Sahaba (صحابی)

حضرت حنظلہ بن ابی عامر انصاری رضی اللہ عنہ (غسیل الملائکہ)

« حنظلة بن أبي عامر عمرو بن صيفي بن زيد بن أمية بن ضبيعة الأوسي الأنصاري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت حنظلہ بن ابی عامر رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ اوس کی معزز شاخ بنو ضبیعہ سے تھا۔ آپ کے والد ابو عامر بن صیفی تھے، جو اپنے علم اور زہد کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں ‘راہب’ کہلاتے تھے، مگر بدقسمتی سے انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا اور کفر پر قائم رہتے ہوئے ‘ابو عامر الفاسق’ کے نام سے مشہور ہوا۔ اپنے والد کے برعکس، حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے جوانی میں ہی حق کو پہچانا اور مخلصانہ طور پر اسلام قبول کیا۔ آپ کا شمار مدینہ کے ان باوقار اور متقی نوجوانوں میں ہوتا تھا جو شجاعت اور اعلیٰ اخلاق کا پیکر تھے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کے بعد حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی ترویج اور مدنی ریاست کے استحکام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ کا نکاح مدینہ کے منافقین کے سردار عبد اللہ بن ابی کی بیٹی حضرت جمیلہ رضی اللہ عنہا سے ہوا، جو اپنے والد کے برعکس انتہائی مخلص اور جلیل القدر صحابیہ تھیں۔ ان کا نکاح غزوہ احد سے بالکل ایک دن پہلے ہوا تھا۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے رخصتی کی اجازت مانگی تھی، جو آپ ﷺ نے کمالِ شفقت سے عطا فرمائی۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ غزوہ احد میں ان کا والہانہ جذبہِ جہاد اور بے مثال شہادت ہے۔ نکاح کی پہلی شب گزارنے کے بعد، صبحِ احد جب انہوں نے جہاد کا منادی کرنے والے کی آواز سنی، تو انہوں نے فرضِ غسل کی پروا کیے بغیر فوراً تلوار اٹھائی اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہونے کے لیے دوڑ پڑے۔ میدانِ جنگ میں انہوں نے شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی اور مشرکین کے صفوں کو چیرتے ہوئے کفار کے سالار ابو سفیان پر حملہ آور ہوئے اور اسے گرانے ہی والے تھے کہ شداد بن اسود نے پیچھے سے وار کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ چونکہ آپ حالتِ جنابت میں شہید ہوئے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ فرشتے انہیں غسل دے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے آپ کو اسلام میں "غسیل الملائکہ” (فرشتوں کا غسل دیا ہوا) کے لازوال لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے شوال 3 ہجری (625ء) میں غزوہ احد کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر مبارک محض 23 یا 24 سال تھی۔ انہیں احد کی مقدس زمین میں دیگر شہداء کے ساتھ دفن کیا گیا۔ آپ کی یہ عظیم قربانی رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے فرض شناسی، عشقِ رسول اور سرفروشی کی ایک درخشاں مثال ہے۔ آپ کی شہادت کے بعد ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوئی جن کا نام عبد الرحمن رکھا گیا، جنہوں نے بعد میں سانحہِ حرّہ کے نازک موقع پر اہل مدینہ کی قیادت کی اور شہید ہوئے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)

مبارک اقوال و ارشادات

رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ ذیشان: "بیشک تمہارے ساتھی (حنظلہ) کو فرشتے آسمان اور زمین کے درمیان چاندی کے برتنوں میں بارش کے پانی سے غسل دے رہے ہیں۔"

حضرت جمیلہ بنت ابی کا بیان: "وہ جہاد کے منادی کی آواز سنتے ہی فرض غسل کی حالت میں ہی تلوار اٹھا کر میدانِ کارزار کی طرف لپک پڑے تھے۔"

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت حنظلہ بن ابی عامر انصاری رضی اللہ عنہ (غسیل الملائکہ)

لقب و کنیت: ابو عبد الرحمن، غسیل الملائکہ (فرشتوں کے غسل دیے ہوئے صحابی)
قبیلہ: انصار، قبیلہ اوس، بنو ضبیعہ
سن پیدائش و وفات: تقریباً 23 قبل ہجرت – 3 ہجری / 601ء – 625ء
مقام تدفین: دامنہ جبلِ احد، مدینہ منورہ، سعودی عرب
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com