تاریخی پس منظر اور اسباب
پندرہویں صدی کے اواخر میں واسکو ڈی گاما کی جانب سے راس امید (Cape of Good Hope) کا بحری راستہ دریافت کرنے کے بعد پرتگالیوں نے بحرِ ہند میں مسلم تجارتی بالادستی کو چیلنج کیا۔ پرتگالیوں کا بنیادی مقصد مسالوں کی تجارت پر قبضہ کرنا، مسلم بحری جہازوں کو لوٹنا اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس راستوں کو خطرے میں ڈالنا تھا۔ اس سنگین خطرے کو بھانپتے ہوئے، مصر کے مملوک سلطان قانصوہ الغوری، گجرات کے عظیم مسلم حکمران سلطان محمود بیگڑا، اور کالی کٹ کے ہندو راجہ زامورین (جو پرتگالیوں کا سخت مخالف تھا) نے ایک تاریخی عسکری اتحاد قائم کیا۔ اس اتحاد کو عثمانی سلطنت کے فرمانروا سلطان بایزید ثانی کی جانب سے لکڑی، بارود اور بحری ماہرین (جیسے عثمانی ملاحوں) کی صورت میں بھرپور تائید حاصل تھی۔
اتحادی لشکر کی روانگی اور صف بندی
مصر سے مملوک بحری بیڑے کو امیر حسین الکردی کی قیادت میں روانہ کیا گیا، جو جدہ کا گورنر اور ایک ماہر بحری جنگجو تھا۔ یہ بیڑہ بحرِ ہند پہنچا اور گجرات کے ساحل پر واقع تزویراتی بندرگاہ ‘دیو’ میں لنگر انداز ہوا۔ یہاں گجرات کے مسلم گورنر، ملک ایاز (جو ایک نومسلم یورپی غلام تھا اور اپنی عسکری و سیاسی ذہانت کی وجہ سے مشہور تھا) نے اپنی فورسز کے ساتھ اتحادیوں کا استقبال کیا۔ پرتگالیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط مشترکہ بحری دفاعی لائن قائم کی گئی، جس کا مقصد پرتگالی وائسرائے فرانسسکو ڈی المیڈا کے جنگی جنون کو لگام دینا تھا، جو اپنے بیٹے لورینکو ڈی المیڈا کی چول (Chaul) کی جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے بے چین تھا۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور بحری جنگ
۳ فروری ۱۵۰۹ء کو بحیرہ عرب میں دیو کے ساحل کے قریب دونوں بحری بیڑے آمنے سامنے آئے۔ پرتگالی بیڑہ سائز میں بڑا اور جدید ترین توپوں سے لیس تھا، جبکہ مسلم بیڑے کے جہاز نسبتاً ہلکے اور کثیر تعداد میں تھے لیکن ان کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپخانے کی کمی تھی۔ جنگ کا آغاز ہوتے ہی دونوں اطراف سے شدید گولہ باری شروع ہو گئی۔ امیر حسین الکردی اور ملک ایاز کے مجاہدین نے بے مثال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرتگالی جہازوں پر دھاوا بول دیا۔ تاہم، جنگ کے دوران پرتگالیوں کی جدید عسکری ٹیکنالوجی، دور تک مار کرنے والی توپوں اور بعض مسلم دھڑوں کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے مسلم اتحاد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اتحادیوں کے کئی جہاز پرتگالی بمباری کا نشانہ بن کر غرقاب ہو گئے، اور مجاہدین نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے آخری دم تک دفاع کیا۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس خونریز بحری جنگ میں مسلمانوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور تقریباً ایک ہزار سے زائد مجاہدین، جن میں مملوک، عثمانی اور گجراتی سپاہی شامل تھے، شہید ہوئے۔ معرکہ دیو کو تاریخِ ہند اور بحرِ ہند کا فیصلہ کن ترین بحری معرکہ مانا جاتا ہے۔ اگرچہ پرتگالیوں کو اس جنگ میں فتح حاصل ہوئی اور انہوں نے بحرِ ہند کی تجارت پر اجارہ داری قائم کر لی، لیکن مسلمانوں کی اس جرات مندانہ کوشش نے یہ ثابت کر دیا کہ امت مسلمہ استعماری قوتوں کے خلاف متحد ہو کر لڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اس معرکے کے بعد ہی عثمانیوں نے بحرِ ہند کے دفاع کو براہِ راست سنبھالنے کا فیصلہ کیا اور بعد میں خلافتِ عثمانیہ کے عظیم امیر البحر سلیمان پاشا اور سیدی علی رئیس کو پرتگالی خطرے کا قلع قمع کرنے کے لیے بھیجا گیا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
معرکہ دیو ہمیں یہ ایمان افروز سبق دیتا ہے کہ کفر کے خلاف جنگ صرف زمینی حدود تک محدود نہیں ہوتی بلکہ سمندروں پر بھی اللہ کے کلمے کو بلند کرنا فرض ہے۔ قرآنی فرمان ہے: ‘وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ’ (اور ان کے مقابلے کے لیے جس قدر بھی تم سے ہو سکے قوت تیار رکھو)۔ اس معرکے میں مسلمانوں کی پسپائی کی بنیادی وجہ عسکری تیاری اور جدید ٹیکنالوجی (مثلاً طویل فاصلے کی توپوں) میں پرتگالیوں کی برتری تھی۔ تاریخ کا یہ سبق آج بھی مسلمانوں کو جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ باطل قوتوں کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- عبد اللہ محمد بن عمر المکی الآصفی (ظفر الوالہ بظفر آلہ – تاریخِ گجرات)
- محمد قاسم فرشتہ (تاریخِ فرشتہ)
- ابن ایاس الحنفی (بدائع الزهور في وقائع الدهور – تاریخِ مصر)
- قطب الدین النہروالی (البرق اليماني في الفتح العثماني)
- ڈاکٹر آر جے بوزورتھ (تاریخِ بحرِ ہند اور عثمانی بحریہ کے معرکے)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
کفار کی بحری و عسکری سازشوں کے خلاف تیاری اور جہاد فی سبیل اللہ کے عمومی قرآنی احکامات (جیسے سورۃ الانفال، آیت ۶۰: 'وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ')
