خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان حیدر علی خان 1721ء میں کولار (موجودہ کرناٹک) کے قصبے بڈیکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نائک فتح محمد سلطنتِ میسور کی فوج میں ایک بااثر اور بہادر فوجی کمانڈر تھے۔ حیدر علی کا نسبی تعلق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ان معزز خاندانوں سے تھا جو بعد میں شیراز (ایران) منتقل ہوئے اور وہاں سے برصغیر ہجرت کر کے آئے۔ بچپن ہی میں والد کی شہادت کے بعد حیدر علی اور ان کے بھائی شہباز کو شدید مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ رسمی تعلیم حاصل نہ کر سکے، لیکن ان کی والدہ نے ان کی غیر معمولی عسکری اور اخلاقی تربیت کی۔
فوجی سفر اور سلطنتِ خداداد میسور کا قیام
حیدر علی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز میسور کی فوج میں ایک عام سپاہی کی حیثیت سے کیا۔ اپنی غیر معمولی ذہانت، بے مثال شجاعت اور جدید جنگی حکمتِ عملی کی بدولت انہوں نے جلد ہی ترقی کے مدارج طے کیے۔ 1755ء میں انہیں ڈنڈیگل کا قلعہ دار بنا دیا گیا، جہاں انہوں نے فرانسیسیوں کی مدد سے ایک جدید ترین اسلحہ خانہ قائم کیا اور اپنی فوج کو یورپی طرز پر منظم کیا۔ جب میسور کی ہندو واڈیار ریاست کمزور ہوئی اور مرہٹوں اور نظام کے حملوں سے مفلوج ہو گئی، تو حیدر علی نے داخلی سازشوں کا خاتمہ کر کے 1761ء میں عملاً اقتدار سنبھال لیا اور سلطنتِ خداداد میسور کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے راجہ کو برقرار رکھتے ہوئے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لیے۔
نمایاں کارنامے، عسکری فتوحات اور راکٹ ٹیکنالوجی
سلطان حیدر علی برصغیر کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے انگریزوں کی استعماری طاقت کو پے در پے عبرت ناک شکستیں دیں۔ انہوں نے پہلی اینگلو میسور جنگ (1767-1769ء) میں انگریزوں کو مدراس کی دیواروں تک پسپا ہونے پر مجبور کیا اور اپنی شرائط پر معاہدہِ مدراس لکھوایا۔ عسکری تاریخ میں حیدر علی اور ان کے بیٹے ٹیپو سلطان کا سب سے بڑا کارنامہ ‘لوہے کے غلاف والے جنگی راکٹوں’ (Mysorean Rockets) کی ایجاد اور ان کا جنگی میدان میں کامیاب استعمال تھا، جس نے برطانوی فوج پر ہیبت طاری کر دی۔ انہوں نے بحری بیڑے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے میسور کی اپنی بحریہ (Navy) بھی تشکیل دی۔
مذہبی رجحان، عدل و انصاف اور کردار
اگرچہ سلطان حیدر علی خود پڑھے لکھے نہیں تھے، لیکن وہ علم، ادب اور دینِ اسلام کے شیدائی تھے۔ انہوں نے سلطنت میں اسلامی قوانین کا نفاذ کیا اور عدل و انصاف کی ایسی مثالیں قائم کیں جہاں امیر و غریب اور مسلم و غیر مسلم کے لیے یکساں قوانین تھے۔ وہ صوفیائے کرام بالخصوص حضرت بندہ نواز گیسو درازؒ اور حضرت ٹیپو مستان شاہؒ کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے تھے، اسی مناسبت سے انہوں نے اپنے بیٹے کا نام ‘فتح علی ٹیپو’ رکھا۔ انہوں نے اپنی سلطنت میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی دی، جس کی وجہ سے ہندو رعایا بھی ان کی بے حد وفادار تھی۔
وصال اور تاریخی میراث
دوسری اینگلو میسور جنگ کے دوران، جب سلطان حیدر علی انگریزوں کے خلاف محاذِ جنگ پر پیش قدمی کر رہے تھے، وہ کینسر (Carbuncle) کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ بالآخر 1 شعبان 1197ھ بمطابق 7 دسمبر 1782ء کو چتور کے قریب ان کا وصال ہوا۔ ان کی وفات کو چند دنوں تک خفیہ رکھا گیا تاکہ فوج میں انتشار نہ پھیلے، یہاں تک کہ ان کے قابلِ فخر فرزند شیرِ میسور ٹیپو سلطان نے سلطنت اور جنگ کی کمان سنبھال لی۔ سلطان حیدر علی کو سری رنگا پٹم کے لال باغ میں ان کے بنائے ہوئے شاندار مقبرے (گنبذِ سلطانی) میں دفن کیا گیا، جہاں بعد میں ٹیپو سلطان کو بھی ابدی نیند سلایا گیا۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- میر حسین علی خان کرمانی (نشانِ حیدری – فارسی تاریخِ میسور)
- محمود خان محمود بنگلوری (تاریخ سلطنتِ خداداد میسور)
- کرنل مارک ولکس (Historical Sketches of the South of India / تاریخِ میسور)
- شیخ علی (سلطان حیدر علی: ایک عہد ساز حکمران)
- ڈاکٹر مہر الٰہی (برصغیر کی اسلامی تحریکیں اور مسلم حکمران)
مبارک اقوال و ارشادات
1. دشمن کے ارادوں کو اس کے حملے سے پہلے بھانپ لینا ہی حقیقی عسکری فراست ہے۔
2. میں انگریزوں کی زمینی افواج کو تو شکست دے سکتا ہوں، لیکن سمندر کو خشک کرنا میرے بس میں نہیں (برطانوی بحری طاقت کی اہمیت کی طرف اشارہ)۔
3. حکومت صرف طاقت سے نہیں، بلکہ رعایا کے ساتھ عدل و انصاف قائم کرنے سے دیرپا ہوتی ہے۔
