تاریخی پس منظر اور اسباب
جنگِ یرموک (15 ہجری) میں رومیوں کی کمر توڑ شکست کے بعد، شام پر رومیوں کی گرفت کمزور ہو چکی تھی۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے حکم پر، مجاہدینِ اسلام نے شام کے دیگر شہروں کی فتوحات کے بعد فلسطین کا رخ کیا۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فلسطین کے شہروں کو مسخر کیا اور بیت المقدس (ایلیاء) کی طرف پیش قدمی کی۔ رومیوں کے لیے بیت المقدس محض ایک شہر نہیں بلکہ ان کا مذہبی اور تزویراتی مرکز تھا، جہاں ان کا بڑا مقتدر پادری سوفرونیئس (Sophronius) مقیم تھا اور بازنطینی سلطنت کا نامور جنرل ارطبون وہاں قلعہ بند لشکر کے ساتھ موجود تھا۔ مسلمانوں کے لیے یہ شہر قبلہِ اول اور رسول اللہ ﷺ کے سفرِ معراج کی آماجگاہ ہونے کی وجہ سے حد درجہ مقدس اور اہم تھا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کا محاصرہ شروع کیا، مگر شہر کی مضبوط فصیلوں اور رومیوں کی شدید مدافعت کی وجہ سے محاصرہ طول پکڑ گیا۔ اس نازک صورتحال کو بھانپتے ہوئے سپہ سالارِ اعظم سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ خود ایک بھاری لشکر، جس میں سیدنا خالد بن الولید، سیدنا یزید بن ابی سفیان اور دیگر جلیل القدر صحابہ شامل تھے، لے کر پہنچ گئے۔ اسلامی لشکر نے شہر کو چاروں طرف سے سخت محاصرے میں لے لیا۔ سردی کے شدید موسم کے باوجود مجاہدینِ اسلام کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ جب رومیوں نے دیکھا کہ بیرونی امداد کی تمام راہیں مسدود ہو چکی ہیں اور مسلمانوں کا عزم غیر متزلزل ہے، تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور جنرل ارطبون رات کے اندھیرے میں اپنی فوج کے ہمراہ مصر فرار ہو گیا۔
معرکہ کے تفصیلی احوال اور پرامن فتح
جنرل ارطبون کے فرار کے بعد، بیت المقدس کے مقتدر بشپ سوفرونیئس نے مسلمانوں کو صلح کی پیشکش کی، لیکن ایک تاریخی شرط رکھی۔ اس نے کہا کہ تورات و انجیل کی پیشگوئیوں کے مطابق اس مقدس شہر کی چابیاں صرف اسی شخص کے حوالے کی جا سکتی ہیں جس کے اوصاف امتِ محمدیہ کے خلیفہِ وقت سے ملتے ہوں۔ چنانچہ، سوفرونیئس نے اصرار کیا کہ خود خلیفہِ مسلمین یہاں تشریف لائیں تاکہ شہر کو ان کے سپرد کیا جا سکے۔ سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ خط لکھا اور تشریف آوری کی درخواست کی۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے مشورے پر لبیک کہتے ہوئے مدینہ کا انتظام سیدنا علی کے سپرد کیا اور خود شام روانہ ہوئے۔ سفر کی عاجزی اور سادگی تاریخِ عالم کا ایک سنہرا باب ہے، جہاں خلیفہ اور ان کا غلام باری باری اونٹ پر سوار ہوتے تھے اور جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو باری غلام کی تھی اور خلیفہِ وقت اونٹ کی مہار تھامے ہوئے کیچڑ اور پانی سے گزر رہے تھے۔
تاریخی صلح نامہ (العہدۃ العمریہ) اور عادلانہ نظام
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس پہنچ کر عیسائیوں کو وہ تاریخی امان نامہ تحریر کر کے دیا جسے تاریخ میں "العہدۃ العمریہ” (الصلح العمری) کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت عیسائیوں کی جان، مال، گرجے، صلیبیں اور ان کے تمام مذہبی مقامات کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا۔ کسی گرجا گھر کو نہ تو گرایا جائے گا، نہ اس پر قبضہ کیا جائے گا اور نہ ہی کسی عیسائی کو قبولِ اسلام پر مجبور کیا جائے گا۔ یہ انسانی حقوق اور مذہبی رواداری کی تاریخ کا بے نظیر چارٹر تھا۔ چابیاں وصول کرنے کے بعد امیر المؤمنین نے بیت المقدس کی صفائی خود اپنے ہاتھوں سے شروع کی، خاص طور پر صخرہ (چٹان) کی جگہ کو جو رومیوں نے کوڑے دان بنا دی تھی، صاف کیا اور وہاں مسجدِ اقصیٰ کی بنیاد رکھی جسے اجماعِ صحابہ کی تائید حاصل ہوئی۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
چونکہ بیت المقدس بغیر کسی خون خرابے اور قتل و غارت کے پرامن طور پر فتح ہوا، اس لیے اس میں کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اس سے قبل کے محاصرے اور جھڑپوں میں کچھ سرفروش شہید ہوئے۔ اس فتح کے تزویراتی اثرات انتہائی دور رس ثابت ہوئے:
۱. شام اور فلسطین سے بازنطینی رومی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔
۲. اسلامی خلافت کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک مضبوط ترین روحانی اور سیاسی مرکز حاصل ہو گیا۔
۳. عیسائی دنیا پر مسلمانوں کے عدل و انصاف، ایفائے عہد اور اخلاق کا گہرا اثر پڑا، جس کے نتیجے میں کثیر تعداد میں مقامی آبادی نے اسلام قبول کیا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
بیت المقدس اور مسجدِ اقصیٰ کا ذکر قرآنِ مجید کی متعدد آیات میں اشارتاً اور صراحتاً آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ” (پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے گئی جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں)۔ اس فتح سے مسلمانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی فتوحات محض عسکری طاقت سے نہیں بلکہ تقویٰ، عاجزی، عدل و انصاف اور اسلام کے اعلیٰ اخلاقی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے حاصل ہوتی ہیں۔ خلیفہِ وقت کا سادہ لباس اور عاجزی کفر کے غرور کو خاک میں ملانے کے لیے کافی تھی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن جریر الطبری، تاریخ الرسل والملوک (ذکر فتوحاتِ شام و بیت المقدس 16 ہجری)
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ (جلد ہفتم، فتح ایلیاء علی ید عمر بن الخطاب)
- الواقدی، فتوح الشام (تفصیلِ محاصرہ و صلحِ بیت المقدس)
- ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ (وقائع سنہ ۱۶ ہجری)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورہ الاسراء (آیت: ۱)، سورہ المائدہ (آیت: ۲۱) اور احادیثِ نبویہ میں بیت المقدس کی آزادی کی پیشگوئی
