خلفاء، سلاطین و فاتحین اسلام

سلطان قطب الدین ایبک

« السلطان قطب الدين أيبك التركي الغوري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

سلطان قطب الدین ایبک وسطی ایشیا (ترکستان) کے ایک معزز ترک خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں وہ ایک حادثاتی صورتحال میں اپنے خاندان سے بچھڑ گئے اور انہیں غلام بنا کر نیشاپور لایا گیا۔ وہاں نیشاپور کے مشہور قاضی فخر الدین ابو حنیفہ (جو امام ابو حنیفہؒ کی اولاد میں سے تھے) نے انہیں خرید لیا۔ قاضی صاحب نے قطب الدین کی پرورش اپنے بیٹوں کی طرح کی اور انہیں قرآن مجید کی تعلیم، فقہ، شہسواری، تیر اندازی اور شمشیر زنی کے علوم میں کامل مہارت دلائی۔ چونکہ وہ بہت خوبصورت آواز میں قرآن کی تلاوت کرتے تھے، اس لیے بچپن میں انہیں ‘قرآن خوان’ بھی کہا جاتا تھا۔ قاضی صاحب کے انتقال کے بعد، ان کے بیٹوں نے قطب الدین کو دوبارہ ایک تاجر کے ہاتھ فروخت کر دیا، جس نے انہیں غزنی لے جا کر سلطان شہاب الدین محمد غوری کی خدمت میں پیش کیا۔

سلطنت غوریہ سے وابستگی اور فتوحات

سلطان شہاب الدین غوری نے قطب الدین ایبک کی ذہانت، وفاداری اور عسکری صلاحیتوں کو بھانپ کر جلد ہی انہیں اپنے خاص معتمدین اور امراء میں شامل کر لیا۔ وہ ترقی کرتے کرتے ‘امیرِ آخور’ (اصطبل کے نگرانِ اعلیٰ) کے معزز عہدے پر فائز ہوئے۔ 1192ء میں معرکہ ترائنِ دوم میں پرتھوی راج چوہان کے خلاف تاریخی فتح کے بعد، سلطان غوری نے قطب الدین ایبک کو ہند کے مقبوضہ علاقوں کا سپہ سالار اور اپنا نائب مقرر کیا۔ قطب الدین نے اپنی غیر معمولی عسکری قیادت کا لوہا منواتے ہوئے میرٹھ، دہلی، علی گڑھ، قنوج اور گجرات کے علاقوں کو فتح کر کے سلطنتِ غوریہ کا دائرہ کار پورے شمالی ہند تک پھیلا دیا۔ انہوں نے دہلی کو اسلامی سلطنت کا دارالخلافہ بنایا۔

نمایاں کارنامے، عدل و انصاف اور فیاضی

قطب الدین ایبک کی شہرت صرف ایک فاتح کی حیثیت سے نہیں بلکہ ان کی بے مثال سخاوت اور عدل و انصاف کی وجہ سے بھی تھی۔ تاریخ دانوں نے انہیں ‘لک بخش’ (لاکھوں کا عطیہ دینے والا) کے لقب سے یاد کیا ہے کیونکہ وہ محتاجوں اور علماء میں بے دریغ مال تقسیم کرتے تھے۔ انہوں نے ہند میں پہلی مستقل مسلم حکومت ‘سلطنتِ دہلی’ (خاندانِ غلاماں) کی بنیاد رکھی۔ تعمیرات کے شعبے میں ان کے تاریخی کارنامے آج بھی زندہ ہیں، جن میں دہلی کی مشہور ‘مسجد قوت الاسلام’، ‘قطب مینار’ کی تعمیر کا آغاز، اور اجمیر میں ‘اڑھائی دن کا جھونپڑا’ نامی مسجد شامل ہیں۔ ان کے دور میں چوری چکاری کا خاتمہ ہوا اور ہندو مسلم دونوں رعایا کو مذہبی و سماجی تحفظ حاصل ہوا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

سلطان شہاب الدین غوری کی شہادت (1206ء) کے بعد قطب الدین ایبک نے خود مختار مسلم سلطان کی حیثیت سے باقاعدہ تاج پوشی کی اور لاہور کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ ان کی آزادانہ حکومت صرف چار سال تک قائم رہ سکی۔ 607ھ (نومبر 1210ء) میں لاہور میں چوگان (پولو) کھیلتے ہوئے وہ گھوڑے سے گر گئے، اور زین کا اگلا حصہ (قاش) ان کے سینے میں گہرائی تک پیوست ہو گیا، جو ان کی وفات کا سبب بنا۔ انہیں لاہور کے مشہور تاریخی علاقے انارکلی (موجودہ ایبک روڈ) میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کا مزار آج بھی لاہور میں مرجعِ خلائق ہے۔ انہوں نے برصغیر پاک و ہند میں جس مسلم تہذیب و تمدن کی بنیاد رکھی، اس نے آگے چل کر مغلوں کے زوال تک تقریباً سات سو سال تک اس خطے پر راج کیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • منہاج سراج جزجانی، طبقاتِ ناصری (برصغیر کی اسلامی تاریخ کا سب سے مستند اور اولین ماخذ)
  • حسن نظامی، تاج المآثر (سلطان قطب الدین ایبک کے عہد کے معاصر حالات)
  • ابن الاثیر الجزری، الکامل فی التاریخ (خلافتِ عباسیہ اور سلاطینِ غوریہ کے احوال)
  • ابو القاسم فرشتہ، تاریخِ فرشتہ (برصغیر کے سلاطین اور فتوحات کا مفصل تذکرہ)
  • ضیاء الدین برنی، تاریخِ فیروز شاہی (دہلی سلطنت کے قوانین اور ملوکیت کا پس منظر)

مبارک اقوال و ارشادات

عدل و انصاف کے بغیر کوئی سلطنت پائیدار نہیں رہ سکتی، چاہے اس کے پاس کتنی ہی بڑی فوج کیوں نہ ہو۔

میری تلوار مظلوموں کے دفاع اور ظالموں کی سرکوبی کے لیے اٹھتی ہے، مال و دولت جمع کرنے کے لیے نہیں

سخاوت اور فیاضی حکمران کا سب سے بڑا زیور ہے، کیونکہ رعایا کی خوشحالی ہی سلطنت کی بقا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

سلطان قطب الدین ایبک

لقب و کنیت: ابو المظفر، قطب الدین (دین کا ستون)، لک بخش (لاکھوں کا داتا)، پیل بخش (ہاتھی عطاء کرنے والا)، اول سلطانِ ہند
قبیلہ: ترک (آبائی تعلق ترکستان کے قبیلہ 'ایبک' سے تھا، جو بعد میں غوری خاندان کے مملوک بنے)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 545ھ تا 607ھ / 1150ء تا 1210ء
مقام تدفین: انارکلی بازار، لاہور، پنجاب، پاکستان
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com