تاریخی پس منظر اور معرکے کے اسباب
سولہویں صدی عیسوی میں شمالی افریقہ شدید بحران کا شکار تھا۔ مراکش کی سعدی سلطنت میں خاندانی اقتدار کی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ معزول سعدی حکمران محمد المتوکل نے اپنے چچا، قانونی سلطان ابو مروان عبد الملک اول کے خلاف پرتگال کے نوجوان اور جنونی بادشاہ ‘سبسٹین’ (Sebastian) سے مدد مانگی۔ سبسٹین، جو مذہبی جنون میں مبتلا تھا اور مراکش کو فتح کر کے شمالی افریقہ پر عیسائی تسلط قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا، نے اس سنہری موقع کو غنیمت جانا۔ اس نے پوپ اور دیگر یورپی طاقتوں کی آشیرباد سے ایک بہت بڑا صلیبی لشکر تیار کیا تاکہ مراکش پر حملہ کر کے اسلام کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ دوسری جانب، سلطان عبد الملک اول نے عثمانی خلافت کی تائید اور مراکش کے غیور قبائل کو جہاد کے پرچم تلے جمع کر کے اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
لشکروں کی روانگی اور تزویراتی صف بندی
شاہ سبسٹین کا عظیم الشان بحری بیڑا جولائی ۱۵۷۸ء میں اصیلہ (شمالی مراکش) کی بندرگاہ پر اترا۔ عیسائی لشکر میں جدید ترین یورپی توپ خانہ، بھاری آہن پوش گھڑ سوار اور جرمن و اطالوی کرائے کے ماہر سپاہی شامل تھے۔ سلطان عبد الملک اول، جو اس وقت شدید علیل تھے، نے غیر معمولی جنگی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے دشمن کو ساحل سے دور اندرونِ ملک کھینچنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کا اپنے بحری بیڑے سے رابطہ منقطع ہو جائے۔ مسلمانوں نے دشمن کو ‘وادی المخازن’ کے مقام پر روکا، جہاں دریا کے اوپر ایک اہم پل واقع تھا۔ سلطان نے عسکری تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سوار دستوں کو حکم دیا کہ وہ دشمن کی پشت پر موجود پل کو تباہ کر دیں، تاکہ عیسائی لشکر کے فرار کے تمام راستے بند ہو جائیں۔
معرکہ کا آغاز اور سلطان عبد الملک کی وفات کا راز
۴ اگست ۱۵۷۸ء کی تپتی ہوئی دوپہر کو جنگ کا طبل بجا۔ مسلمانوں کے توپ خانے نے عیسائیوں کے پیادہ دستوں پر آگ برسانا شروع کی۔ شدید علالت کے باوجود، سلطان عبد الملک خود اسٹریچر پر میدانِ جنگ میں تشریف لائے اور اپنے مجاہدین کی حوصلہ افزائی کی۔ جنگ کے بالکل ابتدائی مرحلے میں، کثرتِ دباؤ اور علالت کی وجہ سے سلطان عبد الملک اپنے خیمے میں وفات پا گئے، لیکن ان کے وفادار وزیر ‘رضوان’ نے کمالِ ہوشیاری سے اس خبر کو پوشیدہ رکھا۔ انہوں نے سلطان کی میت کو خیمے میں بند کر دیا اور خود سلطان کا روپ دھار کر احکامات جاری کرتے رہے تاکہ لشکرِ اسلام میں افراتفری نہ پھیلے۔
سعدی شہزادے احمد المنصور کی شجاعت اور عیسائیوں کی شکست
سلطان کے بھائی شہزادہ احمد المنصور نے میسرہ (بائیں بازو) کی کمان سنبھالی اور پرتگالی فوج پر ایک خوفناک جوابی حملہ کیا۔ مجاہدینِ اسلام نے بجلی کی کڑک کی مانند عیسائی فوج پر یلغار کی۔ پرتگالی فوج کے پاؤں اکھڑنے لگے اور وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔ جب انہوں نے وادی المخازن کے پل کے ذریعے فرار ہونے کی کوشش کی، تو معلوم ہوا کہ پل پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔ ہزاروں پرتگالی سپاہی دریا کے تند و تیز لہروں میں غرق ہو گئے۔ شاہ سبسٹین لڑتے ہوئے ہلاک ہو گیا، اور باغی محمد المتوکل بھی دریا پار کرنے کی کوشش میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔
تین بادشاہوں کی موت (معرکہ ملوکِ ثلاثہ)
اس جنگ کو تاریخِ اسلام اور تاریخِ یورپ میں "معرکہ ملوکِ ثلاثہ” (Battle of the Three Kings) بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس ایک ہی دن میدانِ جنگ میں تین بادشاہ ہلاک ہوئے:
- سلطان ابو مروان عبد الملک اول (جو علالت کی وجہ سے میدان میں وفات پا گئے)۔
- شاہ سبسٹین (پرتگال کا بادشاہ، جو میدانِ جنگ میں مارا گیا)۔
- محمد المتوکل (معزول مراکشی غدار، جو دریا میں ڈوب کر ہلاک ہوا)۔
جنگ کے فوراً بعد غازیوں نے احمد المنصور کے ہاتھ پر بیعت کی، جو تاریخ میں ‘المنصور باللہ’ اور ‘الذہبی’ کے لقب سے مشہور ہوئے اور انہوں نے مراکش کو عروجِ کمال پر پہنچایا۔
فتح کے تزویراتی اثرات اور ایمانی اسباق
اس تاریخی معرکے کے دور رس نتائج برآمد ہوئے:
۱۔ پرتگال کا شاہی خاندان وارث سے محروم ہو گیا، جس کے نتیجے میں سپین نے پرتگال پر قبضہ کر لیا اور پرتگال کی عالمی نوآبادیاتی طاقت کا شیرازہ بکھر گیا۔
۲۔ مراکش عثمانی خلافت کے تعاون سے ایک ناقابلِ تسخیر اسلامی قلعہ بن کر ابھرا اور کئی صدیوں تک یورپی استعمار کی پہنچ سے دور رہا۔
۳۔ اندلس سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں کی شجاعت نے ثابت کیا کہ مظلوموں کی قوتِ ارادی بڑی سے بڑی مادی طاقت کو شکست دے سکتی ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- احمد بن خالد الناصری (الاستقصا لأخبار دول المغرب الأقصى)
- محمد الصغير الإفراني (نزهة الحادي بأخبار ملوك القرن الحادي)
- ابن القاضي المكناسي (جذوة الاقتباس في ذكر من حل من الأعلام مدينة فاس)
- تاريخ الدولتين السعدية والفيلالية (مخطوطات مستند تاریخ مراکش)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
غزوات اور دفاعِ وطن سے متعلق عمومی الٰہی احکامات: سورۃ الانفال (آیت ۶۰): "وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ" اور سورہ آل عمران (آیت ۱۶۰)۔
