میں بیعتِ رضوان کے تاریخی موقع پر موجود تھے اور اس مبارک درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی جس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ الفتح میں آیا ہے۔ وہ ان سترہ افراد میں سے ایک تھے جنہیں قبیلہ مزینہ کی نمائندگی کا شرف حاصل تھا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر جب مسلمانوں کو سخت تنگی کا سامنا تھا، تو حضرت عبد اللہ بن مغفل ان مخلص صحابہ میں شامل تھے جن کے پاس جنگ پر جانے کے لیے سواری موجود نہ تھی، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن سواری نہ ملنے پر غم اور حسرت کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، جنہیں قرآن مجید نے "البکائین” (رونے والے) کے لقب سے یاد کیا ہے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

غزوہ خیبر کے دوران حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بے مثال بہادری دکھائی۔ ایک روایت کے مطابق خیبر کے قلعے سے چربی کی ایک تھیلی گرائی گئی، تو انہوں نے لپک کر اسے اٹھا لیا اور کہا کہ "آج میں اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا”، جس پر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے۔ فتحِ مکہ اور غزوہ حنین میں بھی انہوں نے شجاعت کے جوہر دکھائے۔ عہدِ فاروقی میں جب سلطنتِ اسلامیہ کی حدود وسیع ہوئیں، تو خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے لوگوں کی تعلیم و تربیت اور فقہ کی تعلیم کے لیے دس ممتاز صحابہ کرام کا انتخاب فرما کر وہاں بھیجا، حضرت عبد اللہ بن مغفل ان دس اساتذہ میں شامل تھے۔ انہوں نے بصرہ میں علمِ حدیث اور فقہ کی ترویج میں بے پناہ خدمات انجام دیں۔ فارس کے معرکے بالخصوص "فتحِ تستر” (شُشتر) میں وہ اسلامی لشکر کے ہر اول دستے میں شامل تھے اور وہ پہلے مجاہد تھے جنہوں نے اس قلعے کی دیوار کو عبور کر کے اندر قدم رکھا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام بصرہ (عراق) میں انتہائی سادگی، زہد اور عبادت گزاری میں گزارے۔ وفات کے وقت انہوں نے وصیت فرمائی کہ ان کے جنازے پر جاہلیت کی کوئی رسم نہ کی جائے، بلکہ انہیں انتہائی خاموشی کے ساتھ سنت کے مطابق سپردِ خاک کیا جائے اور ان کے قریبی دوست اور صحابیِ رسول حضرت ابوبرزہ الاسلمی رضی اللہ عنہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھائیں۔ ان کا وصال سن 59 ہجری (بعض روایات کے مطابق 57 یا 60 ہجری) میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں بصرہ میں ہوا۔ ان کی علمی میراث ان کے شاگردوں جیسے حسن بصری اور حمید بن ہلال کے ذریعے امت تک پہنچی، جنہوں نے بصرہ کو علم و عمل کا مرکز بنایا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، الاصابة في تمييز الصحابة، جلد 4، ترجمہ عبد اللہ بن مغفل المزنی۔
  • امام ذہبی، سير أعلام النبلاء، جلد 3، سوانح عبد اللہ بن مغفل۔
  • ابن الاثیر الجزری، اسد الغابة في معرفة الصحابة، جلد 3، تذکرہ عبد اللہ بن مغفل۔
  • ابن کثیر، البداية والنهاية، جلد 8، حوادث سن 59 ہجری۔
  • امام بخاری، التاريخ الكبير، باب العین (عبد اللہ)۔

مبارک اقوال و ارشادات

1. "رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو! میرے بعد انہیں (تنقید اور ملامت کا) نشانہ نہ بنانا۔"

2. "آپ نے وصیت فرمائی: جب میرا انتقال ہو جائے تو مجھے غسل دینا، کفن پہنانا، خوشبو لگانا اور میری نمازِ جنازہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت ابوبرزہ الاسلمی رضی اللہ عنہ پڑھائیں۔"

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت عبد اللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ

لقب و کنیت: أبو سعيد (اور ایک قول کے مطابق أبو عبد الرحمن یا أبو زياد)، المزنی، صحابیِ رسول، صاحب الشجرہ (بیعتِ رضوان میں شریک)، البکائین (بہت زیادہ رونے والوں) میں سے ایک
قبیلہ: بنو مزینہ (مضر کا ذیلی قبیلہ)
سن پیدائش و وفات: وفات: 59 ہجری / 678ء (پیدائش: ہجرت سے قبل، مکہ مکرّمہ)
مقام تدفین: بصرہ، عراق
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com