معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

معرکہ صفین (۳۷ ہجری)

« ذوالحجہ ۳۶ ہجری تا صفر ۳۷ ہجری / مئی تا جولائی ۶۵۷ عیسوی »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

معرکہ صفین اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی الم ناک اور نازک ترین موڑ ہے۔ اس عظیم فتنے کا بنیادی سبب خلیفۂ ثالث، مظلومِ مدینہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی المناک شہادت تھی۔ شہادتِ عثمان کے بعد مدینہ منورہ میں شدید بحران پیدا ہو گیا، جس کے بعد صحابہ کرام کے اصرار پر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا موقف تھا کہ سب سے پہلے خلافت کا نظام مستحکم کیا جائے اور بیت المال و نظمِ مملکت کو درست کیا جائے، اس کے بعد قاتلینِ عثمان کی گرفتاری ممکن ہو سکے گی کیونکہ وہ قبائل میں چھپے ہوئے اور بااثر تھے۔ دوسری طرف، گورنرِ شام سیدنا معاویہ بن ابی سفیان اور ان کے حامیوں کا یہ اجتہادی موقف تھا کہ جب تک قاتلینِ عثمان سے قصاص نہیں لیا جاتا، تب تک وہ بیعت نہیں کریں گے۔ مذاکرات کے متعدد ادوار ناکام ہونے کے بعد دونوں لشکر بالآخر شام کے سرحدی علاقے صفین کے میدان میں آمنے سامنے آ گئے۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کوفہ سے روانہ ہوئے اور دریائے فرات پار کر کے صفین کے میدان پہنچے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی دمشق سے ایک بھاری لشکر لے کر وہاں پہنچ چکے تھے۔ میدانِ جنگ میں پانی پر قبضے کے حوالے سے ابتدا میں معمولی جھڑپ ہوئی جس میں اہل شام نے پانی پر قبضہ کر لیا تھا، لیکن جب سیدنا علی کے لشکر نے جوابی کارروائی کر کے گھاٹ پر قبضہ کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شامی لشکر کو پانی پینے اور لے جانے کی عام اجازت دے دی۔ ذوالحجہ ۳۶ ہجری میں دونوں لشکروں کی صف بندی مکمل ہو چکی تھی، مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ خون خرابہ نہ ہو اور صلح کی کوئی صورت نکل آئے۔

معرکہ کے تفصیلی احوال اور شجاعتِ صحابہ

ذوالحجہ کے مہینے میں فریقین کے مابین چھوٹی جھڑپیں ہوتی رہیں، لیکن کسی بڑے معرکے سے گریز کیا گیا۔ محرم الحرام ۳۷ ہجری کا پورا مہینہ جنگ بندی میں گزرا اور امن کے لیے سفارت کاری کی گئی، مگر کوئی حتمی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ یکم صفر ۳۷ ہجری کو باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ لڑائی کئی روز تک جاری رہی۔ دونوں طرف سے عرب کے نامور شہسواروں نے بے مثال بہادری دکھائی۔ جنگ کا سب سے ہولناک مرحلہ ‘لیلتہ الحریر’ (شور و غوغا کی رات) کے نام سے معروف ہے، جس میں رات بھر تلواریں چلتی رہیں اور فریقین کا شدید جانی نقصان ہوا۔ اسی معرکے کے دوران رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ لشکرِ علی کی طرف سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے، جس سے رسول اللہ ﷺ کی یہ پیشگوئی صادق آئی کہ ‘عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا’۔ اس شہادت نے شامی لشکر میں بھی ایک کھلبلی مچا دی۔

قرآن مجید کا حکم اور ثالثی کا فیصلہ

جب لشکرِ شام کو اپنی شکست کے آثار نظر آنے لگے تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے مشورے پر شامی سپاہیوں نے اپنے نیزوں پر قرآن مجید کے صفحات بلند کر دیے اور پکارا: ‘ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی’۔ اس پکار پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں موجود قاریوں اور بڑی تعداد نے جنگ روکنے کا اصرار کیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھانپ لیا تھا کہ یہ ایک تزویراتی چال ہے، لیکن مخلصین کے اصرار پر آپ نے بادلِ ناخواستہ جنگ روکنے کا حکم دے دیا۔ جنگ روکنے کے بعد فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دو ثالث مقرر کیے جائیں جو قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلہ کریں۔ لشکرِ علی کی طرف سے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور لشکرِ شام کی طرف سے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ثالث مقرر کیا گیا، اور یوں عارضی طور پر یہ جنگ تحکیم (ثالثی) کے معاہدے پر معطل ہو گئی۔

شہدائے اسلام اور جنگ کے تزویراتی اثرات

معرکہ صفین کے نتیجے میں امتِ مسلمہ کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا۔ دونوں طرف سے جلیل القدر صحابہ، قراءِ قرآن اور جری تابعین شہید ہوئے۔ اس جنگ کے تزویراتی اثرات انتہائی دور رس تھے۔ خلافتِ راشدہ کا اتحاد عارضی طور پر کمزور پڑ گیا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر سے ایک متشدد گروہ ‘خوارج’ کی شکل میں نمودار ہوا جنہوں نے ‘لا حکم الا للہ’ کا نعرہ لگا کر خلافت اور شامی حکومت دونوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ اس الم ناک واقعے نے اسلامی دنیا کی جغرافیائی اور سیاسی تقسیم کی بنیاد رکھی اور امت کو دلی صدمے سے دوچار کیا۔ اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ دونوں گروہ اجتہادی خطا پر تھے، اور دونوں جانب مخلص مسلمان صحابہ موجود تھے، لہٰذا جانبین کا ادب و احترام واجب ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد ۷، واقعات ۳۶-۳۷ ہجری)
  • امام ابن جریر طبری، تاريخ الرسل والملوك (جلد ۵، صفین کے احوال)
  • ابن الاثیر، الكامل في التاريخ (جلد ۳)
  • امام ذہبی، سير أعلام النبلاء (سوانح سیدنا علی و معاویہ رضی اللہ عنہما)
  • امام ابن حجر عسقلانی، فتح الباري شرح صحيح البخاري (باب الفتن)

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ الحجرات، آیت ۹ (وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا) جس کی رو سے ائمہ امت نے جانبین کو مسلمان اور مخلص مانا ہے

غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ صفین (۳۷ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: ذوالحجہ ۳۶ ہجری تا صفر ۳۷ ہجری / مئی تا جولائی ۶۵۷ عیسوی
میدانِ جنگ: مقامِ صفین (دریائے فرات کا مغربی کنارہ، موجودہ ملکِ شام کے شہر رقہ کے قریب)
لشکرِ اسلام: لشکرِ عراق و حجاز (زیرِ قیادت امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ): تقریباً ۸۰,۰۰۰ سے ۱,۰۰,۰۰۰ مجاہدین
لشکرِ اعداء: لشکرِ شام (زیرِ قیادت سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ): تقریباً ۸۰,۰۰۰ سے ۱,۲۰,۰۰۰ سپاہی
نتیجہ: غیر فیصلہ کن عسکری نتیجہ، جو قرآن پاک کے فیصلوں کی بنیاد پر عارضی جنگ بندی اور تحکیم (ثالثی) کے معاہدے پر ختم ہوا
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com