Sahaba (صحابی)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما (صاحب صحیفہ صادقہ)

« أبو محمد عبد الله بن عمرو بن العاص بن وائل السهمي القرشي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما مکہ مکرمہ کے بااثر اور معزز قبیلے قریش کی شاخ بنو سہم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ تاریخِ اسلام کے نامور جرنیل، مدبر اور فاتحِ مصر تھے، جب کہ آپ کی والدہ کا نام رائطہ بنت منبہ تھا جو قریش کے اشراف میں سے تھیں۔ آپ کی ولادت ہجرتِ مدینہ سے تقریباً سات سال قبل مکہ میں ہوئی۔ ایک تاریخی خصوصیت یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ اپنے والد حضرت عمرو بن العاص سے عمر میں محض گیارہ یا بارہ سال چھوٹے تھے۔ وہ بچپن ہی سے انتہائی ذہین، سلیم الطبع اور علم و معرفت کے متلاشی تھے۔

قبولِ اسلام اور علمی شغف (صحیفہ صادقہ)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے اپنے والد حضرت عمرو بن العاص سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ کا اصل نام ‘العاص’ تھا جسے قبولِ اسلام کے بعد رسول اللہ ﷺ نے تبدیل کر کے ‘عبد اللہ’ رکھا۔ قبولِ اسلام کے بعد آپ نے اپنی زندگی کو علمِ دین اور عبادت الٰہی کے لیے وقف کر دیا۔ آپ کو لکھنے پڑھنے میں کمال مہارت حاصل تھی، جو اس دور میں شاذ و نادر ہی کسی کو حاصل تھی۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی اجازت اور حکمِ خاص سے آپ ﷺ کے فرامین اور احادیث کو تحریری شکل میں محفوظ فرماتے تھے۔ آپ کے اسی مرتب کردہ مجموعہ احادیث کو تاریخِ اسلام میں ‘الصحیفۃ الصادقۃ’ (صحیفہ صادقہ) کے نام سے جانا جاتا ہے، جو تدوینِ حدیث کی تاریخ میں سب سے پہلا اور مستند ترین تحریری دستاویز ہے۔

نمایاں کارنامے، زہد و تقویٰ اور فضائل

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کا شمار صحابہ کرام کے زمرہ عبادِ ثلاثہ (کثرت سے عبادت کرنے والے) میں ہوتا ہے۔ آپ کثرتِ روزے اور شب بیداری میں اس قدر غلو کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کو خود مداخلت کرنا پڑی اور آپ ﷺ نے انہیں اعتدال کی راہ سکھائی۔ علمِ حدیث کے میدان میں آپ کا مقام انتہائی بلند ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، جو بذاتِ خود کثیر الحدیث صحابی ہیں، فرماتے تھے کہ: ‘صحابہ میں مجھ سے زیادہ احادیث کسی کے پاس نہیں سوائے عبد اللہ بن عمرو کے، کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا’۔ معرکہ یرموک اور مصر کی فتوحات میں آپ نے مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ جنگِ صفین میں اپنے والد کے اصرار اور رسول اللہ ﷺ کے ایک قدیم فرمان کی تعمیل (جس میں آپ کو اپنے والد کی اطاعت کا حکم تھا) کے تحت میدان میں تو آئے، لیکن دل سے اس جنگ کے سخت خلاف تھے اور انہوں نے کسی مسلمان پر تلوار نہیں اٹھائی، بلکہ عمر بھر اس شرکت پر کڑھتے اور استغفار کرتے رہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے اپنی زندگی کا آخری حصہ مصر اور شام میں علمِ دین کی ترویج و اشاعت میں گزارا۔ آپ کا وصال مبارک 65 ہجری (بعض روایات کے مطابق 63ھ یا 67ھ) میں مصر کے شہر فسطاط (موجودہ قاہرہ) میں ہوا۔ کثرتِ علم اور صحیفہ صادقہ کی صورت میں آپ کی چھوڑی ہوئی علمی میراث آج بھی امتِ مسلمہ کے پاس حدیثِ نبوی کا ایک عظیم اور لازوال ذخیرہ ہے۔ آپ کی مرویات احادیث کی مستند کتب بشمول صحیح بخاری، صحیح مسلم اور مسند احمد بن حنبل کی زینت ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة في تمييز الصحابة، جلد 4، ترجمہ نمبر 4825)
  • امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 3، سوانح عبد اللہ بن عمرو)
  • ابن الاثیر الجزری (اسد الغابة في معرفة الصحابة، جلد 3)
  • ابن کثیر الدمشقی (البداية والنهاية، واقعاتِ سال 65 ہجری)

مبارک اقوال و ارشادات

«دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ ہے اور زہد ہی اصل راحت ہے۔»

«علم وہ ہے جو عمل پر ابھارے اور تقویٰ وہ ہے جو گناہوں سے بچائے۔»

«رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلنے والا ہر لفظ حق اور وحی الٰہی کا پرتو ہے، اس لیے میں نے آپ ﷺ کے ہر ارشاد کو لکھنے کا عہد کیا۔»

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما (صاحب صحیفہ صادقہ)

لقب و کنیت: ابو محمد (یا ابو عبد الرحمن)، العابد، الزاہد، صاحبِ صحیفہ صادقہ، حافظِ حدیث، ترجمانِ سنت
قبیلہ: قریش، بنو سہم (بنو العاص)
سن پیدائش و وفات: 7 قبل ہجرت – 65 ہجری / 615ء – 685ء (مختلف روایات کے مطابق سالِ وفات 63ھ، 65ھ یا 67ھ ہے)
مقام تدفین: فسطاط (قاہرہ)، مصر (ایک قول کے مطابق مکہ مکرمہ یا شام)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com