خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
نواسہ رسول، جگر گوشہ بتول، سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی ولادتِ با سعادت 15 رمضان المبارک سن 3 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی ولادت پر سید عالم ﷺ نے خود تشریف لا کر آپ کے کان میں اذان دی، آپ کا نام ‘حسن’ رکھا اور عقیقہ فرمایا۔ آپ کی پرورش براہِ راست رسول اللہ ﷺ کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔ آپ رسول اللہ ﷺ کے حسن و جمال کے سب سے قریبی مشابہ تھے۔ بچپن ہی سے آپ کو بارگاہِ رسالت میں وہ قرب حاصل تھا جو کسی دوسرے کا مقدر نہ بن سکا۔ آپ اور آپ کے چھوٹے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے ‘سید شباب اہل الجنہ’ (جنتی نوجوانوں کے سردار) کا لقب عطا فرمایا۔
خلافت، صلح اور عظیم تاریخی کارنامہ
رمضان 40ھ میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد چالیس ہزار سے زائد مسلمانوں نے کوفہ میں سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافتِ اسلامیہ کی بیعت کی۔ آپ نے تقریباً چھ ماہ تک خلافت کے فرائض سرانجام دیے۔ اس دوران امتِ مسلمہ کے مابین شدید انتشار اور خانہ جنگی کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ امت کو خونریزی سے بچانے اور ان کے مابین اتحاد قائم کرنے کے لیے، آپ نے ربیع الاول 41ھ میں ایک عظیم تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے خلافت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی اور صلح کا اعلان فرمایا۔ یہ صلح تاریخِ اسلام میں ‘عام الجماعت’ (اتحاد کا سال) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس صلح کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کی وہ پیشگوئی سچ ثابت ہوئی جس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ‘میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور امید ہے کہ اللہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے گا۔’
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ علم، فضل، تقویٰ، جود و سخا اور حلم و بردباری کا پیکرِ جمیل تھے۔ آپ نے اپنی زندگی میں متعدد بار اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں صدقہ کیا اور پیدل حج کیے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ خلافت سے دستبردار ہو کر امتِ محمدیہ ﷺ کے لاکھوں نفوس کی جانوں کا تحفظ کرنا اور افتراق و انتشار کی جگہ اخوت و محبت کی فضا قائم کرنا تھا۔ آپ شجاعت و بہادری میں بھی بے مثال تھے؛ عہدِ عثمانی میں فتوحاتِ افریقہ اور طبرستان میں مجاہدانہ شرکت فرمائی، اور فتنہ گروں کے محاصرے کے دوران سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے پر پہرہ دے کر اپنی جان جوکھم میں ڈالی۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو ایک سازش کے تحت زہر دیا گیا، جس کے نتیجے میں آپ نے 28 ربیع الاول (یا بعض روایات کے مطابق 5 ربیع الاول) 50ھ کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی آخری خواہش تھی کہ آپ کو روضہ رسول ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے، لیکن فتنہ و فساد کے اندیشے کے پیشِ نظر آپ کو وصیت کے مطابق جنت البقیع میں امہات المؤمنین کے جوار میں سپردِ خاک کیا گیا۔ آپ کی شہادت نے امت کو گہرے صدمے سے دوچار کیا۔ آپ کا طرزِ عمل رہتی دنیا تک کے حکمرانوں کے لیے ایک واضح درس ہے کہ اقتدار پر امن، اتحاد اور انسانی جانوں کی حرمت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، تذکرہ امام حسن بن علی)
- امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء، الطبقة الأولى من الصحابة)
- ابن الاثیر الجزری (اسد الغابة فی معرفة الصحابة)
- ابن کثیر الدمشقی (البداية والنهاية، جلد 8، حوادثِ سن 50 ہجری)
مبارک اقوال و ارشادات
1. بہترین عقل لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور مدارات سے پیش آنا ہے، اور جہالت کا سب سے بڑا مظہر اپنے سے برتر شخص سے دشمنی پالنا ہے۔
2. سخاوت یہ ہے کہ مانگنے سے پہلے دیا جائے، جبکہ مانگنے کے بعد دینا شرمندگی کے ڈر اور لاج رکھنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
3. ہلاکت تین چیزوں میں ہے: تکبر، حرص اور حسد۔ تکبر دین کو کھا جاتا ہے اور اسی کی وجہ سے ابلیس مردود ہوا؛ حرص انسان کی جان کی دشمن ہے اسی وجہ سے آدم جنت سے نکلے؛ اور حسد برائیوں کا پیش خیمہ ہے اسی وجہ سے قابیل نے ہابیل کو قتل کیا۔
